1,204

کیا صحابہ پر لعنت کرنا کفر ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

اہل تسنّن کے بعض متعصّب خطباء اور مولوی شیعوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ الزام ہے کہ شیعہ اصحابِ رسولؐ پر لعنت کرتے ہیں۔ ان واعظین کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ الله تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن صحابہ کے درمیان نازل کی اور اپنے حبیبؐ محمّد صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی مدد اِن اصحاب کے ذریعہ فرمائ اس لیے یہ سب لائق احترام ہیں۔ اتنا ہی نہیں خود قرآن نے ان صحابہ کی مدح سرائ کی ہے اور ان کے لیے ‘السابقون السابقون’ اور ‘رضی الله عنہم و رضوا عنہ’ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس لیے ان کی توہین کرنا قرآن کی توہین کرنے کے مساوی ہے۔ اور جو قرآن کی توہین کرے وہ کافر ہے۔ ان کی بات بالکل درست ہے مگر اس کو سمجھنے میں ان سے خطا ہوئ ہے۔
اپنی اس فکر میں ان سے دو غلطیاں ہوئی ہیں۔ ایک لفظِ ‘صحابہ’ کی تعریف میں اور دوسرے یہ کہ قرآن کی یہ آیات صرف کچھ افراد کے لیے ہی نازل ہوئی تھیں مگر انہوں نے تمام اصحاب کو اس کے دائرہ میں شامل کرلیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ خود اہل تسنّن کے بزرگ علماء اس بات سے اتّفاق نہیں رکھتے۔ ان میں قاضی عبد الرحمان شافعی، امام محمّد غزّالی اور شرح عقائد نسائ کے موءلّف ملا تفتازانی کا نام لیا جا سکتا ہے۔ اتناہی نہیں تاریخ اور حدیث کی کتابیں بتاتی ہیں کہ صحابہ خود اس فکر کے حامل نہ تھے- ان کے نزدیک کسی اصحابِ رسول کو گالی دینا بلکہ خلفائے راشدین میں سےکسی پر بھی لعنت کرنا اس کو کافر نہیں بناتا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور میں ایسی مثالیں کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔بطور نمونہ ایک روایت پیش کی جا رہی ہے – یہ روایت اہل تسنّن کی معتبر کتابوں میں موجود ہے۔ اس روایت کو حاکم نیشابوری اپنی کتاب المستدرک علی الصحیحین میں (جلد4 صفحہ 335،354) امام احمد ابن حنبل نے اپنی مسند میں(جلد 1صفحہ9) قاضی ایاز نے اپنی کتابِ شفاء میں (جلد 4 باب1) اور امام غزّالی نے اپنی کتاب احیاء العلوم (جلد2)میں اس طرح نقل کیا ہے: “ابوبکر کے دور خلافت میں ایک شخص نے سب کے سامنے ان کو گالی دی اور اس طرح لعن طعن کیا کہ حاضرین کو بہت غصّہ آیا۔ ابوبرزا سلمی نے خلیفہ سے اس گالی دینے والے کو قتل کرنے کی اجازت مانگی کیونکہ اپنے اس عمل کی وجہ سے وہ شخص کافر ہوگیا تھا۔ ابوبکر نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ کسی کے کفر کا فیصلہ رسولؐ الله کے علاوہ کوئ نہیں کر سکتا۔”

اس کے علاوہ اہل تسنّن کی مستند کتابوں میں ایسی روایتیں بھی ملتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ خود رسولؐ کی موجودگی میں ایک دوسرے کو گالیاں دیا کرتےتھے۔ (صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 74، مسند احمد ابن حنبل جلد 2 صفحہ 236، سیرة حلبیہ جلد2 صفحہ 74 میں اس طرح کی روایات دیکھی جاسکتی ہیں۔) ان کی اس حرکت پر آنحضرتؐ ان کی سرزنش تو کرتے تھے اور ان کو اس فعل سے منع بھی کرتے تھے،مگر آپؐ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میرے صحابہ کو لعنت کرنے والا کافر ہوجاتا ہے۔
تاریخ کی تمام کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ عائشہ خلیفہ سوّم عثمان سے کس طرح نفرت کرتی تھیں اور ان کو ‘نعثل’ کہا کرتی تھیں۔ اسی طرح معاویہ اور بنی امیّہ کے خلفاء بارہا مولائےکائنات پر لعنت کیا کرتے تھے بلکہ ان کا دستور تھا کہ ہر نماز جمعہ کے خطبے میں مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ اور سابق السابقین اور سب قریبی صحابئ رسولؐ پر لعنت کیا کرتے تھے۔ اگر صحابہ کو گالی دینا اور ان پر لعنت کرنا کفر ہے تو عائشہ بھی کافر ہیں اور معاویہ اور اس کا ساتھ دینے والے سب کافر ہیں۔

کیا صحابہ پر لعنت کرنا کفر ہے؟” ایک تبصرہ

  1. سلام علیکم
    خدا جزائے خیر دے آپ تمام افراد کو اور آپ کی توفیقات میں اضافہ کرے
    اگر اس مضمون میں ذکر شدہ حوالوں کی عربی عبارت میں حدیثیں ارسال ہو سختی ہوں تو برائے مہربانی زحمت گوارا کریں
    والسلام

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.