Janabe Khadija 605

اسلام کا افسوس ناک لاک ڈاون: شعب ابی طالب

Print Friendly, PDF & Email

آغازِ اسلام سرزمینِ مکہ سے ہوا۔ مکہ، خدا کے نزدیک ایک بہت ہی محترم اور مبارک سرزمین ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں ‘اوّلِ بیت’ خانہ کعبہ ہے، ‘مقام ابراہیم’ اور دیگر ‘شعائر اللہ’ موجود ہیں۔ اس شہر کی عظمت کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے “لا اقسم بھٰذا البلد…”. ‘قسم ہے اس شہر کی…’ (سورہ بلد:١)

ان تمام عظمتوں کا حامل یہ شہر ایک زمانے میں پوری طرح سے جہالت اور کفر میں ڈوبا ہوا تھا۔ جس شہر کو خلیلِ خدا حضرت ابراہیمؑ جیسے موحّد نے بسایا وہ ایک کفرستان بنا ہوا تھا۔ جب سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شہر کے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو یہ لوگ ان کے سخت مخالف ہوگئے۔ کفّار مکہ کی اس شدید مخالفت کے باوجود، سرورِؐ عالم نے تبلیغ دین کے کام کو جاری و ساری رکھا اور اہل مکہ کو مسلسل دعوتِ اسلام دیتے رہے۔ ابتداء میں آپؐ کا ساتھ دینے والوں میں زیادہ تر افراد وہ تھے جو غریب تھے اور سماج کے پچھڑے طبقے کے لوگ تھے مثلاً جناب یاسر اور ان کی اہلیہ جناب سمیّہ (یہ دونوں آگے چل کر اسلام کی راہ میں شہید ہوگئے) جو آزاد کردہ غلام تھے۔ پھر کچھ اور با رسوخ لوگ جڑے جن میں زیادہ تر افراد خود رسولؐ اللہ کے خاندان سے تھے مثلًا جناب جعفر طیّار اور حضورؐ کے چچا جناب حمزہ۔ (طبقات الکبری، ج1،ص163)

اعلانِ رسالت کے سات سال بعد جب اسلام مکہ کی سرحدوں سے بڑھ کر دوسرے علاقوں میں پہنچنے لگا اور مکہ کے بہت سے لوگ اسلام قبول کرنے لگے تو مشرکین مکہ نے رسول اللہؐ کے مکمل طور پر سوشل بائیکاٹ کا ارادہ کرلیا۔ نتیجتًا ان کے خاندان بنی ہاشم اور اولاد عبدالمطلب کو تین سال تک شعب ابو طالب میں محصور کر دیا گیا۔ ان تمام افراد کا اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کیا گیا تاکہ ان کی ہمت ٹوٹ جائے اور اسلام کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے۔(طبقات الکبری، ج1، ص163)
یہ مقام شِعبِ ابی طالب مکہ کے کوہ ابو قبیس اور کوہ خندمہ کے درمیان واقع ایک درہ ہے۔

مشرکینِ مکہ ‘دارالندوہ’ میں جمع ہوئے اور قریش کی اعلی مجلس کے اراکین نے ایک عہدنامہ تیار کیا۔ یہ عہدنامہ کعبہ کے اندر دیوار پر آویزاں کیا گیا اور یہ قسم اٹھائی گئ کہ ملت قریش زندگی کے آخری لمحوں تک درج ذیل نکات پر عمل کرے گی:
• محمدؐ کے حامیوں کے ساتھ ہر قسم کے لین دین پر پابندی ہوگی۔
• ان کے ساتھ تعلق اور معاشرت سختی کے ساتھ ممنوع ہوگی۔
• ہرقسم کا ازدواجی رشتہ اور ہر قسم کا تعلق ممنوع ہو گا۔
• تمام تر واقعات میں محمدؐ کے مخالفین کی ہی حمایت کی جائے گی۔

تاریخ ابن کثیر میں مرقوم ہے کہ مذکورہ عہدنامے کے متن اور تمام تر نکات پر قریش کے تمام با اثر افراد نے دستخط کئے اور اس کو پوری شدت سے نافذ کر دیا گیا۔
اس طرف حضرت ابو طالبؑ کو جب اس بات کی خبر ہوئ تو انھوں نے اپنے خانوادے کی حفاظت کے لیے ان سب کو تین پہاڑیوں کے بیچ جمع کیا جو بعد میں ‘شعبِ ابی طالبؑ’ کے عنوان سے مشہور ہوا۔ انھوں نے اس کے اطراف خاندان بنو ہاشم کے جوانوں کو تعینات کیا جو اس شعب کی پہرے داری اور حفاظت کرتے تھے۔
اس طرح شعبِ ابی طالب کی ناکہ بندی اور لاکڈاون تین سال تک جاری رہا۔ دن گزرتے گزرتے قریش کا رویہ اور شدت اختیار کرتا رہا اور سختیاں یہاں تک بڑھتی گئیں کہ فرزندانِ بنی ہاشم کی آہ و زاری کی صدائیں مکہ کے سنگدلوں کے کانوں تک پہنچنے لگیں لیکن ان کے دلوں پر اس کا کوئ اثر نہیں ہوا۔

قریش کے جاسوس تمام راستوں کی نگرانی کرتے تھے کہ کہیں اشیائے خورد و نوش شعبِ ابی طالب تک نہ پہنچنے پائیں۔ لیکن شدید نگرانی کے باوجود کبھی کبھی جناب خدیجۃؑ الکبری کا بھتیجہ حکیم بن حزام اور اس کے ساتھی ابو العاص بن ربیع اور ہشام بن عمر آدھی رات کو گندم اور کھجور اونٹ پر لاد کر شعب کے قریب پہنچا دیتے اور پھر اونٹ کی زمام اس کی گردن پر ڈال کر چھوڑ دیتے۔ بعض اوقات یہی خفیہ تعاون ان کے لئے مسائل کا سبب بھی بنتا تھا۔
(سیرة النبویۃ، ابن ہشام ج1، ص354 )

ان ایام میں پیغمبرؐ اکرم اور ان کے چچا ابو طالبؑ اور ام المومنین جناب خدیجہ(سلام اللہ علیہا) کو دیگر افراد کے بنسبت زیادہ مشکل ترین صورت حال سے گذرنا پڑا۔ بعض اوقات یہ حضرات خود بھوکے رہتے اور اپنے حصّے کا کھانا دوسروں کو دے دیا کرتے تھے۔ یہ مدت انھوں نے ام المومنین خدیجہ (سلام اللہ علیہا) کے سرمائے سے گذر بسر کی۔ کبھی کبھی ان کے اعزاء و اقارب ـ عہدنامے کے برعکس اور خونی اور خاندانی رشتوں کی بنیاد پر خفیہ طور پر انھیں کھانے پینے کی اشیاء پہنچا دیتے تھے۔ قریش میں بہت سے ایسے افراد بھی تھے جن کے بیٹے، بیٹیاں یا پوتے پوتیاں یا نواسے نواسیاں یا اور کوئ قریبی رشتہ دار شعب ابی طالب میں تھے اور وہ مسلسل اس کوشش میں رہتے تھے کہ اپنوں کو شعب سے نکال لیں۔

بالآخر ایک رات جبکہ بعثت کا دسواں سال تھا ابو جہل، حکیم بن حزام کے راستے میں رکاوٹ بنا۔ جبکہ حکیم بن حزام اپنی پھوپھی جناب خدیجہ (سلام اللہ علیہا) کے لئے گندم لے کر جارہا تھا۔ اس پر دوسرے افراد نے مداخلت کی اور ابو جہل پر لعنت ملامت کی۔ رفتہ رفتہ قریش کے کئی افراد اپنے کیے پر نادم ہوئے اور بنو ہاشم کی حمایت کرنے لگے۔ وہ کہا کرتے تھے: “ایسا کیوں ہے کہ بنو مخزوم نعمتوں میں کھیلیں اور ہاشم اور عبدالمطلب کے بیٹے مشقتیں جھیلتے رہیں؟!”۔ آخر کار سب نے مطالبہ کیا کہ یہ عہدنامہ منسوخ ہونا چاہیے۔ عہدنامے میں شریک بعض افراد نے اس عہد نامہ کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابن ہشام نے ابن اسحق کے حوالے سے لکھا ہے کہ “قریش عہدنامہ دیکھنے گئے تو دیکھا کہ دیمک پورا عہدنامہ کھا گیا ہے اور صرف جملہ ‘باسمک اللہم’ باقی ہے۔”

اس سلسلے میں ابن ہشام بعض اہل علم سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ابو طالبؑ نے قریش کی انجمن میں جاکر کہا: “میرے بھتیجے کا کہنا ہے کہ دیمک نے اس عہدنامے کو چاٹ کھایا ہے جو تم نے تحریر کیا تھا اور صرف اللہ کے نام کو باقی چھوڑا ہے؛ جاؤ دیکھو اگر ان کی بات سچّی ہے تو ہمارا محاصرہ اٹھاؤ اور اگر جھوٹی ہے تو میں اپنے بھتیجے کو تمہارے سپرد کر دوں گا”۔ قریش عہدنامہ دیکھنے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ واقعًا دیمک نے اللہ کے نام کے سوا پورے عہدنامے کو کھا لیا ہے۔ یوں بنو ہاشم کا محاصرہ ختم ہوا اور وہ شعب ابی طالب سے باہر آئے۔ (اعلام الوری،طبرسی ص73-74)

اہل تسنن اس بات کا بہت ڈنکا پیٹتے ہیں کہ جب خلیفہ دوم عمر نے اسلام قبول کر لیا تو مشرکین مکہ خوف زدہ ہوگئے۔ عمر کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کی ہمت بڑھ گئ اور مشرکین مکہ ان کے خوف سے لزرنے لگے۔ مختصر یہ کہ ان کا کہنا ہے کہ عمر کے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کو بہت قوت اور طاقت ملی۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو جب پیغمبرؐ اسلام اور بنی ہاشم شعب ابو طالب میں تین سال مقید رہے اور سرورِ عالم کو اور ان کے گھر والوں کو شدید تکالیف کاسامنا کرنا پڑا تو اس وقت عمر نے نبی کریم ؐ کی مدد کیوں نہیں کی؟ جب دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ عمر بہت بہادر اور دلیر تھے تو وہ اس بہادری اور دلیری کو اس وقت بروئے کار کیوں نہیں لائے؟ اگر مشرکین کے درمیان عمر کا بڑا دبدبہ اور خوف تھا تو کیوں انھوں نے تین سال میں ایک بار بھی رسولؐ اللہ اور ان کے خانوادے کی قریش کے سامنے وکالت کرتے ہوئے اس لاک ڈاون کو ختم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟؟

سوال یہ بھی ہے کہ تاریخ اور سیرت نگار اس بات کا ذکر کیوں نہیں کرتے کہ حضورؐ کی محبت کا دم بھرنے والے بہت سے ‘سابقین’ افراد صرف زبانی عاشقِ رسولؐ تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کو اگر بچایا ہے تو جناب خدیجةؑ الکبریٰ کے مال اور قربانی نے اور ناصر و محسن اسلام حضرت ابو طالبؑ کی جاں نثاری اور خون نے۔ ابتدائے اسلام میں بھی اور جب کبھی خون کی ضرورت ہوئ تب تب نسل ابوطالب ہی دین کے کام آئ ہے۔

ہمارا کروڑوں سلام ہو حضرت ابوطالب علیہ السلام اور ان کی ذریت پاک پر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.