28 Safar 538

٢٨ صفر: نانا اور نواسے کی شہادت ایک جیسی ہے

Print Friendly, PDF & Email

٢٨ صفر سن ١١ ہجری، یہ وہ تاریخ ہے جس روز رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دار فانی سے رخصت ہوے۔ ان کی رحلت کے چالیس سال بعد اسی تاریخ کو آنحضرتؐ کے بڑے نواسے حضرت حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت بھی واقع ہوئ ہے۔ اتفاقًا نانا اور نواسے کی تاریخ شہادت ایک ہی ہے۔ کیا اس کے علاوہ بھی ان دونوں حضرات کی شہادت میں کچھ مشترک یا مشابہ ہے؟؟ اس کا جواب خود مولا حسنؑ ابن علیؑ کے اس قول سے مل جاتا ہے۔

رُوِيَ عَنِ الصَّادِقِ عَنْ آبَائِهِ ع‏ أَنَّ الْحَسَنَ ع قَالَ لِأَهْلِ بَيْتِهِ إِنِّي أَمُوتُ بِالسَّمِّ كَمَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ص قَالُوا وَ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ امْرَأَتِي جَعْدَةُ بِنْتُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ فَإِنَّ مُعَاوِيَةَ يَدُسُّ إِلَيْهَا وَ يَأْمُرُهَا بِذَلِكَ.
بحار الأنوار (ط – بيروت)، ج‏44، ص: 154

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کیا ہے کہ سبط اکبر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے اپنے گھروالوں کو یہ خبر دی کہ مجھے بھی اسی طرح زہر سے شہید کیا جائے گا جس طرح رسولؐ اللہ کو زہر سے شہید کیا گیا ہے۔ امام حسنؑ سے پوچھا گیا: آپؑ کو کون زہر دے گا؟ امام حسنؑ نے فرمایا: مجھے میری بیوی جعدہ بنت اشعث الکندی، معاویہ کے حکم پر زہر دے گی۔

اس روایت سے مندرجہ ذیل باتوں کا پتہ چلتا ہے:
• امام عالی مقام کو معاویہ کے حکم سے زہر سے شہید کیا گیا ہے۔
• امام حسن علیہ السلام کو ان کی زوجہ جعدہ نے زہر دیا جو اشعث بن قیس الکندی کی بیٹی تھی۔جعدہ کا باپ اشعث بن قیس الکندی نے جنگ صفین میں مولا علیؑ کو دھوکا دیا اور ان کے مخالف معاویہ کا ساتھ دیا تھا۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جعدہ کا بھائ محمد بن الاشعث میدان کربلا میں امام حسینؑ کے قاتلوں میں شریک تھا۔
• اس حدیث سے یہ بات بھی ظاہر ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی زہر سے شہید کیا گیا تھا. بلکہ آنحضرتؐ کو زہر دینے والی عورت خود ان کی ازواج میں سے ہی کوئی خاتون تھی جس طرح امام حسنؑ کو بھی ان ہی کی ایک بیوی نے زہر دیا تھا۔
• یہ بھی ممکن ہے کہ رسول خدا (ص) کو بھی زہر کسی حاکم یا باغی کے حکم پر ہی دیا گیا ہو جس طرح قتلِ امام حسنؑ میں شام کا باغی- معاویہ ، زہر اور قتل کے دوسرے وسائل فراہم کرنے میں شریک ہے۔بہر حال امام علیہ السلام کے مندرجہ بالا پیشنگوئ اور واقعے کے مطابق پیشن گوئ کی صداقت کی روشنی میں مسلمان غورو فکر کرے تو بہت سے حقائق سے پردہ اٹھ سکتا ہے اور نام ور شخصیتیں اور ان کا تقدس کھل کر سامنے آ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.