753

عابدوں کی زینت ۔ علی ابن الحسین علیہما السلام

Print Friendly, PDF & Email

مختصر تعارف

ولادت۔ ۱۵؍ جمادی الاولیٰ  ۳۸؁ھ

مقام ولادت۔ مدینہ منورہ

کنیت۔ ابو محمد

القاب۔ زین العابدین، سید الساجدین، وارث علم النبیین، امام المومنین، عابد، سجّاد، وغیرہ۔

والد گرامی۔ حضرت امام حسین علیہ السلام۔

والدۂ گرامی۔شہر بانو یا شاہ زنان

دادا۔ حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام۔

دادی۔ خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا۔

نانا۔ آخری بادشاہ یزدجر بن شہریار( کسریٰ نو شیروان)۔

خاندانی شرافت۔ آپ کو ابن الخیرتین بھی کہا جاتا ہے حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا۔خدا نے دنیا میں دو قوم کو سب سے زیادہ شرافت و عزت عطاکی ہے عرب میں قریش کو اور عجم میں فارس کو، اس طرح امام سجاّد علیہ السلام دونوں طرف سے عزت و شرافت کے حامل قرار پائے۔

ازواج۔ ام عبداللہ فاطمہ دختر امام حسنؑ،ان کے علاوہ اور بھی بیویاں تھیں۔

اولاد۔عبداللہ،حسن، حسین، زید، عمر،، حسین الاصغر، حسن، قاسم، سلیمان، عبدالرحمٰن، فاطمہ، سکینہ، خدیجہ، عتیہ

مدت امامت۔ ۳۵؍سال چند ماہ۔

مدت امامت میں بادشاہوں کا دور۔ یزید بن معاویہ، معاویہ بن یزید، مروان بن حکم، عبدالملک بن مروان(ہشام بن عبدالملک)ولید بن عبدالملک۔

شہادت۔۲۵؍محرم ۹۵؁ھ بذریعہ زہر۔

قاتل۔ملعون ولید بن عبدالملک بن مروان بن حکم (حکم جسے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مدینہ سے نکال باہر کیا تھا)

قبر مطہر۔ جنت البقیع چچا امام حسنؑ کے پہلو میں۔

عمر شریف۔ ۵۷؍سال۔

امام علیہ السلام کا زہد:نہایت سادہ زندگی بسر کرتے، اور جو سرمایہ ہوتا اسے فقراء و مساکین میں تقسیم کر دیتے تھے۔ رات کی تاریکیوں میں جب ہر طرف سناٹا چھایا ہوتاتھا اس وقت امام اپنے دوش پر روٹیاں اٹھا کر غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دیتے تھے اور کسی کو خبر بھی نہ ہوتی تھی۔امام کی شہادت کے بعد پتہ چلا سو گھر ایسے تھے جن کی سرپرستی آپ فرماتے تھے۔ لیکن خود گھر والوں کو اس کی خبر نہ تھی کہ یہ کون شخص ہے۔

معمولی غذا پر اکتفا کرتے اور پریشان حال اور مقروض کے قرضوں کو ادا فرماتے تھے۔

عبادت و مناجات کا حال

آپ روز و شب میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھ لیتے تھے۔ آپ نے ایک مسجد بنائی تھی جب لوگ سو جاتے تھے نصف شب آپ مسجد میں تشریف لاتے اور بلند آواز سے دعا و مناجات فرماتے کہ اے اللہ روز قیامت خوف سے تیرے سامنے کھڑے ہونے کی طاقت نہیں ہے فرشِ خواب پر سونے اور تکیہ لگانے کو دل نہیں چاہتا اور پھر زمین پر خم ہو کر چہرہ مبارک خاک پر رکھ دیتے اور اس قدر روتے کہ گھر کے لوگ آواز سن کے جمع ہو جاتے اور گریہ کر نے لگتے تھے اور بس یہی فرماتے : اے اللہ تو مجھ سے راضی ہو جا جب میں تجھ سے ملوں۔

آپ کا اخلاق: ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق اور مکارم اخلاق سے پیش آتے آپ کے سامنے نادان، جاہل، دشمن سب آپ کو  برا بھلا کہتے مگر اس کی حاجت دریافت فرماتے اور مشکل دوٗر کرتے۔ مقروض کے قرض کی ادائیگی فرماتے، بے لباس کو لباس عطا فرماتے۔ آپ علیہ السلام کے اخلاق کیلئے دعائے مکارم الاخلاق، اور رسالۂ حقوق کا مطالعہ کر لیا جائے تو آپ کی آسمانی و الٰہی شخصیت کا اندازہ ہو جائے گا۔ صحیفۂ سجادیہ بہترین دعاؤں کا مجموعہ ہے جسے آپ نے لوگوں کے لئے اپنے بعد راہ ہدایت کے لئے سرمایہ کے طور پے عطا فرمایا ہے۔

امام زین العابدین علیہ السلام كی امامت پر حجر اسود كی گواہی

مورخین نے لكھا ہے كہ حضرت محمد حنفیہ اور امام كے درمیان امامت كے متعلق كچھ اختلاف ہوا اور انہوں نے كہا كہ امام حسین علیہ السلام كے بعد امامت انكا حق ہے تو امام علیہ السلام نے فرمایا قرآن كہتا ہے:

وَ اُوْلُوْا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی مِنْ بَعْضٍ

اور قرابتدار آپس میں بعض دوسرے سے اولیٰ اور بہتر ہیں۔

آپ نے فرمایا كہ یہ آیت میری اور میرے بعد میری اولاد كی امامت پر دلالت كرتی ہے۔ اس كے علاوہ آپ نے فرمایا چچا چلیئے سنگ اسود كو ؟؟؟ بنائیں وہ جو فیصلہ كرے اس پر ہم اور آپ قائم رہیں، كہنے لگے یہ كیسے ہوگا وہ نہ بول سكتا ہے نہ جواب۔ تو امام علیہ السلام نے فرمایا ہم لوگوں كے فیصلہ كے لئے اللہ اسے گھویا كر دیگا۔ دونوں حجر اسود كی پاس آئے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: چچا اس سے كلام كیجئے وہ قریب گئے، كلام كیا لیكن كوئی جواب نہیں آیا۔ پھر امام علیہ السلام پتھر كے قریب گئے اور اس پر دست مبارك رکھ کر خدا کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اس پتھر کو گویا کر دے پھر سنگ اسود سے کہا میں اس خدا کاواسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں جس نے مجھ میں مواثیق عباد اور اس امر کی شہادت کہ کس نے ان کوادا کیا اور کس نے ادا نہیں کیا، امانت رکھے ہیںمجھ کو خبردے کہ امام حسین علیہ السلام کے بعد امامت و وصیت کس کی طرف ہے یہ سن کر پتھر اس طرح ہلنے لگا کہ قریب تھا کہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔ پھر حکمِ خدا سے گویا ہوا کہ اے محمد حنفیہ امامت علی بن الحسین(علیہما السلام) کے حوالے کر دو۔تو جناب محمدحنفیہ نے بارگاہ احدیت میں عرض کیا پروردگارا مجھے بخش دے اور امام زین العابدین علیہ السلام کی امامت کا اقرار کیا اور استغفار کیا۔(ملا جامی شواہد النبوی ،صفحہ ۱۷۹؍ وسیلۃ النجاۃ، صفحہ ۳۳۴ملا مبین فرنگی علی)

یہ واقعہ امام زین العابدین علیہ السلام اور آپ کے بعد اولاد طاہرین کی امامت کے لئے بڑی عظیم الشان دلیل ہے، اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ بارہ اماموں کی امامت میں جانب اللہ ہوتی ہے، ورنہ حجر اسود جس کہ خدا نے جبرئیل کے ذریعہ بہشت سے خانۂ کعبہ میں نصب کرایا ہے وہ اس طرح حق کی گواہی نہ دیتا اس کا گواہ بنناتمام عالم اسلام کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر مسلمان اس پر سنجیدگی اور بغیر تعجب کے غور کر لے تو سارے اختلافات دور ہو جائیں گے۔ اللہ ہم سب کو راہِ ہدایت پر قائم رکھے اور امام زین العابدین علیہ السلام کی سیرت وکردار کے سہارے زندگی بسر کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.