1,559

زیارتِ امام حسینؑ- کربلا میں بہترین عمل کیا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

زیارتِ سیّدؑ الشہداء کی توفیق پالینا ایک عظیم سعادت ہے۔ یہ زیارت نہ صرف یہ کہ موءمن کا اپنے اِمام کے لیے اِظہارِ محبّت کی علامت ہے بلکہ یہ ایک روحانی صفر بھی ہے. احادیثِ معصومینؑ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کربلاءِ معلّیٰ کا صفر حجِّ بیتُ الله کے صفر سے بھی زیادہ ثواب کا حامل ہے.

عن أبي سعيد المدايني قال: دخلت
على أبي عبد الله عليه السلام فقلت له جعلت فداك آتي قبر الحسين عليه السلام؟ قال
نعم يا أبا سعيد إئت قبر ابن بنت رسول الله صلى الله عليه وآله أطيب الطيبين وأطهر
الطاهرين وأبر الأبرار وإذا زرته كتب الله لك به خمسا وعشرين حجة.
ثواب الاعمال صفہ 92

امام صادقؑ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا:
اے ابو سعید, جب تم دخترِ رسولؐ کے فرزند(حسینؑ) کی زیارت کو جاتے ہو تو خدا تمھارے نامہ اعمال میں پچیس حج کا ثواب لکھ دیتا ہے.
یقیناً یہ ایک عظیم شرف ہے کہ ایک موءمن اِمام حُسینؑ کے مزار کا زائر ہو جائے. اِس مقالہ میں ہم اُن روایات پر نزر کریں گے کہ جن میں کربلا کی سرزمین پر پہنچ کر افضل ترین عمل کا ذکر ہے. تاکہ موءمنین اپنی زیارتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکیں.

بحارالانوار کی جلد 44 میں علامہ محمّد باقر مجلسی رح نے اُن روایات کو جمع کیا ہے جس میں انبیاء کرام کا سر زمین کربلا سے گزرنے کا ذکر ہے۔ اِن تمام روایات میں اِس بات کی مماثلت ہے کہ اُن حضراتؑ کو قاتلِ حسینؑ- یزید ملعون پر لعنت کرنے کا حکم دیا گیا.

روایت بتاتی ہے کہ جب
جناب آدم کا گزر کربلا سے ہوا تو آپؑ کے پیر سے خون بہنے لگا. آپؑ نے اِس حالت کا سبب خدا سے دریافت کیا تو جبرئیلؑ نازل ہوے اور واقعہ کربلا اُن سے بیان کیا. اِس کے بعد جناب آدمؑ نے سوال کیا: یہاں میں کون سا عمل کروں؟

فقال آدم: فأي شئ أصنع يا جبرئيل؟ فقال: العنه يا آدم
فلعنه أربع مرات ومشى خطوات إلى جبل عرفات فوجد حوا هناک.
بحارالانوار جلد 44 صفہ 243

جواب میں جِبرئیلؑ نے کہا کہ آپ اُن کے قاتل پر لعنت کیجیۓ. جب جنابِ آدمؑ نے ایسا کیا تو خدا نے اُن کی ملاقات جنابِ ہوّا سے کرادی.

اِسی باب میں جنابِ نوحؑ کی کشتی کا کربلا سے گزنے کا بھی ذکر ہے. جب جناب نوحؑ کی کشتی کاگز سرزمین کربلا سے ہوا تو ایسے حالات ہوے کہ کشتی غرق ہونے کا ڈر ہوا. جنابِ نوحؑ نے اِس حالت کا سبب دریافت کیا, تو جناب جبرئیل نازل ہوے اور واقعہ کربلا اُن سے بیان کیا. جب جنابِ نوحؑ نے پوچھا کہ حسینؑ کا قاتل کون ہوگا تو جواب ملا کہ اُن کا قاتل وہ ہے جس پرساتوں آسمان اور ساتوں زمین کے رہنے والے لعنت کریں گے تو آپؑ بھی اُس ہر چار مرتبہ لعنت کیجیۓ. پس اُن کی کشتی سمبھل گئی یہاں تک کہ جودی پہاڑ پر جاکر رکی.

قال: قاتله لعين أهل سبع سماوات وسبع أرضين، فلعنه
نوح أربع مرات فسارت السفينة حتى بلغت الجودي واستقرت عليه.

اِسی باب میں جنابِ ابراہیمؑ کا واقعہ بھی درج ہے کہ جب آپؑ کا گز کربلا سے ہوا تو آپ کے رہوار نے آپ کو زمین پر گرا دیا جس کی وجہ سے آپؑ زخمی ہوگءے. جناب ابراہیمؑ نے سوچا شائد مجھ سےکوئ غلطی ہوئ ہے جِس کے سبب یہ حادثہ میرے ساتھ ہوا ہے. جبرئیل نازل ہوے اور کربلا کا واقعہ بیان کیا. روایت بتاتی ہے کہ اِس پر جنابِ ابراہیمؑ نے قاتلِ امامِ حسینؑ – یزید ملعون پر کثرت سے لعنت کی.

فرفع إبراهيم عليه السلام يديه ولعن يزيد لعنا كثيرا وأمن فرسه بلسان فصيح
فقال إبراهيم لفرسه: أي شئ عرفت حتى تؤمن على دعائي؟ فقال: يا إبراهيم أنا
أفتخر بركوبك علي فلما عثرت وسقطت عن ظهري عظمت خجلتي وكان سبب
ذلك من يزيد لعنه الله تعالى.

اُن کا رہوار گویا ہوا اور کہا کہ مجھے اِس بات پر فخر ہے کہ مجھ پر یزید پر لعنت کرنے والا سوار ہے.
اسی طرح جنابِ عیسیٰؑ کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے-
جنابِ عیسیٰؑ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ اُن کا گزر ارضِ کربلا سے ہواوہاں اُن کے راستے میں ایک شیر بیٹھا دکھائ دیا. کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد بھی اور کوششوں کے بعد بھی جب وہ شیر اپنی جگہ سے نہ ہٹا تو جنابِ عیسیٰؑ نے اُس سے ماجرا دریافت کیا تو اُس نے واقعہ کربلا بیان کیا اور کہا کہ میں آپؑ کا راستہ اُس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ آپ یزید- قاتل حسینؑ ہر لعنت نہ کریں.

فقال الأسد بلسان فصيح: إني
لم أدع لكم الطريق حتى تلعنوا يزيد قاتل الحسين عليه السلام.
ان روایات سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ قاتلِ امام حسینؑ پر لعنت کرنا ایک مستحسن عمل ہے خصوصاً جب کہ انسان کربلا کی سرزمین پر موجود ہو. تمام انبیاء کرام جب بھی اِس سرزمین سے گزے ہیں اُنہیں سیّدؑ الشہداء کے قاتل پر لعنت کرنے کا حکم دیا گیا ہے.

اتنا ہی نہیں بلکہ اِس صفرِ زیارتِ امام حسینؑ میں اُن سب سے براءت اور لعنت کرنے افضل ترین عمل بتایا گیا ہے جنہوں نے اِس قتل کی بنیاد رکھّی ہے. روایت میں ہے
صفوان جمّال نے کہا:
امام صادق علیہ السلام سے اپنے مولا حسین بن علی علیہ السلام کی زیارت پر جانے کی اجازت مانگی اور
اُن سے درخواست کی کہ اِس راستے میں کون سا عمل انجام دینا ہے بیان فرمائیں.
آنحضرتؑ نے فرمایا:
أَكْثِرْ مِنَ الْبَرَاءَةِ مِمَّنْ أَسَّسَ ذَلِكَ عَلَيْه الحسین(علیه السلام)
اس راستے میں جنہوں نے حسینؑ بن علیؑ کے قتل کی بنیاد فراہم کی اُن پر تبّرا زیادہ سے زیادہ کرو.

مصباح المتهجد،
جلد‏۲ ، صفحہ ۷۱۹

ہم اِمام حسینؑ کی زیارتوں میں بھی اِس براءت کا ذکر پاتے ہیں. زیارتِ وارثہ ہو یا زیارتِ عاشورہ یا زیارتِ اربعین وغیرہ سب میں امامِ حسینؑ کے قاتلوں پر, اُن کے قتل کی بنیاد رکھنے والوں پر اور اُن کے قتل سے راضی ہونے والوں پر بھی لعنت ہے.

یٰامٙولاٙیا یٰا اٙبٙاعٙبدِ اللّٰه….لٙعنٙ اللّٙهُ اُمّٙةً قٙتٙلٙتکٙ وٙ لٙعٙنٙ اللّٰهُ اُمّٙةً ظٙلٙمٙتکٙ وٙ لٙعٙنٙ اللّٰهُ اُمّٙةً سٙمِعٙت بِذٙالِکٙ فٙرٙضِیت بِہ.

زیارتِ امام حسینؑ- کربلا میں بہترین عمل کیا ہے؟” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.