441

کیا مولا علیؑ کے سقیفائ خلفاء سے اچھے مراسم تھے؟

Print Friendly, PDF & Email

مستند اور معتبر تاریخی حوالوں میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے فورًا بعد سقیفائ خلافت کے لیے جبرًا بیعت طلب کی گئ۔ انھیں دنوں دخترِ رسولؐ پر اور ان کے اہلبیتؑ پر مظالم بھی ڈھائے گئے۔ دخترِ رسول (ص) کے گھر پر حملہ کیا گیا جس میں آپؑ شدید طور پر زخمی ہوئیں۔ زخموں کی شدّت اتنی زیادہ تھی کہ اس کے اثر سے کچھ ہی روز بعد آپؑ کی شہادت واقع ہوگئ۔ بعض اہل تسنن علماء اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔ مگر اہل تسنن علماء کی اکثریت اس واقعہ کا انکار کرتی ہے اور وہ شیعوں پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ تمام باتیں شیعوں نے بغضِ شیخین میں جعل کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جناب فاطمہ (س) کے شوہر مولا علیؑ کے شیخین (ابوبکر اور عمر) کے ساتھ اچھے مراسم تھے۔ شیخین مولا علیؑ سے حکومتی معاملات میں مشورے لیتے اور مولا علیؑ بھی ان کی رہنمائ فرماتے تھے۔ سقیفائ علماء کا کہنا ہے کہ اگر شیعوں کی بات صحیح ہوتی کہ عمر کے حملے کی وجہ سے جناب فاطمہؐ کی شہادت ہوئ تو امیرالمومنین شیخین سے ناراض رہتے اور کبھی مشورے نہ دیتے۔

جواب :-
اس اعتراض کا جواب خود اہل تسنن کے نزدیک معتبر ترین کتاب صحیحین میں موجود ہے۔
• اولًا: اس اعتراض کو پیش کرنے والوں کو یہ بخوبی جان لینا چاہیے کہ خود دخترِ رسولؐ کی ناراضگی کسی بھی شخص کی ہلاکت کے لیے کافی ہے۔ اس کی وجہ صحیح بخاری میں موجود یہ قولِ رسولؐ ہے کہ “فاطمہؑ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا.” (بخاری:٣/١١۴۴، مسلم ۴/١٦٣٣)

اسی کتاب بخاری میں یہ بات بھی موجود ہے کہ دخترِ رسولؐ (س) ابوبکر سے شدید ناراض تھیں حتیٰ کہ ابوبکر کو اپنی نماز جنازہ میں بھی شامل ہونے کی اجازت آپؑ نے نہیں دی۔ (بخاری:باب ٨٠ ح٧١٨ ، باب ۵٩ ح ۵۴٦، مسلم ج ۵ ص ١۵١)

ان روایات کی موجودگی میں یہ بات مسلّم ہوجاتی ہے کہ شیخین نے جناب فاطمہؐ کو ناراض کرکے اپنے لیے ہلاکت مول لی ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی یہ روایتیں اس اعتراض کو بھی پوری طرح سے بے معنی بنا دیتی ہیں، اس لیے کہ اس اعتراض کا مقصد شیخین کا دفاع کرنا ہے اور ان کے ظلم کو چھپانا ہے۔

• *کیا واقعًا مولا علیؑ شیخین کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے؟؟*

اس سوال کا جواب صحیح مسلم کی ایک روایت میں آپ کو مل جائے گا۔ اس تفصیلی اور طویل روایت میں خود عمر نے اعتراف کیا ہے کہ نہ صرف مولا علیؑ بلکہ رسول اللہ (ص) کے چچا جناب عباس بھی شیخین کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے ۔ اس روایت میں عمر خود کہہ رہے ہیں کہ علیؑ و عبّاس نے ابوبکر سے رسول اللہ (ص) کی میراث طلب کی تو ابوبکر نے کہا کہ ‘انبیاء کی میراث نہیں ہوتی’ مگر عبّاس و علیؑ، دونوں نے ابوبکر کو “غادرًا، کا ذبًا، خائنًا و آثمًا” یعنی دھوکے باز، جھوٹا، خائن اور گناہ گار گردانا۔ ابوبکر کی وفات کے بعد جناب عبّاس اور مولا علیؑ دوبارہ رسول اللہ (ص) کی میراث طلب کرنے عمر کے پاس آئے اور عمر نے بھی وہی جواب دیا جو ابوبکر نے دیا تھا۔ نتیجہ پھر وہی ہوا کہ جناب عبّاس اور مولا علیؑ نے عمر کی بات کو قبول نہیں کیا اور اس کو دھوکے باز، جھوٹا، خائن اور گناہ گار ہی شمار کیا….۔
(صحیح مسلم ج ۵ ص ١۵١، صحیح مسلم ص ٨٣٢ کتاب الجہاد والسیر، باب حکم الفئ ح ۴۵۵٢)

• اس کے علاوہ ‘خطبہ شقشقیہ’ میں بھی اس سوال کا جواب دیکھا جا سکتا ہے۔ نہج البلاغہ کے اس مشہور خطبے میں مولا علی (ع) کی زبانی شیخین کے بارے میں ان کی رائے کا پتہ لگایا جاسکتا ہے. اس خطبہ سے بھی اس بات کا علم ہوجاتا ہے کہ حضرت علیؑ دونوں کو ان کے حقِ خلافت کا غصب کرنے والا جانتے تھے۔

• ان دلائل سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام ابو بکر و عمر کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے بلکہ ان دونوں کو گناہ گار اور جھوٹا سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود آپؑ کا ان دونوں کے ساتھ حسن خلق سے پیش آنا آپؑ کا سیرت پیغمبرؐ پر عمل پیرا ہونے کی دلیل ہے۔ تاجدارِ رسالتؐ نے بھی اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کے ساتھ حسن خلق کا مظاہرہ کیا ہے۔ حضرت علیؑ اسی مکتب رسالت کے تعلیم یافتہ اور حقیقی جانشین رسولؐ ہیں۔ اس لیے مولا علیؑ کا اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کے ساتھ اچھا برتاو کرنا یہ قطعًا ظاہر نہیں کرتا کہ ان پر اور ان کے اہلِ بیت پر کوئ ظلم نہیں ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.