925

قرآن کریم میں ائمہ کے اسماء گرامی کیوں نہیں ہیں؟

Print Friendly, PDF & Email

اسلامی دستاویز میں قرآن کریم کی منزلت صرف بحیثیتِ کلام اللہ نہیں ہے بلکہ یہ کتاب ایک منشور ہے، ایک ایسا صحیفہ ہے جس کی صداقت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی عقیدے کا صحیح اسلامی عقیدہ ہونے کے لیے اس کا قرآن میں موجود ہونا ضروری ہے۔ اس کتاب کی یہ بھی حیثیت ہے کہ اس نے گزشتہ آسمانی کتابوں میں موجود اصولوں اور عقیدوں کی بھی تصدیق فرمائ ہے۔ اس لیے یہ سوال معقول اور درست ہے کہ اگر ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی امامت کی اتنی زیادہ اہمیت ہے تو ان کی امامت کا ذکر اور ان کے اسماء مبارک قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ کیوں نہیں موجود ہیں؟ قرآن میں ائمہ علیہم السلام کے اسماء کی عدم تصریح کا مسئلہ آج کی فکر نہیں ہے بلکہ خود زمانہ ائمہ میں بھی اس طرح کے سوالات ہوتے تھے۔ اس سوال کے جواب میں علماء اسلام نے الگ الگ نظریات پیش کیے ہیں۔ آیات و روایات سے جو اسناد و مدارک دستیاب ہیں ان کی روشنی میں جو نظریہ قابل قبول اور صحیح ہے وہ حسب ذیل باتوں پر مشتمل ہیں۔

قرآن کریم میں اہلبیت علیہم السلام کو مخصوص اوصاف و کلی مفاہیم اور متعدد عنوان جیسے ’’اولوالامر، اھل الذکر، رجالِ اعراف” وغیرہ کے ساتھ متعارف کرایا گیا ہے ،لیکن ان کے نام کی صراحت نہیں ہوئی ہے۔ کسی آیت میں ‘حبل اللہ’ تو کسی میں ‘راسخون فی العلم’ کی لفظوں کا استعمال مسلمانوں کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ ان شخصیتوں کو تلاش کریں جن کی طرف قرآن اشارہ کر رہا ہے۔ قرآن نے اس بات کو صراحت سے بیان کیا ہے کہ حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی قرآن کے معلم اور مبیّن ہیں۔ اس طرح آنحضرتؐ امت کے لئے قرآن کی آیات کے بیان کرنے والے تفسیر کرنے والے، تشریح کرنے والے اور تاویل کرنے والے ہیں۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ قرآن کی تعلیم و تفہیم میں لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محتاج رہیں اور ان کی اطاعت و پیروی کے ذریعہ تمام احکام و شرائع کے ساتھ ساتھ آل محمد علیہم السلام کی امامت کا بھی علم حاصل کر لیں۔اس طرح گزشتہ امتوں کی طرح امت محمدیؐ اس الٰہی منصب کے متعلق احکام و دستور کی نسبت سے آزمائے بھی جائیں۔ آنحضرتؐ نے حسن و خوبی سے تمام پیغامات کو پہنچانے خصوصاً ولایت ائمہ معصومینؑ میں کسی طرح کی کوتاہی یا مسامحہ نہیں فرمایا۔ اس کے باوجود جمہور امت گذشتہ امتوں کی مانند امتحان میں ناکام ہوگئی۔

عجیب بات ہے نماز کے ارکان ،روزہ کے شرائط، زکات کے نصاب، حج کی تفصیلات ——- یہ تمام باتیں تمام مسلمان حضرت رسول خداؐ کی حدیثوں سے حاصل کرتے ہیں اور اس پر باقاعدہ عمل بھی کرتے ہیں۔اس طرح اپنی عبادتوں کی تفصیلات اور شریعت کے احکام کے لیے تو احادیث کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن اہلبیتؑ کے مسئلہ میں تغافل برتتے ہیں۔ اپنی اپنی کتب احادیث میں متعدد روایاتِ مناقب و فضائلِ اہلبیت علیہم السلام پڑھنے کے باوجود بھی اس طرح کے نادانی والے سوالات کرتے ہیں۔

مسلمانوں نے یہ سوال نہیں کیا کہ نماز کی رکعتوں کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ کیوں نہیں ہے؟ روزہ، زکات اور حج کے احکام کی صراحت قرآن میں کیوں نہیں موجود ہے؟ مگر جب اہل بیت علیہم السلام کی امامت و ولایت کا مسئلہ آتا ہے تو اس طرح کے سوالات کی بھرمار ہوجاتی ہے۔ جو جواب نماز ، روزہ اور دیگر احکام کی صراحت کے لیے دیا جاتا ہے وہی اس سوال کا جواب بھی ہے کہ قرآن میں اہل بیت علیہم السلام کے اسماء کی صراحت کیوں نہیں ہے۔ جس رسولؐ نے نماز اور دیگر احکام کی تصریح بیان کی ہے اسی نبی ص نے ائمہ اہل بیت کے اسماء کی صراحت بھی کی ہے۔ جس طرح نماز و شریعت کے مسائل میں قرآن میں ان کی صراحت نہ ہونے سے کوئ فرق نہیں پڑتا اور ان پر عمل ہو رہا ہے اسی طرح احادیث نبوی میں امامت و ولایتِ اہلبیتؑ کی صراحت سے موجود ہونے کے سبب قرآن میں ائمہ معصومین ع کے اسماء گرامی کی عدم صراحت سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جس زبانِ اقدس نے ہمیں کلام اللہ -قرآن مجید سنایا ہے اسی نبی کی زبان سے ہم نے احادیث بھی حاصل کی ہیں۔اس لئے ائمہ علیہم السلام کے اسما کی قرآن میں صراحت نہ ہونے سے مسلمانوں کے لئے فکر مندی کی کوئ وجہ نہی ہونی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.