735

مولود کعبہ فقط علی ابن ابی طالب (علیہ السلام)

Print Friendly, PDF & Email

اِنَّ اَوَّلَ بَیتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَ ھُدیً لِلعٰالَمِینَ“ (سورہ آل عمران: ۹۶)
”بلا شبہ وہ پہلا مکان جو لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ بکہ (مکہ) میں ہے جو بابرکت ہے اور سارے عالم کے لئے ہدایت ہے“

وہ پہلا مکان جو لوگوں کے لیے بنایا گیا، ان کی ہدایت کا ذریعہ ہے،مسلمانوں کا قبلہ، خانہ کعبہ ہے. اس بابرکت مکان کی نشاندہی قرآن نے اس طرح کی ہے کہ یہ مکان سرزمین بکہ پر ہے (شہر مکہ کا قدیمی نام بکہ ہے)۔ اس گھر کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ خدا نے اس کو اپنے نام سے منسوب کر لیا اور اسی لیے اس مکان کو ‘بیت اللہ’ یعنی ‘اللہ کا گھر’ کہا جاتا ہے۔

قرآن میں اس مکان کی عظمت کے بارے میں متعدد آیات موجود ہیں ان میں سے ایک یہ ہے” جَعَلَ اللّٰہُ الکعبۃ البیت الحرام“ – ” اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو محترم گھر قرار دیا ہے۔“ (سورہ مائدہ: ۹۷)

ایسا نہیں ہے کہ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ بننے کے بعد باعظمت ہوا ہے۔ قرآن نے اس مکان کی عظمت کی داستان دورِ ابراہیمؑ سے بیان کی ہے۔ اس مکان کی طہارت اور بزرگی کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس کو خدا کے خلیل نے بحکم خدا خود اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا ہے۔ اس گھر کا شرف اس وقت اور بڑھ گیا جب اس میں بعثت رسولؐ سے تیس سال قبل باب مدینة العلم حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت ہوئ۔ یہ واقعہ تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جس کو تمام شیعہ، سنی مورخین اور محدثین نے نقل کیا ہے۔ مگر چند دشمنانِ اہلبیت (ناصبی) افراد اس واقعہ کے منکر نظر آتے ہیں۔ بعض نے اس کی عظمت کو کم کرنے کے لیے یہ دعویٰ کیا کہ یہ شرف صرف علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کو ہی نہیں ملا، کوئ اور شخص (حکیم بن حزام) بھی کعبہ میں پیدا ہوا ہے۔

ان جعلی روایات اور منگھڑت داستانوں کا جواب صرف شیعہ علماء ہی نہیں بلکہ اہل تسنن (سنی) علماء نے بھی دیا ہے۔ بعض شیعہ علماء نے اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں۔ اس مختصر مقالے میں ہم اس موضوع پر صرف ایک طائرانہ نظر ڈالیں گے۔

اہل تسنن کے متعدد علماء نے اس بات کا اقرار اور تصدیق بھی کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئ ہے۔ ان میں سے کچھ کا ذکر ہم یہاں بطور استدلال کر رہے ہیں۔

١) کتاب ‘مستدرک علی الصحیحین’ کے موءلف اور اہل تسنن کے ایک نہایت ہی بزرگ اور معتبر عالم امام حاکم نے حکیم بن حزام کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ” وقد تواترت الاخبار ان فاطمه بن اسد ولدت امیر المؤمنین علی بن طالب کرم الله وجه فی جوف الکعبه”
” یعنی یہ تواتر سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد نے حضرت علیؑ کو کعبہ کے اندر جنم دیاـ”
(مستدرك حاكم: 48)

٢) اہل تسنن کے ایک اور جید عالم علامہ ابن صبّاغ مالکی
(ازالۃ الخلفاءج۲ص۲۵۱) نے اس طرح نقل کیا ہے۔
“علی بن ابی طالب (علیہ السلام) شب جمعہ ١٣رجب ،۰۳عام الفیل، ۳۲سال قبل از ہجرت مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔حضرت علی (علیہ السلام) کی جلالت وبزرگی اور کرامت کی وجہ سے خداوند عالم نے اس فضیلت کوان کے لئے مخصوص کیا ہے ۔”

٣) علامہ ابن جوزی حنفی (تذکرۃ الخواص ،ص۲۰)
کہتے ہیں کہ حدیث میں وارد ہے :
”جناب فاطمہؑ بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کررہی تھیں کہ وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے اسی وقت خانہ کعبہ کا دروازہ کھلا اور جناب فاطمہؑ بنت اسد کعبہ کے اندر داخل ہوگئیں ۔اسی جگہ خانہ کعبہ کے اندر حضرت علی علیہ السلام پیدا ہوئے۔“
(واضح رہے کہ معتبرکتب کے مطابق جناب فاطمہ بنت اسد کیلئے دیوار شگافتہ ہوکرنیادر بنا تہا)
۴) صفی الدین حضرمی شافعی (وسیلۃ المآل ،حضرمی شافعی ، ص۲۸۲) لکھتے ہیں:
“حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت خانہ کعبہ کے اندر ہوئی ۔آپ (ع) وہ پہلے اور آخری شخص ہیں جو ایسی پاک اور مقدس جگہ پیدا ہوے۔”

ان معتبر حوالوں کے علاوہ شیعوں کی ایک معروف اور تحقیقی کتاب ‘شرح احقاق الحق’ میں اس واقعے کو اہل تسنن کے ١٧ مآخذ سے نقل کیا ہے۔
(مرعشی نجفی، شرح احقاق الحق، ج۷، ص۴۸۶-۴۹۱)

ان تمام روایات سے اس بات کا تو یقینی طور پر علم ہو جاتا ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت ‘بیت اللہ’ میں ہوئ تھی اور یہ بات بھی طے ہے کہ ان کے علاوہ کسی اور کو یہ شرف نہیں ملا ہے۔ نہ کسی نبی کو نہ کسی صحابی کو۔ پھر یہ منگھڑت بات کس نے اور کیوں گھڑی ہے کہ کعبہ میں کسی اور کی ولادت بھی ہوئ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مولائےکائنات کو خداوند عالم نے بہت سے فضائل اور مناقب سے نوازا ہے۔ ان میں سے بہت سے فضائل ایسے ہیں جنہیں کوئ دوسرا شخص چھو بھی نہیں سکتا۔ (ذالک فضل اللہ یوءتیہ من یشاء- یہ تو اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا کر تا ہے)
بجائے یہ کہ مولائے کائنات کے ان فضائل کو دل و جان سے قبول کیا جائے، دشمنانِ امیر المومنین نے حسد کی بناء پر ان فضائل کا یا تو انکار کر دیا یا ان کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اتنا ہی نہیں امیر المومنین کے فضائل چھپانے کے لیے ان کو بیان کرنے پر پابندی لگا دی گئ۔ اس عمل کو ایک جرم قرار دیا گیا۔ مناقب مولائے کائنات بیان کرنے والوں کو خاموش کرنے کی کوششیں کی گئیں- حتّیٰ کہ ان کو قتل کر دیا گیا ہے۔ تاریخ میں ایسے بہت سے افراد کا ذکر ملتا ہے جن کو صرف اس بات پر قتل کیا گیا کہ وہ علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کے فضائل بیان کیا کرتے تھے۔ مگر حق و باطل کی یہی پہچان ہے کہ آج حق کو دبانے،چھپانے،اور مٹانے والے مٹ گئے مگر حق اور آواز حق بلند کرنے والے آج بھی اسی شان سے پرچم حق بلند کئے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.