1,386

روزِ اربعین:-امام حسینؑ کا چہلم

Print Friendly, PDF & Email

ماہِ صفر کے آغاز سے ہی بہت سے عزادارِ سیّدؑ الشہداء روزِ اربعین کی تیّاری میں لگ جاتے ہیں,خصوصاً وہ جو کربلا کے صفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ویسے تو سرکارِ سیّد الشہداء کی زیارت کے لییے سال کے ہر موسم اور ہر ماہ میں محبّانِ آلِؑ محمّدؐ کربلاوعراق کا صفر کرتے رہتے ہیں مگر جو اجتماع اربعین کے دن کربلا میں ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں ہوتا. یہ روزِ اربعین کیا ہے اور اِس دن کی زیارت کی کیا فضیلت ہے اس کا ایک مختصر جائزہ پیشِ خمدت ہے. روز اربعین کو حضرت سید الشہداء (ع) کی شہادت کا چہلم ہے یعنی آپؑ کی شہادت کے بعد چالیسوں دن ہے جوماہ صفر کی 20 تاریخ کو ہوتا ہے۔ اِس دن کی زیارت کی فضیلت اور ضرورت کے لییے یہ روایت کافی ہے کہ امام حسن عسکری(ع) نے ایک حدیث میں “مومن” کی پانچ علامات کا ذکر کیا ہے :
علامات المومن خمس : صلاۃ احدی و خمسین ، و زیارۃ الاربعین ۔۔۔۔۔۔۔۔
روز 51 رکعت نماز ادا کرنا ، زیارت اربعین پڑھنا ، انگوٹھی کو دائیں ہاتھ میں پہننا ، نماز میں پیشانی کو خاک پر رکھنا ، اور نماز میں “بسم اللہ” کو  بلند آواز میں پڑھنا۔

بحار الانوار ، ج 98 ، ص 329

اس دن کی تاریخی اہمیّت یہ ہے کہ مورخین نے لکھا ہے کہ اس دن صحابی رسولؐ خدا جناب جابر ابن عبد اللہ انصاری شہدتِ امام حسینؑ کے دن -عاشورا کے بعد امام حسین علیہ السلام کے پہلے اربعین پر امام کی زیارت کیلئے  کربلا آئے تھے-
طبری ، محمد بن علی، بشارۃ المصطفی، ص 126
اس زیارت میں جناب جابر کے ہمراہ عطیّہ عوفی جو کہ اسلام کی بڑی شخصیتوں اور مفسر قرآن کے عنوان  سےپہچانے جاتے ہیں, بھی تھے۔ جابر اور عطیّہ نے فرات کے پانی میں غسل کیا اور جس طرح حاجی خدا کے گھر کیلئے احرام باندھتے ہیں، اپنے آپ کو تیار کر کے ننگے پاوں اور چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ شہداء کے مزار کی طر ف روانہ ہوئے. سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر پر تشریف لے گئے اور “حبیبی ،حبیبی” کی آواز کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کو مخاطب کر کے گریا کرنے لگے. اسی حال میں امام حسین علیہ السلام سے پوچھا: کیا یہ ہو سکتا ہے کہ دوست ،دوست کے سلام کا جواب نہ دے؟ اور پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں: کیسے ہو سکتا کہ تم ہماراجواب دو جبکہ تمہارا سر تن سے جدا ہے …..

یہ بھی معتبر حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہلِ حرم شام کے زندان سے آزاد ہو کر اسی دِن کربلا پہنچے تھے. سیّد ابن طاووس رح نقل کرتے ہیں کہ: جب امام حسین (ع )کے اہل بیت (ع) قید سے رہائی کے بعد شام سے واپس لوٹےاور عراق پہنچے توانہوں نے اپنے قافلے کے رہنما سے کہا : ہمیں کربلا کے راستے سے لے چلو، جب وہ امام حسین (ع) اور ان کے اصحاب  کے مقتل میں پہنچے ، تو جابر ابن عبد اللہ انصاری کو بنی ہاشم کے بعض لوگوں کے ساتھ ، اور آل رسول اللہ (ص) کے ایک مرد کو دیکھا جو امام حسین (ع) کی زیارت کے لئے آئے تھے۔  وہ سب ایک ہی وقت میں مقتل پر پہنچے اور سب نے ایک دوسرے کو دیکھ کر گریہ اور اظہار حزن کیا اور سروں اور چہروں کو پیٹنا شروع کیا اور ایک ایسی مجلس عزا برپا کی جو دلخراش اور جگرسوز تھی۔ اس علاقے کی عورتیں بھی ان سے ملحق ہوئیں، اور کئی دنوں تک انہوں نے عزاداری کی۔ (اس طرح عزاداری اور مجلسِ شہداء کربلا کی ابتداء ہوئ.)
بحار الانوار ج 45 ص 146

ضرور پڑھیئے۔ معصومین علیہم السلام کی نزر میں زیارت امام حسین علیہ السلام میں سب سے بہتر عمل کیا ہے۔  <

زیارتِ اربعین
شیخ طوسی نے بیان کیا ہے کہ زیارت اربعین سے مراد 20 صفر کو امام حسین (ع) کی زیارت ہے کہ جو عاشورا کے بعد چالیسواں دن ہے، اس لئے اُن بزرگوار نے اس روایت کو اپنی کتاب  تہذیب الاحکام کے زیارت کے باب میں اور اربعین کے اعمال میں ذکر کیا ہے اور اس دن کی مخصوص زیارت بھی نقل ہوئی ہے کہ مرحوم محدث بزرگ شیخ عبّاس قمی نے کتاب مفاتیح الجنان میں ذکر کیا ہے. وہ اس طرح ہے:
امام صادقؑ نے روز اربعین کی زیارت تعلیم فرمائ ہے جس کی ابتداء یہ ہے- اَلسَّلاَمُ عَلَىٰ وَلِيِّ ٱللَّهِ وَحَبِيبِهِ…..

اربعین کی زیارت کا پیدل صفر

مقدّس مقامات کا صفر کرنا ایک عظیم ثواب کا حامل ہے اور اِس صفر کو پیادہ طے کرنا بھی اپنے آپ میں بڑا اجر رکھتا ہے. کُتُبِ تواریخ بتاتیں ہیں کہ حسنینؑ کریمین یعنی امام حسن اور امام حسین علیہما السّلام نے بارہا پیادہ مدینہ سے مکّہ کو حج کے لیے صفر اختیار کیاہے.یہ اِس کے باوجود کے اُن کے پاس سواری ہوتی تھی بلکہ اُن کے ہم صفر سواری کا استعمال کرتے تھے مگر آپؑ حضرات پیادہ ہی صفر کرتے تھے. اِس بات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پیدل چلنا زیادہ ثواب کا حامل ہے.
حال فی الحال میں سیّدالشّہداء کی زیارت کے لییے پیدل چلنے کا رواج محدّثِ نوری- مرزا حسین نوری رح نے شروع کیا ہے. آپ عید الاضحیٰ میں یہ نجف سے کربلا کا صفر پیادہ کیاکرتے تھے. دیگر مراجعہ کرام اور علماء نے اِس صفر کو اربعین میں پیدل ادا کرنا شروع کردیا. آج اِس صفرِ زیارت کو کثیر تعداد میں عراقی اور غیر عراقی بھی پیدل ادا کرتے ہیں. اِس صفر میں یعنی نجف سے کربلا کے راستے میں زائرین کی خدمت کرنے کا جزبہ جو عراقی عوام دکھاتی ہے اُس کی مثال شائد ہی کسی اور مقام یا موقع پر دیکھنےکو ملے. یہ صفر جو پیدل عموماً تین دن میں طے ہوتا ہے اِس میں صرف عراقی ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک کے زائرین بھی شامل ہوتے ہیں. ہر عمر کے, مختلف رنگ کے, مختلف مُلک کے , مختلف زبان بولنے والے افراد گروہ در گروہ ‘لبیک یا حسین’ؑ کی صدا بلند کرتے ہوے کربلا کی طرف بڑھتے رہتے ہیں. اُن کی پزیرائ کے لییے مقامی افراد اپنے گھر سے نکل کر اُن کی خدمت کرتے ہیں- کوئ غزا فراہم کرتا ہے تو کوئ مشروبات کی سبیل کرتا ہے تو کوئ زائرین کے آرام کے لییے مکان کا انتظام کرتا ہے. کچھ تو تھکے ہوءے پیروں کی مالش کرکے ثواب کما لیتے ہیں.

خدا ہم سب کو زیارت سیّد الشّہداء خصوصاً روزِ اربعین کی زیارت کی توفیق عنایت فرماے.

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.