1,052

قصیدہ – علی ابن ابی طالب ع

Print Friendly, PDF & Email

مجھ کو معلوم ہے کتنی ہے لیاقت میری

میں بھی استاد بنوں یہ نہیں حاجت میری

فخر اس میں ہے کہ میں خود سے تو کہہ لیتا ہوں

ڈر ہے اس بات سے ہوجائے نہ شہرت میری

مقطع میرا ہو مگر شاعری استاد کی ہو

اسکو میں اپنا کہوں یہ نہیں عادت میری

سب کو معلوم ہے اصلاح کراتا ہوں میں

کم نہ ہوجائے گی اس سے کوئی عزت میری

شاعری کرتا ہوں ایمان بتانے کے لئے

ساتھ جائے گی یہی دین کی دولت میری

لیکے اجرت میں قصیدہ پڑھوں اللہ توبہ

ہوگی سب پہ عیاں اب یہ حقیقت میری

میں ہوں مداح علی ابن ابی طالب کا

خوب اللہ نے بنائی ہے یہ قسمت میری

آگے پڑھتا ہوں قصیدہ میں غدیر خم کا

ہوگی مقبول یقیناً یہ عبادت میری

مجھ کو آواز دے جس کو ہو ضرورت میری

دوست دشمن ہو سبھی یہ ہے عنایت میری

یا علی کہہ کے بلاتا ہے جو مشکل میں مجھے

اسکی آساں کروں مشکل یہ ہے عادت میری

یہ شرف مجھ کو فقط مجھ کو ملا خالق سے

خانۂ کعبہ بنا جائے ولادت میری

قولِ احمد ہے ملے اسکو عبادت کا شرف

اک نظر دیکھ لی ہو جس نے بھی صورت میری

اپنے محبوب کا اللہ نے چنا مجھ کو ولی

خم کے میداں میں ہوئی نشر ولایت میری

مجھ کو مرسل نے کیا اتنا بلند ہاتھوں پہ

تاکہ پہچان لیں سب دیکھ لیں صورت میری

کہہ کے بخِ لَکَ تینوں نے جو کی تھی بیعت

توڑ دی جاکے سقیفہ میں وہ بیعت میری

یاعلی تم نہ اگر ہوتے تو ہوجاتا ہلاک

ہوکے دشمن بھی نہیں کرسکا غیبت میری

شیخ جی جب بھی پھنستے تھے بلاتے تھے ضرور

دل میں پر انکے کھٹکتی رہی شہرت میری

نام کے واسطے صدیق و غنی سب ہیں مگر

دونوں عالم میں ہے مشہور صداقت میری

بھاگے دشمن جو اگر مدّمقابل آکر

وار پیچھے سے کروں یہ نہیں فطرت میری

عورتوں بچوں پہ چلتی نہیں تلوار میری

قتل بوڑھوں کو کروں یہ نہیں سیرت میری

دیکھ کر نسلوں کو تب چلتی ہے تلوار میری

جنگ کے میداں میں بھی ایسی ہے بصیرت میری

جنگ خندق میں امر کے کئے جب دو ٹکڑے

بھاگے سب دشمنِ دیں چھا گئی ہیبت میری

بخشوائیں گے اسے خود ہی رسولِ عربی

بس گئی دل میں جس جس کے بھی الفت میری

پاؤگے خلد میں جاگیر یقیناً منظرؔ

ہے اگر دل میں ذرا سی بھی محبت میری

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.