743

رسولؐ الله پر اُمّت کا ستم

سن دس ہجری کے اختتام سے ہی سرورؐکائنات حضرت محمّد مصطفیٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم اپنی امّت کو یہ بتاتے رہے کہ عنقریب میں تمہارے درمیان سے چلا جانے والا ہوں. میں اپنے رب کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے اپنی جان کو اُس کے سپرد کر دوں گا۔ آپؐ اپنی امت کو مسلسل واعظ و نصیحت کرتے رہے۔ اُن کو اپنے بعد آنے والی گمراہی سے ہوشیار رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ اہل تسنّن کی معتبر ترین کتب -صحاح ستّہ میں اس بات ذکر ہے کہ آنحضرتؐ نے متعدّد مواقع پر ‘حدیث ثقلین’ کی تکرار کی۔ آپؐ نے کئ مرتبہ امت سے خطاب کرتے ہوے فرمایا کہ امّت کی رہنمائ اور نجات کے لییے میں دو گراں قدرچیزیں چھوڑے جا رہا ہوں- قرآن (کتاب خدا) اور میرے اہلبیتؑ اگر تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ یہاں تک کہ آپؐ کا وقتِ آخر قریب آگیا۔ آپؐ کا جسم مبارک دن بہ دن بیماری کی وجہ سے لاغر ہونے لگا۔ لوگوں پر یہ ظاہر ہوگیا کہ اب حضورؐ کی رخصت کا وقت قریب آرہا ہے۔

اپنی زندگی کے آخری ایّام میں آنحضرتؐ کو وہ دن دیکھنے پڑے جو آپؐ نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ان دنوں میں آپؐ کے قریبی ساتھی- جو رسولؐ کی صحابیت اور رفاقت کا دم بھرتے تھے۔ آپؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے لگے۔ آپؐ کے لییے یہ ایّام اُن دنوں سے بھی زیادہ مصیبت آمیز تھے جو آپؐ نے کفّارِ مکّہ کے تشدّد میں گزارے تھے۔ انہیں دنوں کو یاد کرکے صحابیءِ رسولؐ، حبرِ امّت اور مفسّر قرآن عبد الله ابن عبّاس اکثر رویا کرتے تھے۔ کتب سنن ، سیرت کی کتابیں اور تاریخی حوالے- یہ سب اس کی گواہی دیتے ہیں کہ آنحضرتؐ کی زندگی کے آخری ایّام میں اکثر اصحاب اُن کے حکم کے مخالف ہو گئے تھے۔ ان واقعات میں ایک اہم واقعہ ‘رضیت یوم خمیس- واقعہ قلم و کاغذ’ کے نام سے مشہور ہے۔

صحیح بخاری میں یہ واقعہ دو سے زیادہ جگہوں پر نقل ہوا ہے۔ (یہ تکرار اس واقعہ کی اہمیت کے لییے کافی ہے) ایک مقام پر یہ واقعہ اس طرح نقل ہوا ہے کہ: جب رسولؐ الله کی بیماری نے شدّت اختیار کرلی تو آپؐ نے اپنے قریب جمع اصحاب سے کہا کہ”میرے لییے قلم و کاغذ لے آئو تاکہ میں تمھارے لیے ایک ایسا نوشتہ لکھ دوں جس سے تم میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو۔” اس پر عمر ابن خطّاب نے کہا “نہیں۔ یہ شخص(رسول اللهؐ) بےجا بات کر رہا ہے- ہمارے لییے کتاب خدا کافی ہے” وہاں موجود ایک دوسرے شخص نے کہا “آنحضرتؐ کو قلم و کاغذ دے دینا چاهیے۔” اس پر یہ دونوں گروہ آنحضرتؐ کی موجودگی میں شوروغل کرنے لگے اور ایک دورسرے سے بحث کرنے لگے۔ آپؐ نے ان سب کو اپنے پاس سے چلے جانے کو کہا۔

اس واقعہ میں تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جو افراد قلم وکاغذ دینے کے مخالف تھے وہ صرف رسولؐ کی مخالفت نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ امت کی گمرہی کا سامان بھی کر رہے تھے. بہت ممکن تھا کہ رسولؐ الله کے اس نوشتہ لکھنے کے بعدامت میں اس طرح اختلاف نہ ہوتا جیسا آج ہے. خود رسولؐ کا یہ جملہ, بلکہ یہ ضمانت دینا کہ “..تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاو” اس نوشتہ کی اہمیّت کو واضح کرتا ہے. اس طرح جن لوگوں نے آنحضرتؐ کو اس اہم فعل کو انجام دینے سے روکا وہ امت کی گمرہی کے ذمہ دار ہیں. ان کا جرم اس بات سے اور سنگین ہوجاتا ہے کہ وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر عمر کی تائید کررہے تھے جن کا ماننا یہ تھا کہ رسولؐ الله بےتکی بات کر رہے ہیں(معاذ الله).

مسلمانوں کی تاریخ کا ایک اور شرمناک واقعہ بھی انہیں دنوں کا ہے۔ اٹھارہ18 صفر سن11ہجری کو رسولؐ الله نے اسلام کا پرچم اسامہ بن زید کے ہاتھوں میں دیا اور ان کو شام کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔ آنحضرتؐ نے اپنےتمام اصحاب کو حکم دیا کی اسامہ کے اس لشکر میں شامل ہو جائیں۔ آپؐ نے اس لشکر کو فورًا مدینہ سے روانہ ہونے کا حکم دیا۔ بنی ہاشم کے افراد کے علاوہ تمام مہاجر ین اور انصار کے لییے یہ حکم تھا کی لشکر کے ساتھ شام کی طرف کوچ کرِیں۔ آپؐ نے باربار اپنےاس حکم کو دہرایا مگر آپؐ کے اصحاب نے آپؐ کے اس حکم کو نہ مانا. ان لوگوں کی اس مخالفت نے آپؐ کو سخت رنجیدہ کیا. ادھر آپؐ کی صحت دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی تھی. پھر بھی آپؐ کو جب بھی غش سے افاقہ ہوتا آپؐ اسامہ کے لشکر کی روانگی کے بارے میں سوال کرتے. یہاں تک کہ اپنے جسم کی کمزوری کے باوجود آپؐ دوسروں کا صحارا لے کر مسجد تشریف لے گئے اور سب کے لییے اسامہ کے لشکر میں شامل ہونےکے اپنے حکم کو دہرایا. اس کے بعد بھی تاریخ بتاتی ہے کہ مہاجرین کے اکابر- ابو بکر, عمر, سعد بن ابی وقاص وغیرہ اس حکم کو فراموش کرتے رہے. اس طرح رسولؐ الله کی زندگی میں ہی بڑے پیمانہ پر آپؐ کی محبّت کا دم بھرنےوالے ‘اصحاب’ نے آپؐ کی کھلے عام مخالفت کی. آخرکار رحمة للعامین نبیؐ کو اِن افراد پر لعنت کرناپڑا. اس طرح اپنے آخری وقت میں آنحضرتؐ کو اپنے چند اصحاب کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی تکلیف برداشت کرنا پڑی.

ان دونوں واقعات کا انکار نہیں کیا جاسکتا. تمام اہم سیرت کی کتابوں میں یہ واقعات درج ہیں. المیہ یہ ہے کہ یہ واقعات اس دور کے ہیں جنہیں مسلمان فخر سے ‘دور سلف’ کہتے ہیں اور یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ اسلام میں سب سے افضل دور اور سب سے بہتر لوگ اسی دور میں تھے. اہل تسنّن کے علماء نے ان دونوں واقعات میں ‘اصحاب’ کی دفاع میں مختلف توجیہات پیش کی ہیں اور ان کے دامن پر لگے ان دھبّوں کو مٹانے کے لییے منگھڑت باتیں بنائ ہیں. مگر جو کچھ بھی ہو ان کا یہ عمل ‘مخالفتِ رسولؐ ‘ کہلائےگا. ان واقعات میں یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ آنحضرتؐ اپنے ان بزرگ اصحاب کی مخالفت سے بہت اذیّت پہنچی اور آپؐ اس سے شدید رنجیدہ تھے. قرآن کا یہ فیصلہ ہے کہ جو بھی رسولؐ الله کو اذیّت دیتا ہے اس پر دنیا اور آخرت- دونوں میں لعنت ہے اور آخرت میں اس کے لییے دردناک عذاب ہے.

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا.

رسولؐ الله پر اُمّت کا ستم” ایک تبصرہ

  1. سلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    ———————————————–
    جناب عابدوزینب کی قوت ھےعزاداری
    یزیدوقت کی خاطرقیامت ھےعزاداری
    ———————————————–
    ھیں جتنےانبیاء وہ واقعےسےقبل روئےھیں
    توپھرکہئےکہ منشائےمشیت ھےعزاداری
    ———————————————–
    اےمفتی زندہ بیٹےپراگریعقوب روئےھیں
    بتاکیوں کہہ رھاھےتوکہ بدعت ھےعزاداری
    ———————————————–
    ائمہ نےبپاکی ھےعزااپنےزمانےمیں
    یہ جملہ اھل عصمت کی وراثت ھےعزاداری
    ———————————————–
    زمانےلاکھ گذرےکم نھیں ھوگاغم شبیر
    امام عصرکےزیرحفاظت ھےعزاداری
    ———————————————–
    کیاقاتل کےگھرمیں آپ نےمقتول کاماتم
    جناب زینب کبریٰ کی جرأت ھےعزاداری
    ———————————————–
    حدیث من بکیٰ اھل عزا کےحق میں شاھد ھے
    عزاداروں کوجنت کی ضمانت ھےعزاداری
    ———————————————–
    سوائےایک فرقےکےبجالاتےھیں سب جسکو
    وہ معبودحقیقی کی عبادت ھےعزاداری
    ———————————————–
    ھےجوبھی اسکامنکرآدمی وہ ھونھیں سکتا
    جناب آدم و حوا کی سنّت ھے عزاداری
    ———————————————–
    دعاںٔے فاطمہ کے ھیں طفیل ھم نے شرف پایا
    خدا نے ہمکو بخشی ایسی نعمت ہے عزاداری
    ———————————————–

    ✍محمد طفیل معروفی

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.