رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے بعد امت میں اختلاف شروع ہوگیا۔ مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ صحابہ کی اکثریت نے رسولِ اسلام کی تعلیمات سے منہ پھیر لیا۔ تاریخ شاہد ہے ، مرسل اعظمؐ کا امت سے تا عمر یہی ارشاد رہا ہے کہ تم دین کی تمام تعلیمات، رشد و ہدایت صرف قرآن و اہلبیتؑ سے حاصل کرنا ورنہ گمراہ ہو جاو گے۔ مگر افسوس صحابہ نے اہلبیتؑ کو فراموش کردیا اور پوری امت کو گمراہی کے راستے پر لگا دیا۔ لہذا جن لوگوں نے دین صحابہ سے لیا ان کو یہ جان لینا چاہیے کہ ان کے دین کی بنیاد اور اساس بغض اہلبیتؑ ہے۔ اس کی وجہ یہ تاریخی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
• سرور کائنات کی حیات طیبہ میں ہی لوگ حضرت علیؑ سے بغض رکھتے تھے۔ اکثر صحابہ کے دل میں امیرالمومنینؑ کے لیے کینہ تھا
رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علیؑ کو اس بات سے باخبر بھی کیا تھا :- “یا علیؑ ! ان لوگوں کے دلوں میں تمھارے لیے کینہ اور دشمنی بھری ہے، جس کو یہ اس وقت ظاہر کریں گے جب میں تمھارے درمیان نہ رہوں گا۔”
اہل تسنّن کتاب:
المعجم الکبیر طبرانی: ج ١١ ص ٧٣ ح ١١٠٨۴
• رسول اللہ ﷺوآلہ نے امت کی غداری کی پیشن گوئ بھی فرمائ تھی۔ آنحضرتؐ نے امیرالمومنینؑ سے فرما دیا تھا :”یا علیؑ! میرے بعد یہ امت تم سے غداری کرے گی۔”
اہل تسنّن حوالے:
• مسند بزّار ص ٩١ ح ٨٦٩
• بغیة الباحث ص ٩٠۵ ح ٩٨۴
اس جملے سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ دین سے وفاداری اہلبیتؑ سے محبت اور ان کی Çولایت کو قبول کرنا ہے مگر امت نے اس کے برخلاف عمل کیا اور اہلبیت سے غداری کی۔
اور یہ کوئ مخفی امر نہیں ہے ، نواصب کے شیخ ابن تیمیہ نے بھی اپنی کتاب، ‘ منہاج ‘ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اکثر صحابہ امیرالمومنینؑ سے بغض رکھتے تھے۔
یہی سبب ہے کہ جب امت نے اپنے طور پر امیرالمومنینؑ کو مسلمانوں کا خلیفہ چن لیا تو صحابہ کے گروہ نے ان کے خلاف جنگ کا محاذ کھول دیا۔ ان جنگوں کو جنم دینے والے نئے مسلمان نہ تھے بلکہ وہی لوگ تھے ، جو خود کو ‘سابقون الاولون’ شمار کرتے ہیں۔
مسمانوں کی چہیتی امی جان عائشہ کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ حضرت علیؑ اور جناب زہراء (س) سے بغض رکھتی تھی۔ عائشہ کا خود اعتراف ہے کہ وہ جناب زہرا (س) کی والدہ جناب خدیجہ سے بھی حسد کرتی تھی۔
ابن عباس کا بیان ہے کہ’ ولا تطیب لہ نفسھا’ اس کا دل علیؑ کے متعلق پاک نہ تھا یعنی وہ علیؑ سے اتنا بغض رکھتی تھی کہ اچھائ کے ساتھ حضرت علیؑ کا نام لینا بھی اسے گوارا نہ تھا۔ اس کے علاوہ اس نے جنگ جمل میں جو کیا اور امام حسنؑ کے جنازے کے ساتھ جو کیا وہ تو سب جانتے ہیں۔
پس مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ جن لوگوں سے دین لے رہے ہیں ، وہ اہلبیتؑ کی دشمنی میں کس قدر ڈوبے ہوئے ہیں جبکہ قرآن نے رسولﷺوآلہ کے قرابت داروں سے مودت کو دین کی بنیاد بتایا ہے۔ چنانچہ واضح ہو جاتا ہے کہ اہل تسنن کے درمیان جو ناصبیت کے جراٹیم پائے جاتے ہیں ، اس کی بنیاد صحابہ کی پیروی ہے۔ اگر ان کو اپنی آخرت کی فکر ہے تو ان کو چاہیے کہ دین صحابہ کو چھوڑ دیں اور اہلبیت کو قبول کرلیں۔ ورنہ رسولؐ کی آلؑ سے بغض رکھنے والوں کی محبت انھیں ہلاک کرکے چھوڑے گی۔
عالم اسلام میں شیعہ مکتب فکر کی ایک پہچان عزادار ی امام حسین علیہ السلام…
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سنہ دس ہجری میں بروز عاشورہ یزیدی لشکر نے…
اسلامی سال کا آغاز ہوتے ہی غدیری اسلام کے پیروکار سبط اصغر، نواسئہ رسولؐ، سید…
بخش هفتم: عزاداری در اہل سنت گریہ و اشک اهل سنت کے علماء کی نظر…
بخش ششم: سیرت صحابہ میں عزاداری سیرت اصحاب میں ایک دوسرے کے لیے عزاداری صحابہ…
بخش پنجم: امام حسین کی عزاداری معصومین کی سیرعت میں الف:کربلا واقع ہونے سے بہت…