93

کیا حضرات معصومین سے مدد طلب کی جاسکتی ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

رسول خدا (ص) نے خود مولا علیؑ سے فرمایا ہے:-
“یا علیؑ ! آپ کے ذریعہ ، اللہ تعالیٰ نے گزشتہ پیغمبروں کی مخفی طور پر اور میری ظاہری طور پر مدد کی ہے۔”

۔ مدینۃ المعاجز ج ۱ ص ۱۴۴ؕ-۱۴۵
۔ مشارق انوار الیقین ص ۱۲۸

تاریخ کی کتابوں میں اس بابت واضح طور پر ذکر ملتا ہے کہ حضور اکرم (ص) نے خود بحکم خدا حضرت علیؑ کو مدد کے لئے پکارا ہے۔ اس بات کی روشن دلیل جنگ احد میں نزول ‘وظیفہ ناد علیؑ’ ہے ، جو کہ اہل تسنّن کی کتب میں بھی درج ہے۔

اس سلسلہ میں ایک حیرت انگیز واقعہ یوں نقل ہوا ہے کہ ایک دفعہ خود امیر المو منین (ع) نے مرسل اعظم (ص) سے درخواست کی کہ آنحضرتؐ ان کے لئے دعا کردیں۔ اس درخواست کو رسول خدا (ص) نے قبول کیا اور اس طرح دعا فرمائ کہ آپؐ نے نماز پڑھی اور اپنے ہاتھوں کو دعا کے لئے بلند کر کے کہا ،
” اللھم بحق علی عندک اغفر لعلی ”
یعنی “یا اللہ ! تجھے علیؑ کے حق کا واسطہ ، جوکہ تیری بارگاہ میں بہت بلند ہے، علیؑ کی مغفرت فرما۔”

یہ سن کر مولا علیؑ نے کہا: “یا رسول اللہ (ص) یہ کیسی دعا ہے؟”

آنحضرتؐ نے جواب دیا:
‘یا علیؑ ! اللہ کے نزدیک کیا کوئ اور آپ سے زیادہ شریفُ النفس اور فضیلت رکھنے والا ہے، جس کے ذریعے سے شفاعت طلب کی جا سکے؟؟ ‘

اہل تسنّن کتاب:
شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی ص ۳۱۶

لہذا یہ بات واضح ہو جاتی ہے ۔ چونکہ اہلبیتؑ کا مقام بارگاہ خداوندی میں بہت بلند ہے اس لیے ان کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جاسکتی ہے۔
اس بات کا ذکر تفاسیر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ جناب آدمؑ کی خطاؤں کو بھی پنجتنِ پاک کے وسیلے سے ہی بخشا گیا تھا۔ جناب آدم ہی نہیں ، دیگر انبیاء کی بھی مدد اللہ نے حضرت علیؑ کے وسیلے سے کی ہے۔ کسی نبی پر جب کبھی بھی مشکل وقت آیا تو اس نے محمدؐ اور آل محمد کا وسیلہ اختیار کیا ہے۔ امیر المومنین (ع) کی زیارت میں ہم پڑھتے ہیں:

السلامُ علیک یا من انجیٰ اللہُ سفینۃ نوحٍ باسمہِ و اسمِ اخیہِ حیثُ التطَمَ حولھا الماءُ و طما. السلامُ علیک یا من اللہُ بہ بأخیہِ علی آدم اذ غوی….

سلام ہو آپ پر اے امیرالمومنین! وہ جو ، جس کےنام سے اور جس کے بھائی کے نام سے اللہ نے نوح علیہ السلام کی کشتی کو طوفان کے ہنگامے سے بچایا۔ سلام ہو آپ پر اے وہ کہ جس کے وسیلے نے آدمؑ کی خطاؤں کو بخشوایا ، جب کہ آدم سے ترک اولیٰ ہوا..
(زیارت امیر المومنین علیہ السلام ، روز غدیر اقبالُ الاعمال ص ۶۰۸،۶۱۱)

اس طرح کے مطالب اہل تشیع کی کتابوں میں بآسانی مل جائیں گے۔ کتب احادیث ہوں یا مزارات یا دعاؤں کی کتابیں، ہر ایک میں آپ کو ملے گا کہ ائمہؑ نے دعاؤں کے لیے اہلبیتؑ سے توسل کی تعلیم دی ہے۔
اس بات کی ایک آسان مثال دعاۓ فرج ہے ، جس کی کہ امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) نے تعلیم دی ہے۔ اس دعا میں ہم یہ فقرہ پڑھتے ہیں:

“…. یامحمدُ یا علیُّ یا علیُّ یا محمدُ اکفیانی فانکما کافیانِ وانصرانی فانَّاکما ناصران …”
مصباح الکفعمی ص ۱۷۶۔

آپ کو اس طرح کی بہت سی دعائیں مل جائیں گی۔ دعاۓ ‘توسّل’ اول تا آخر صرف یہی ہے کہ اہلبیتؑ کے ہر فرد سے شفاعت کی درخواست کی گئ ہے۔ (یا وجیہ عند اللہ اشفع لنا عند اللہ)

اس مضمون کو اس روایت سے ختم کرتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام بذات خود اپنے لیے بھی وسیلہ تلاش کرتے تھے اور یہ وسیلہ ‘حجاب اللہ’، بضعة رسولؐ، مادر حسنین جناب سیدہ سلام اللہ کی ذات پاک تھی۔
جب بھی امام محمد باقر (ع) سخت بخار میں مبتلا ہو تے، تو اپنے جسم پر ٹھنڈے پانی میں ڈوبا ہوا کپڑا رکھتے اور بہ آواز بلند “یا فاطمہ بنت محمد! ” کی صدا لگاتے تھے اور یہ آواز آپ کے گھر کے باہر کے دروازہ تک آتی تھی۔

– روضۃ الکافی صفحہ ۸۷
۔ بحار الانوار جلد ۶۲ صفحہ ۱۰۲
۔ بیت الاحزان فی مصائب سیدۃ النسوان سلام اللہ علیھا صفحہ ۱۳۵

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.