918

شیعہ جواب دیتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

سب سے پہلے

’’امامت و ولایت کا عقیدہ اصول مذہب کا حصہ ضرور ہے مگر اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ہے اس لئے کہ اسلام اور چیز ہے ایمان اور چیز ہے یہ دونوں الگ الگ حقیقتیں ہے۔ دنیا میں مسلمان تو بہت ہیں مگر مومن بہت کم ہیں اور یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں ہے ۔خود آنحضرت ؐ کے دورمیں اسلام لانے والے تھے مگر ایمان والے کتنے تھے؟ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کہلوایا کہ ’’کہہ دیجئے ان سے تم ہرگز ایمان نہیں لائے ہو ہاں یہ کہو کہ اسلام لائے ہیں۔{ حجرات، آیت۔۱۴}

اگر ولایت وامامت کے بغیر عقیدۂ اسلام مکمل ہوتا تو آنحضرتؐ کے ذریعہ غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بعد لوگوں کا ولی وامام بنانے کا حکم بھی نہ دیا گیا ہوتا۔{ آیت بلغ،مائدہ۔۶۷ }اگر عقیدہ امامت ایمان کا جز نہ ہوتا تو واقعۂ غدیر کے بعد’’سائل سائل بعذاب واقع‘‘ نازل کرکے منکر ولایت کے انجام کو آشکار نہ کیا جاتا یہ دلیل ہے کہ عقیدہ وحدت،رسالت اور جملہ اسلام کے عقائد کے ساتھ عقیدۂ امامت وولایت اہم ترین عقیدہ ہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ہے۔۔ اب ہماری ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ امامت وولایت کو صحیح سمجھ کر اسے قبول کریں تاکہ مومن کہلاسکیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ۷۳فرقوں میں بٹاہوا مسلمان جائے تو کدھر جائے ہر طرف اللہ و رسول کا نام لینے والے، ہر طرف قرآن وسنت کی دہائی دینے والے، ہر طرف مقدسین ، حافظان قرآن ،حاملان قرآن ،سنت کے پیروکار ،سجدوں کے نشانات، ریش مبارک کے جلوے نظر آتے ہیں تو سب ہی حق پر نظر آتے ہیںپھر اس طرح تو حدیث پیغمبرؐ غلط ہوجائے گی اور اگر صحیح ہے اور یقیناً صحیح ہے تو سارے مقدسین اور حاملان قرآن حق پر نہیں ہوسکتے ہیں اس لئے کہ آنحضرتؑ نے ۷۳ میں صرف ایک ہی کو جنتی کہا ہے۔!!! لوگو! گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی بڑی بڑی مقدس ہستیوں میں الجھنے کی ضرورت ہے اس سلسلہ میں ہمارے سب کے عزیز ہستی گرانقدر امام وخلیفہ نے راہنمائی فرمائی ہے اسے سمجھیں اور غور کریں خدا کی قسم ساری الجھنیں دورہوجائیں گی۔

جب اسی طرح کی بات شاید جنگ جمل کے موقعہ پر ایک صحابی نے دیکھ کر حیران ہوکر دریافت کیا مولا ادھر بھی صحابی اُدھر بھی صحابی،ادھر بھی مسلمان اُدھر بھی مسلمان،ادھر بھی مقدسین اُدھر بھی مقدسین سمجھ میں نہیں آتا کسے حق پر قرار دوں تب لسان اللہ نے خدائی اور حکمت سے لبریز اور جامع و مختصر جملہ سے اس کی اور ہم سب کی پریشانیوں کو دور کردیا : فرمایا’’ اعرف الحق تعرف اہلہ‘‘۔ اے شخص! حق بات کو ذات اور شخصیتوں سے نہ پہچانوں بلکہ حق سے شخصیتوں کو جانو یعنی پہلے حق جان لو اسے خوب پہچان لو تو حق والے خود بخود پہچان لئے جائیں گے ۔ اگر شخصیتوں سے حق تک جاؤ گے تو الجھ جاؤ گے نہیں پہونچ پاؤ گے۔ حق پہچان کر آگے بڑھو گےتو شخصیتوں میں نہیں پڑے رہوگے۔

قارئین۔۔۔!!! اس کالم کو اسی مقصد کی خاطر شروع کیا گیا ہے تاکہ عقائد اور مسئلہ امامت وولایت سے متعلق ہر طرح کی الجھنوں اور اعتراضات و شبہات کو دور کرکے ایمان کی طرف جانے والے شاہراہ کی نشاندہی کی جاسکے۔ تاکہ انسان کو مسلمان اور مسلمان کو مومن بننے کی سعادت حاصل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی ہدایت فرمائے۔

کیا حضرت علی علیہ السلام نے بیٹوں کے نام خلفاء کے نام پر رکھا ہے؟

سوال۔۱: شیعہ خلیفہ اول ودوم کو خانہ حضرت فاطمہ زہرا(رضی اللہ عنہا) پر حملہ کرنے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خلفاء اور حضرت مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے بیچ اختلاف اور نزاع تھا۔ جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے چند بیٹوں کے نام خلفاء کے نام پر رکھا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خلفاء اس الزام سے بری ہیں؟ اور ان کے درمیان آپس میں اچھے تعلقات تھے؟

جواب:۔

(۱)
پہلی بات تو یہ ہیکہ جب تک کسی شخص کا نام اسلام وشریعت اور توحید کے منافی نہیں ہوتا ،اسلامی نقطۂ نگاہ سے قابل اعتراض نہیں جاناجاتا خواہ حالت کفر میں ہی رہتے ہوئے اس نام کا انتخاب کیا ہو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں کہیں نہیں ملتا کہ جتنے کافر ،مشرک مسلمان بنتے تھے ،کلمہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ انکا نام تبدیل فرماتے رہے ہوں،ہرگز نہیں(مگر جب عقیدہ توحید واسلام کے منافی ہواتو تبدیل فرمایا ہے)۔تو اگر زمانۂ پیغمبر میں مسلمان ’’اشعث‘‘ اور یہودی یا کافر ’’اشعث‘‘ ملتے تھے تو کیا یہ دونوں کے ہم عقیدہ اورہم مذہب ہونے کی دلیل قرار پائیگا!!! ہرگز نہیں نام سےفرق نہیں پڑتا انسان عقیدہ و دین سے پہچانا جاتا ہے۔
(۲)
کوئی بھی نام(سوائے اسمائے الٰہی کے) کسی مخصوص فرد کیلئے منحصر نہیں ہے بلکہ ایک ہی نام کئی افراد کیلئے انتخاب ہوتا ہے اور وہ اسی نام سے پہچانابھی جاتا ہے اور اس سلسلہ میں دنیا کی کسی قوم وملت میں کوئی قید وشرط نہیں رہی ہے۔

ابوبکر: اسی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نام جیسے ابوبکر،عمر عثمان نام اُس زمانہ میں یعنی عہد پیغمبرؐ میں اصحاب آنحضرتؐ کے درمیان اور اس کے بعد ائمہ معصومین علیہم السلام کے اصحاب و چاہنے والوں میں شیعوں میں مشہور ومعروف رہا ہے جیسے:امام باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں ابوبکر حضرمی،ابوبکر بن ابوسماک،ابوبکر عیاش، ابوبکربن محمد۔

عمر: اسی طرح عمر نام بھی رائج رہا ہے عمر بن عبداللہ ثقفی،عمر بن معمر جو اصحاب امام باقر علیہ السلام میں تھے اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں بھی تھے جیسے عمر بن ابان،عمر بن ابان کلبی، عمر بن ابوحفص،عمر بن ابوشعبۃ،عمر بن اذینۃ،عمر بن براء، عمر بن حفص، عمر بن حنظلۃ،عمر بن سلمۃ۔
عثمان: اور امام محمد باقر علیہ السلام کے اصحاب میں عثمان بن جبلۃ،عثمان بن زیاد، اور امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں عثمان اصفہانی، عثمان بن یزید،عثمان نواءو غیرہ۔۔ کیا یہ سارے نام خلفاء سے محبت کی بناپر رکھے گئے ہیں؟
(۳)
یہ حقیقت تو کسی مسلمان کیا کسی انسان سے پوشیدہ نہیں ہے کہ شیعہ حـضرات اور ان کے بچے یزید بن معاویہ اور اس کے برُے اعمال و کردار سے حد درجہ نفرت کرتے ہیں اور دنیا کی بدترین اور خبیث ترین فرد مانتے ہیں۔۔ مگر اس کے باوجود ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کے اصحاب میں ایسے افراد مل جائیں گے جن کے نام یزید تھے۔

یزید: امام سجاد علیہ السلام کے اصحاب میں یزید بن حاتم یا امام باقر علیہ السلام کے اصحاب میں یزید بن عبدالملک ،یزید صائغ، یزید کناسی، یا امام صادق علیہ السلام میں یزید الشعر، یزید بن خلیفہ ،یزید بن خلیل، یزید بن عمر بن طلحہ،یزید بن فرقد، یزید مولا حکم، حتی اصحاب امام صادق علیہ السلام میں ایک صحابی کا نام شمر بن یزید تھا۔{ الاردبیلی الغروی، محمد بن علی(متوفای ۱۱۰۱ھ) جامع الدواۃ وازاحۃ الاشتباہات عن الطرق والاسناد ج ۱؍۴۰۲،ناشر،مکتبۃ المحمدی۔}

تو کیا یہ نام گزاری یزید بن معاویہ یا شمر سے محبت کرنے یا ان کی محبوبیت کی دلیل کہی جائے گی جبکہ ان کے عقیدے اور یزید ملعون کے عقیدے میں زمین وآسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔
(۴)
بیٹوں کے نام رکھنے میں ماں باپ کسی فرد یا شخصیتوں سے متاثر ہوکر نام نہیں رکھتے۔ ورنہ تمام مسلمانوں کو اپنے بیٹوں کے نام رکھنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کو انتخاب کرنا چاہیے آپ سے بڑھ کر کون متاثر کن شخصیت ہوگی؟۔اگر شخصیتوں سے محبت کے اظہار کی بنا پر نام رکھے جاتے ہوتے تو پھر خلیفۂ دوم نے اپنے پورے اسلامی مملکت میں یہ حکم کیوں صادر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر اپنے بیٹوں کا نام رکھنے کا کسی کو بھی حق نہیں ہے؟

ابن بطال اور ابن حجر نے صحیح بخاری کی اپنی شرحوں میں اسے لکھا ہے۔{ ابن بطال الکبریٰ القرطبی،ابوالحسن علی بن خلف بن عبدالملک (متوفی ۴۴۹ھ شرح صحیح بخاری ج۹؍۳۴۴ تحقیق : ابوتمیم یاسر بن ابراہیم ،ناشر‘ مکتبۃ الرشد، السعودیۃ؍ الریاض،الطبعۃ الثانیۃ ۱۴۲۳ھ؁ العسقلانی احمد بن علی بن حجر فتح الباری شرح صحیح البخاری ح ۱۰؍۵۷۲،بیروت۔}
(۵)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک صحابی کا نام’’ عمر بن ابوسلمۃ قرشی ‘‘ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المومنین ام سلمہ کی نسبت سے منھ بولا بیٹا قرار دیا تھا۔اس میں کون سا اعتراض ہے امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے بیٹے کا نام عمر پیغبر کے منہ بولے بیٹے صحابی سے لگاؤ کی بنیاد پر رکھا تھا تاکہ اس نیک صحابی کا نام زندہ رہے۔ جس طرح آپؑ نے اپنے ایک بیٹے کا نام رکھنے کے سلسلہ میں فرمایا ہے کہ میں اپنے بیٹے عثمان کا نام اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے نام پر قرار دیتا ہوں{ مقاتل الطالبین ج۱، ص۲۳، وبحارج ۴۵؍ص۳۸۔ }۔‘‘جو آنحضرت کے نہایت باوفا اصحاب میں تھے، اور شاید اسی لئے حضرت علیؑ نے صراحت کردی کہ اس سے کسی کو غلط فہمی نہ ہوجائے ۔ کسی اور عثمان کی طرف ذہن نہ جائےاس لئے آپ نے عثمان بن مظعون کا حوالہ دیا ہے۔
(۶)
شیخ مفید علیہ الرحمۃ نے نقل کیا ہے کہ امام حسن علیہ السلام کے بیٹوں میں ایک کا نام ’’عمرو ‘‘ تھا{ الارشاد: ج۲؍ص۔۲۰۔}۔ تو کیایہ کہا جاسکتا ہے کہ امام حسن علیہ السلام نے ’’عمرو بن عبدود‘‘ سے یا ’’ عمروبن ہشام (ابوجہل) سے (معاذاللہ) لگاؤ کی بنا پر نام رکھا تھا؟
(۷)
صحیح مسلم میں عمربن خطاب سے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام انھیں(عمر) اور ان کے ساتھی ابوبکر کو جھوٹا،گنہگار،فریب کار اور خائن جانتے تھے خود عمر ایسا کہتے ہیں کہ علی علیہ السلام ہمارے بارے میں ایساسوچتے تھے۔{ صحیح مسلم ج۳؍ص۱۳۷۸، ح ۱۷۵۷؍بیروت۔}

اور صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ابوبکر کو جابر وظالم جانتے تھے،’’ ولکنک استبددت علینا۔۔الخ کہ حضرت نے فرمایا : تو طاقت وزور کی بنا پر ہم پر مسلط ہوگیا اور ہم رسول اللہ سے سب سے زیادہ قرابت رکھنے کی بنا پر خلافت کے حقدار ہیں۔‘‘{ صحیح بخاری جلد۴؍ص۔۱۵۴۹، ح۔۳۹۹۸۔ بیروت، طبعۃ الثالثہ، ۱۴۰۷۔}

ایک دوسری روایت میں خود شیخین نے نقل کیا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام حتی عمر کے چہرے کو دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔{ صحیح بخاری ج۴؍ص۔۱۵۴۹۔۔۔}

اور عثمان کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا ہے: تیسرا شخص سرگین اور چارہ کے درمیان پیٹ پھلائے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ اس کے اہل خاندان بھی کھڑے ہوگئے جو مال خدا کو اس طرح ہضم کررہے تھے جس طرح اونٹ بہار کی گھاس کو چرلیتا ہے،یہاں تک کہ اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل گئے اور اس کے اعمال نے اس کا خاتمہ کردیا اور شکم پری نے منھ کے بل گرادیا۔‘‘{ نہج البلاغہ خطبہ نمبر۳}

امیرالمومنین علیہ السلام خلفاء کے مقابلہ میں اس قدر سخت اور شدید موقف اختیار کرنے کے باوجود کیا اب کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ جنہیں حضرت علی علیہ السلام ظالم واستبدادگر و غاصب جانتے ہوں، جنہیں خائن، فریب کار اور جھوٹا اور گنہگار مانتے ہوں، جن کا چہرہ دیکھنا پسند نہ کرتے ہوں اور جس کی بیت المال میں اس قدر اسراف وخیانت پر نفرت آمیز مذمت کرتے ہوں وہ ان سے محبت و الفت کی بنا پر ان کے نام پر اپنے بیٹوں کا نام رکھیں گے؟
(۸)
ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: عمر کی بہت سی عادتوں میں ایک عادت لوگوں کے نام کو تبدیل کردینا بھی تھی چنانچہ ملتا ہے کہ ابراہیم بن حارث کے باپ نے اس کا نام ’’ ابراہیم‘‘ رکھا تھا لیکن عمر نے اسے بدل کر عبداللہ رکھ دیا اسی طرح اجدع بن مالک کا نام بدل کر عبدالرحمن رکھ دیا۔{ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ج۵؍ص۔۲۹ ،تحقیق علی محمد البجاوی بیروت ط؍اولیٰ ۱۴۱۲۔}
اور اسی طرح ذھبی سیراعلام النبلاء میں لکھتے ہیں: عمر کے زمانہ خلافت میں علی بن ابی طالب علیہ السلام کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا عمر نے اس کا نام عمر رکھ دیا۔{ سیراعلام النبلاء ج۴،ص۔۱۳۴، تحقیق شعیب الارناؤط،محمد نعیم العرقسوسی،بیروت ط،تاسع ۱۴۱۳۔}
(۹)
اہل سنت کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کے نام خلفاء کے نام پر اس لئے قرار دیا کہ ان کے بیچ اچھے تعلقات قائم تھے اور ان میں محبت تھی !! اگر ایسا ہی ہے تو تعلقات ومحبت تو دوطرفہ ہوتی ہے اچھے تعلقات تھےتو پھر خلفاء نے اپنے بیٹوں کے حسنؑ وحسینؑ اور علیؑ جیسے نام کا انتخاب کیوں نہیں کیا۔ یہ تو فرزندان پیغمبرؐ بھی تھے؟ خاندان بنی امیہ میں ایسے نمایاں نام اگرہے تو بتائیے جس نے اچھے تعلقا ت کی بنا پر حسن حسین اور علی علیہم السلام کے نام پر نام رکھا ہو؟ اس کا مطلب ہے نام رکھنے میں بھی تاریخی پس منظر ہوتا ہے اسے نگاہ میں رکھے بغیر بات سمجھ میں نہیں آسکتی ہے اوریہ نام تو اسلام سے پہلے اور بعد میں بھی رائج رہےہیں ان کے انتخاب سے حضرت علی علیہ السلام اور خلفاء کے بیچ حسنِ رابطہ ثابت نہیں ہوتا ہے اور اس سے غاصبین خلافت کے جرم کو چھپایا جاسکتا ہے اور نہ ہی شہادت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا میں ملوث ہونے سے بری کیا جاسکتا ہے ۔غور فرمائیں اور غیر جانبدار ہو کر فیصلہ کریں، اللہ سب کی ہدایت فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.