500

صحافت کے معزرت نامہ کا جواب: جناب! “من و عن” کا ہنر ہم بھی جانتے ہیں.

Print Friendly, PDF & Email

روزنامہ صحافت نے مورخہ ٢٠ مئ ٢٠٢١ کو سینئر کالم نگار محمد عبد الحفیظ اسلامی کا ایک مضمون شایع کیا۔ اس مضمون کی ہیڈینگ تھی “نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاو”۔ اس کے شایع ہونے کے اگلے ہی دن یعنی ٢١مئ کو اس مضمون کے لیے معزرت کا پیغام بھی صحافت اخبار نے جاری کیا۔

معاملہ یہ ہے کہ مضمون کی ابتداء میں مولوی عبد الحفیظ صاحب نے ایک روایت نقل کی جس میں یہ جھوٹ بیان ہوا ہے کہ یہ آیت، ‘نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاو’ حضرت علی (ع) کے بارے میں نازل ہوئ ہے۔ انھوں نے اس روایت کے حوالے بھی پیش کیے ہیں۔ اس روایت کی صحت پر متعدد شیعہ اور سنّی علماء نے گفتگو کی ہے اور اس کو ناصبی راویوں کی منگھڑت داستان بتایا ہے۔ لہذا اس داستان کو نہ سنّی نہ شیعہ بلکہ صرف دشمنِئ اہلبیتؑ رکھنے والے افراد ہی بیان کرتے ہیں۔ وہ بھی اس لیے کہ ان کے مشہورِ جہاں ناصبی پیر ابن تیمیہ نے اس کو منهاج السنة ، ج 4 ، ص65 پر نقل کیا ہے۔ بحرحال مولوی صاحب نے اپنے معزرت نامہ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ انھوں نےاس روایت کو ‘من و عن’ نقل کرنے کی بات کہی اور قارئین کے جزبات کے مجروح ہونے پر افسوس ظاہر کیا۔

موصوف نے اسی پالیسی پر عمل کیا ہے جس کو خطیب اکبر مرحوم مرزا محمد اطہر صاحب نے “ہٹ اینڈ رن” کہا ہے – یعنی اپنی بات کہہ دو پھر جب ہنگامہ ہو تو کہو کہ میرا مطلب یہ نہیں تھا..۔ بہرحال یہاں پر ہم بھی صحافت کے ‘سینئر کالم نگار محمد عبد الحفیظ اسلامی صاحب’ کی پیروی میں اس آیت کی شان نزول کو سنّی کتابوں سے ‘من و عن’ بیان کر رہے ہیں۔

*شانِ نزول کی پہلی روایت:*
روایت اس طرح ہے کہ 11 مسلمانوں نے ابو طلحہ کے گھر اکٹھے ہو کر شراب پی اور پینے کے بعد نشے کی حالت میں مست ہو گئے۔

ان میں سے ایک شخص کہ جس نے دوسروں کی نسبت بہت زیادہ شراب پی تھی اور بہت زیادہ نشے کی حالت میں مست ہوا تھا، اس نے جنگ بدر میں قتل ہونے والے کفّٰار کے بارے میں مداحیہ اشعار پڑھے۔

جب یہ خبر رسول خدا (ص) تک پہنچی تو آپؐ حد درجہ غضبناک ہوئے اور اسی حالت میں وہاں آئے اور ان کے ہاتھ میں کوئ چیز تھی کہ جو انھوں نے ان اشعار پڑھنے والے بندے (ابوبکر) کو دے ماری…….

شراب پینے والے دس افراد میں سے 9 کے نام ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب فتح الباری ، ج10 ، ص30 ، باب نزل تحريم الخمر، میں واضح طور پر ذکر کیا ہے۔ وہ افراد یہ ہیں:

ابو عبيده جراح ؛ ابو طلحہ ، زيد بن سہل (ميزبان محفل) ؛ سہيل بن بيضاء ؛ ابی بن كعب ؛ ابو دجانہ بن خرشہ ؛ ابو ايوب انصاری ؛ معاذ بن جبل انس بن مالک كہ جو اس شراب والی محفل میں شراب کے جام بھر بھر کر دوسروں کو دے رہے تھے؛ عمر بن الخطاب اور ابو بكر .

*شانِ نزول کی دوسری روایت:*

ابن حجر نے اپنی کتاب ‘فتح الباری فی شرح صحیح بخاری’ میں اس واقعہ کو اس طرح درج کیا ہے:
ثُمَّ وَجَدْتُ عِنْدَ الْبَزَّارُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ وَ كَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ تُحَيِّي بِالسَّلَامَةِ أُمَّ بَكْرٍ الْأَبْيَاتَ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ قَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ الْحَدِيثُ وَأَبُو بكر هَذَا يُقَال لَهُ بن شَغُوبٍ فَظَنَّ بَعْضُهُمْ أَنَّهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَلَيْسَ كَذَلِكَ لَكِنْ قَرِينَةُ ذِكْرِ عُمَرَ تَدُلُّ عَلَى عَدَمِ الْغَلَطِ فِي وَصْفِ الصِّدِّيقِ فَحَصَّلْنَا تَسْمِيَةَ عَشَرَةٍ ….

“پھر میں نے بزار کے واسطے سے ایک دوسری نقل پڑھی کہ انس نے کہا ہے کہ میں اس دن شراب کی محفل میں ساقی تھا اور اس دن شراب پینے والوں میں ایک شخص ابوبکر تھے کہ جب انھوں نے بہت زیادہ شراب پی لی تو نشے کی حالت میں کچھ اشعار پڑھے۔

اس وقت ایک مسلمان بندہ اس محفل میں داخل ہوا اور اس نے خبر دی کہ: “کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ اللہ کی طرف سے شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل ہوا ہے؟”
وہ مزید لکھتے ہیں:
“اس روایت میں ابوبکر سے مراد، ابوبکر ابن شغوب ہے، البتہ بعض نے خیال کیا ہے کہ یہ ابوبکر صدیق ہی ہیں، میرے خیال سے ایسا نہیں ہوگا۔

لیکن چونکہ ان شراب پینے والوں میں عمر ابن خطاب کا بھی نام ہے، اس لیے بہت ممکن ہے اور واضح ہوجاتا ہے اور اس میں کسی قسم کی غلطی کی گنجائش بھی نہیں کہ اس ابوبکر سے مراد، ابوبکر صدیق ہی ہیں۔”

اہل تسنّن حوالے:
• فتح الباري شرح صحيح البخاري ج10 ص37
• مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ج5 ص52

*شانِ نزول کی تیسری روایت:*
اس بات کو فریقین کے علماء جانتے ہیں کہ شراب کی حرمت کا حکم تدریجًا آیا ہے۔ اسی سے متعلّق اہل تسنّن بزرگ عالم علامہ زمخشری، جن کا علامہ ذہبی نے اپنی کتاب سير اعلام النبلاء ، ج20 ، ص191 میں بہت جلالت و عظمت کے ساتھ ذکر کیا ہے، اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ علامہ زمخشری نے اپنی کتاب ‘ربيع الأبرار’ ميں لکھا ہے:

أنزل الله تعالي في الخمر ثلاث آيات، أولها يسألونك عن الخمر والميسر، فكان المسلمون بين شارب وتارك ، إلي أن شرب رجل ودخل في الصلاة فهجر ، فنزلت : يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سكاري ، فشربها من شرب من المسلمين ، حتي شربها عمر فأخذ لحي بعير فشج رأس عبد الرحمن بن عوف ، ثم قعد ينوح علي قتلي بدر بشعر الأسود بن عبد يغوث۔

وكائن بالقليب قليب بدر … فبلغ ذلك رسول الله صلي الله عليه وسلم ، فخرج مغضباً يجر رداءه ، فرفع شيئاً كان في يده ليضربه ، فقال : أعوذ بالله من غضب الله ورسوله . فأنزل الله تعالي : إنما يريد الشيطان ، إلي قوله : فهل أنتم منتهون . فقال عمر: انتهينا !!

اللہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں تین آیات کو نازل کیا ہے۔ پہلی آیت: “وہ لوگ آپؐ سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں..”.، پس مسلمانوں میں سے بعض نے شراب پی اور بعض نے شراب پینا ترک کردیا، یہاں تک کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے شراب پی اور نماز کے لیے کھڑا ہوا اور نماز میں ہذیان کہنے لگا، پس آیت نازل ہوئی کہ: اے ایمان والو! مستی و نشے کی حالت میں نماز کے نزدیک نہ جاؤ، پھر بھی بعض مسلمان شراب پیتے رہے، یہاں تک کہ عمر ابن خطاب نے شراب پی اور پھر عبد الرحمن ابن عوف کے سر کو اونٹ کے بدن کی ایک ہڈی مار کر پھاڑ دیا اور پھر بیٹھ کر جنگ بدر میں ہلاک ہونے والے کفّار کی یاد میں اسود ابن عبد یغوث کے اشعار پڑھنا شروع کر دیا کہ: “وہ جو اس کنوئیں میں تھے، بدر والے کنوئیں میں…..!!!”

جب یہ خبر رسول خدا (ص) نے سنی تو غضبناک ہوئے اور اسی غضب کی حالت میں کہ ان کی چادر زمین پر رگڑتی جا رہی تھی، باہر آئے اور عمر کو مارنے کے لیے زمین سے ایک چیز اٹھا لی۔

عمر نے جب آنحضرتؐ کو اس غصے کی حالت میں دیکھا تو کہا: “اللہ اور اس کے رسولؐ کے غضب سے میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔” اسی وقت خداوند نے آیت نازل فرمائی کہ: بے شک شیطان چاہتا ہے کہ…… کیا تم اس کے منع کرنے سے رک جاؤ گے؟
پھر عمر نے کہا کہ: ہاں ہم رک جائیں گے، ہم رک جائیں گے۔ یعنی شراب نہیں پیئیں گے۔!!!
اہل تسنّن حوالے:
• ربيع الأبرار ، زمخشري ، ج1 ، ص398
• تاريخ المدنية ، ابن شبه ، ج3 ، ص863

ان روایات سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ کون افراد تھے جن کو شراب پینے سے روکنے کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئ ہیں۔

دراصل ماجرا یہی ہے کہ یہ اپنے ہیروں کی خطاوں کو چھپانے کے لیے پیغمبرِ اکرم اور ان کے اہلبیتؑ کے بارے میں جھوٹی روایتوں کو وضع کرتے ہیں تاکہ جب کوئ خلفاءکے عیب کو بیان کرے تو وہ فورًا ان جعلی روایات کو بیان کردیں جن میں اہلبیتؑ اطہار پر بہتان باندھا گیا ہے۔ انھوں نے ان روایات کو شیخین کی دفاع کے لیے بنایا ہیں۔ افسوس کہ کچھ نادان اور اندھی عقیدت رکھنے والے اور جاہل افراد اس طرح کی روایت کو مسلمانوں میں فتنہ و فساد برپا کرنے کے لیے ہتھیار کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ بہرحال پھر ایک بار بتادیں کہ ہمارا مقصد صرف اس آیت کی شانِ نزول “من و عن” نقل کرنا تھا۔ اس سے اگر کسی کی دل آزاری ہوتی ہے یا کسی کے جزبات مجروح ہوتے ہیں تو ہمیں نہیں اپنے علماء کو برا بھلا کہیں جنھوں نے اسے کتاب میں درج کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.