اسلامی سال کا آغاز ہوتے ہی غدیری اسلام کے پیروکار سبط اصغر، نواسئہ رسولؐ، سید الشہداء، مظلوم کربلا امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا غم منانے میں مصروف ہوجاتے ہیں جبکہ دوسرے مسلمان اس گریہ و زاری کو بدعت اور غیر اسلامی ہونے کا فتوی دینے لگتے ہیں۔ مخالف علماء کا یہ کہنا ہے کہ رسول خدا (ﷺوآلہ)نے نہ کبھی خود اس طرح گریہ کیا ہے اور نہ ہی کسی اور کو اس طرح مجالس گریہ برپا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ شیعہ رافضیوں کی ایجاد اور بدعت ہے؟
جواب: اولًا تو یہ کہ شیعوں کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اہل تسنّن ان کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں۔ حتی اگر وہ شیعوں کو کافر بھی کہتے ہیں تو کوئی حیرت و تعجب کی بات نہیں ہوتی ہے کیونکہ یہ خود ایک دوسرے کو بھی بدعتی اور کافر مانتے ہیں۔ بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، وہابی ، صوفی، سلفی ہر ایک مکتب فکر کا مفتی دوسرے کو کافر اور بدعتی کہتا ہے۔ (بلکہ شیعہ ان سب کو کلمہ گو اور مسلمان مانتے ہیں۔) لہذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی نظر میں شیعہ بھی کافر ہیں یا مسلمان۔
دوسری بات یہ کہ ہر سال ماہ ذی الحجہ میں جو عید منائ جاتی ہے وہ کس بات پر خوشی منائ جاتی ہے؟ بس اس بات پر کہ نبی ابراہیمؑ کے فرزند جناب اسمائیل کے ذبح ہو جانے سے بچ جانے پر مسلمان خوشی مناتے ہیں اور ہر سال لاکھوں بکرے قربان کیے جاتے ہیں۔ پس وہ سنّت ابراہیمؑ پر عمل کرتے ہیں اور بکرہ یا دنبہ ذبح کررے ہیں۔ اسی طرح ان کو چاہئے کہ فخر اسمائیلؑ فرزند محمدؐ مصطفیٰ امام حسینؑ کی شہادت کا غم بھی ماہ محرم میں منایا کریں۔ جس طرح عید میں قربانی سنّت ہے اسی طرح شہید کربلا کا غم منانا بھی سنت ہے۔
بہرحال اس مختصر مقالہ میں ہم اہل تسنّن کی معتبر اور معروف کتابوں سے اس بات کو ثابت کریں گے کہ خود رسول اکرم (ﷺوآلہ) نے گریہ فرمایا اور مدینہ میں یہ دستور قائم کیا کہ شہید پر گریہ کیا جاۓ۔ مندرجہ ذیل روایات میں جنگ احد میں اسد اللہ و اسد رسول، جناب حمزہؑ ابن عبد المطلبؑ کی شہادت کے بعد ان پر گریہ کیے جانے کا ذکر ہے۔ یاد رہے کہ جنگ احد میں مسلمانوں کی نافرمانی اور صحابہ کی اکثریت کے جنگ سے فرار ہوجانے کی وجہ سے دلیر اور میدان جنگ میں ڈٹے رہنے والے چند صحابہ میں سے ایک رسولؐ اسلام کے چچا جناب حمزہؑ کو کفار مکہ نے شہید کردیا تھا۔ معاویہ کی ماں، یزید کی دادی اور ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے جناب حمزہؑ کے لاشہ کی بےحرمتی کرتے ہوئے ان کے کان، ناک اونگلیاں کاٹ ڈالیں اور ان کے سینے کو چاک کر کے ان کے جگر کو نکال کر دانتوں سے چبایا۔ اس طرح سے اس ملعونہ نے بنی ہاشم سے جنگ بدر میں مارے گئے اپنے مقتولین کا بدلہ لیا تھا۔
* کتاب ‘المستدرک علی الصحیحین’ کی جلد ۳ ص ۴۰۹ پر یہ بات نقل ہے کہ جنگ احد میں جب سرور کائنات (ﷺوآلہ) نے اپنے چچا جناب حمزہؑ کی لاش کو دیکھا کہ کس درندگی سے اس کو ہندہ (لعنت اللہ علیہا) نے پارہ پارہ کیا ہے تو آپؐ نے ایک چیخ ماری اور رونے لگے۔
(مستدرک ج ۳ ص ۴۰۹ کتاب معرفت صحابہ ح ۴۹۶۳)
اس روایت کو دیگر کتب میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جنگ احد میں جناب حمزہؑ کی شہادت پر رسول اللہ (ﷺوآلہ) کو اس قدر رنج و غم ہوا کہ آپ نے اپنے معاون خاص اور اپنے چچا کی شہادت پر بہت زیادہ گریہ فرمایا۔
* خلیفہ دوم کے فرزند عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ جنگ احد سے واپسی پر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مدینہ میں داخل ہوئے تو آپؐ نے دیکھا کہ انصار کی عورتیں اپنے شہیدوں پر گریہ کر رہی ہیں۔ (پورے مدینہ میں غم کا ماحول ہے اور یقینا ان عورتوں کا غم بڑا تھا مگر رسولؐ اللہ نے بھی اپنا چچا کھویا تھا جس کا ان کو بہت بڑا صدمہ تھا) رسول اعظم نے اپنے غم پر افسوس ظاہر کیا کہ “…و لکن حمزۃ لا بواکی لہ” – “افسوس ! کہ میرے چچا حمزہؑ کی شہادت پر کوئی رونے والا نہیں ہے۔” آنحضرتؐ کی یہ بات جب عورتوں تک پہنچی تو سب نے جناب حمزہؑ پر گریہ کیا۔
(مسند احمد بن حنبل ج ۲ ص ۱۲۹ ح ۴۹۶۴)
اس روایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ پیغمبر اسلامؐ نے عورتوں کو رونے سے منع نہیں کیا بلکہ آپؐ نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ شہید اعظم جناب حمزہؑ پر کوئ گریہ کرنے والا نہیں ہے۔ ایسا نہیں تھا کہ جناب حمزہؑ پر کسی نے بھی مدینہ میں گریہ نہیں کیا تھا۔ روایتیں بتاتی ہیں ہے کہ دختر رسولؐ جناب فاطمہ (س) نے ان پر گریہ فرمایا اور مسلسل گریہ فرمایا۔ اس روایت سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ آنحضرتؐ یہ چاہتے تھے کہ جناب حمزہؑ کا غم مدینہ میں زور شور سے منایا جائے جس طرح مدینہ کی عورتیں اپنے عزیزوں کی موت کا غم منا رہیں تھی۔ بلکہ اس سے بھی بڑھکر اہل اسلام اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ مسلمان کو چاہیے کہ اپنے غم پر رسولؐ کے غم کو ترجیح دیں۔
یہی سبب ہے کہ مدینہ میں یہ دستور بن گیا کہ جب بھی ان کے یہاں کسی کی موت ہوتی تو مرنے والے پر روئے جانے سے پہلے عورتیں جناب حمزہؑ پر گریہ کرتیں اور یہ دستور صرف رسول اعظم (ﷺوآلہ) کی زندگی ہی میں نہیں بلکہ ان کی رحلت کے برسوں بعد تک چلتا رہا۔ اس بات کا ذکر کتاب ‘البدایہ والنہایہ’ ج ۱ ص ۵۴۱ پر اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد ان الفاظ میں موءلف نے درج کیا ہے:- “…..فھن الیوم اذا یبکین یندبن بحمزۃ” آج بھی یہ ہوتا ہے کہ عورتیں جب کسی کے مرنے پر گریہ کرتیں ہیں تو پہلے جناب حمزہؒ پر روتی ہیں۔
اسی بات کو ساتویں صدی ہجری کے اہل تسنّن کے مشہور محدث حافظ ذھبی نے بھی اپنی تلخیص میں دہرائ ہے کہ “فان نسآء الانصار لا یندبن موتاھم حتی یبکین حمزۃؒ، والی یومنا ھذا”
آج تک انصار کی عورتوں کا یہ دستور ہے کہ وہ کسی بھی مردے پر گریہ شروع نہیں کرتیں مگر یہ کہ اس سے پہلے جناب حمزہؑ پر رو لیتی ہیں۔”
اس بات کو جلیل القدر اہل تسنّن عالم اور محدث حاکم نیشاپوری نے بھی اپنی تالیف ‘المستدرک علی الصحیحین’ کی جلد ۱ ص ۴۹۰ پر نقل کیا ہے۔ اس طرح کی اور بھی روایات اہل تسنن کی کتابوں میں موجود ہیں مگر ان کے ناصبی علماء ان باتوں کو اپنے پیروکاروں سے چھپاتے ہیں۔
پس ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرسل اعظمؐ نے اپنے چچا کی شہادت پر غم منایا اور مدینہ والوں کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اپنے غم پر رسول خدا (ﷺوآلہ) کے غم کو ترجیح دیں۔ جب رسولؐ اللہ کو جناب حمزہؑ کی شہادت نے اس قدر غمگین کردیا تو ان کے نواسہ مظلوم کربلا کی شہادت آنحضرتؐ کے لیے کس قدر شاق ہوگی۔ جناب حمزہؑ کے لاش کی بے حرمتی دیکھ کر رسولؐ اللہ نے چیخ مار کر گریہ کیا، جبکہ مظلوم کربلا کا لاشہ گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کیا گیا، سر کو تن سے جدا کیا گیا، سر کو نیزے پر چڑھاکر شام و کوفہ میں پھرایا گیا، لاش کو بے گور و کفن خاک پر دھوپ کی شدت میں چھوڑ دیا گیا۔ اس عظیم مصیبت پر اگر شیعہ زندگی بھر روتے رہیں اور روتے روتے مر جائیں تو یہ سب صرف رسولؐ اللہ کی خوشنودی کے لیے ہے اور کچھ نہیں۔
عالم اسلام میں شیعہ مکتب فکر کی ایک پہچان عزادار ی امام حسین علیہ السلام…
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سنہ دس ہجری میں بروز عاشورہ یزیدی لشکر نے…
رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے بعد امت میں اختلاف شروع…
بخش هفتم: عزاداری در اہل سنت گریہ و اشک اهل سنت کے علماء کی نظر…
بخش ششم: سیرت صحابہ میں عزاداری سیرت اصحاب میں ایک دوسرے کے لیے عزاداری صحابہ…
بخش پنجم: امام حسین کی عزاداری معصومین کی سیرعت میں الف:کربلا واقع ہونے سے بہت…