کیا یزید کی بخشش ہو سکتی ہے؟

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سنہ دس ہجری میں بروز عاشورہ یزیدی لشکر نے ابن زیاد کے حکم پر
امام حسین کو شہید کیا تھا۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اسی یزیدی لشکر نے خاندان عصمت و طہارت کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بناکر شام و کوفہ کے بازاوں میں غلاموں کی طرح پھرایا تھا۔ ہر غیرت مند انسان اس عمل کو قبیح ترین عمل جانتا ہے اس لیے یزید اور اس کے لشکر کو لعنتی اور جہمنی سمجھا جاتا ہے۔ مگر آج کے وہابی اور ناصبی افراد یزید کا دفاع کرتے ہیں ، ان لوگوں کو یہ بات بہت گراں گزرتی کہ لوگ یزید پر لعنت کرتے ہیں اور اسے جہنمی کہتے ہیں۔ ان کی پہلی ناکام کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ یزید ملعون کو اس جرم سے پاک کر دیں مگر یہ ممکن نہیں، تو وہ دوسرا حربہ یہ استعمال کرتے ہیں کہ یزیر کو جہمنی ہونے سے بچالیں۔ اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ‘یزید چاہے کیسا بھی ہو تھا تو مسلمان ، چونکہ وہ اہل توحید ہے ، اس لیے ممکن ہے کہ رحمٰن و رحیم خدا اس کو بخش دے اور اس کو جنت نصیب ہوجاۓ ،اس لیے ہمیں یزید پر لعنت نہیں بھیجنی چاہیے۔’
یہ بات درست ہے کہ اللہ کی رحمانیت لامتناہی ہے اور اس کے رحم و کرم کا کوئ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جنت اس نے ظالموں، مجرموں اور گناہ گاروں کے لیے ہی خلق کی ہے۔ کیا رسول اکرم (ص) سے یہ بات مروی نہیں ہے کہ روز قیامت ان کے اصحاب میں سے بدعتی لوگوں کو کھینچ کر جہنم میں ڈالا جایا جائے گا ؟ باوجودیکہ آپؐ پکار رہے ہوں گے “اُصٙیحٙابِی” یہ میرے صحابی ہیں۔ تو یہ کہنا کہ مسلمان ہونا یا صحابی ہونا کسی کو جہنم سے بچالے گا ایک بچکانہ اور احمقانہ بات ہے۔ دوسری بات یہ کہ قاتلان سیدالشہداءؑ کے لیے شیعہ ہی نہیں بلکہ اہل تسنّن کی معتبر کتابوں میں ‘confirmed جہنمی’ ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ ان روایات کو موثق اور بزرگ سنی علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ ان میں سے چند ایک کو یہاں پر بطور نمونہ پیش کیا جا رہا ہے:-
حافظ ابوبکر البغدادی نے جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت کی ہے کہ سرور کائنات (ص) نے فرمایا ‘….میرے حسینؑ کو میرے امتی ہی قتل کریں گے, وہ میری عترت سے بغض رکھتے ہوں گے اور انھیں میری شفاعت نہیں ملے گی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ کس طرح جہنم کے ایک طبقے سے دوسرے کی طرف پھینکے جارہے ہیں۔’
اس روایت کو حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب ‘لسان المیزان’ میں ج ۵ صفہ ۳۷۷ پر اور حافظ ابن عساکر دمشقی نے اپنی کتاب ‘تاریخ دمشق’ میں ج ۴ ص ۳۳۹ پر بھی نقل کیا ہے۔
اس روایت سے رسول اکرم (ص) کے غیبی علم کا پتہ بخوبی چل جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ قاتلان شہید کربلا کی کوئ بخشش نہیں ہے۔ نہ ان کو نبی اعظمؐ کی شفاعت ملے گی نہ بارگاہ خدا سے مغفرت ملے گی۔ ان کا ٹھکانہ جہنم کے نچلے طبقات ہوں گے۔
یہ کس طرح ممکن ہے کہ جن لوگوں نے پیغمبرؐ اسلام کے نواسے کو بے جرم و خطا بھوکا پیاسا رکھ کر بے رحمی سے شہید کیا ہو، ان کے ناموس کو قیدی بنایا ہو، ان کی چادریں چھین کر ان کو برہنہ سر و برہنہ پا صحراؤں ، بازاروں، گلیوں اور درباروں میں پھرایا ہو، ان کو اللہ اور اس کا رسولؐ چھوڑ دے گا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جہنم ان لوگوں کے انتظار میں ہے۔
اہل تسنّن کے بزرگ عالم جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب ‘ذیل اللئالی’ میں صفہ ۷۶ پر یہ روایت نقل کی ہے کہ جب جناب ہارونؑ کا انتقال ہوا تو جناب موسیٰ نے دعا فرمائ :”پروردگار ! میرے بھائ ہارون کی مغفرت فرما۔”
پس اللہ نے جناب موسیٰؑ پر وحی فرمائ: “اے موسیٰؑ ! اگر تم اوّلین و آخرین سب کے لیے بخشش کی دعا کرو تو میں سب کو بخش دوں گا، سواۓ اس شخص کے جس نے حسینؑ بن علیؑ بن ابی طالبؑ کو قتل کیا ہو۔ میں ، اللہ ، خود اس سے حسینؑ کے خون کا انتقام لوں گا۔”
خوارزمی نے اپنی کتاب ‘مقتل الحسینؑ’ ج ۲ ص ۸۵ پر اسی روایت کو نقل کیا ہے۔ اسی طرح البدخشی نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب ‘مفتاح النجا’ میں صفہ ۱۳۷ پر نقل کیا ہے۔
لہذا یہ بات تو طئے شدہ ہے کہ امام حسینؑ کے قاتل کے لیے کوئ بخشش نہیں ہے بلکہ اس قتل کا بدلہ خود اللہ لے گا۔ یہی سبب ہے کہ زیارت عاشورہ میں سید مظلوم کو ‘ثار اللہ’ کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔
قرآن کی رو سے امام حسینؑ کے خون کا انتقام اللہ ان کے ولی قائم آل محمدؐ امام مہدی (عج) کے ذریعہ لے گا (سورہ اسراء: ۳۳) جس کی تفصیل آپ کو شیعہ روایات میں بآسانی مل جائے گی۔ اہل تسنّن علماء نے بھی مظلوم کربلا کے خون کے انتقام کا ذکر اپنی تالیفات میں کیا ہے۔ مثال کے طور پر اس روایت کو ملاحظہ فرمائے:
عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ نے تمھارے نبیؐ پر وحی کی ہے کہ “میں نے یحییؑ بن زکریاؑ کا انتقام ستر ہزار کو قتل کرکے لیا ہے جبکہ (اے محمدؐ) آپؐ کے فرزند (حسینؑ) کے خون کا بدلہ میں ستر ستر ہزار (۴۹ بیلیون) افراد کے قتل سے لوں گا۔ ”

اہل تسنّن حوالے:
* أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَاكِمُ الْمُسْتَدْرَكُ(2/319)

* الْخَطِيبُ تَارِيْخُ بَغْدَادَ(1/142)

* ابْنُ عَسَاكِرَ تَارِيْخُ دِمَشْقَ(14/225)

* ابْنُ الْجَوْزِيِّ
الْمَوْضُوعَاتُ(1/408)
الْمِزِّيُّ تَهْذِيبُ الْكَمَالِ(6/43
اس روایت سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ قاتلان امام حسینؑ سے دنیا میں بھی بدلہ لیا جائے گا اور اس کی شکل یہ ہوگی کہ ان کو قتل کیا جائے گا تاکہ وہ تلوار کے وار کا مزہ چکھیں۔ دوسری بات جو غور طلب ہے کہ ان افراد کی تعداد کربلا کے یزیدی لشکر سے بہت زیادہ ہے۔ کربلا میں یزیدی لشکر کی تعداد بہت زیادہ جو تاریخ میں وارد ہوئ ہے وہ دس لاکھ ہے۔ مگر جو تعداد ان روایات میں دی گئی ہے وہ ۴۵ بیلیون سے بھی زیادہ ہے۔ اتنی آبادی تو اس وقت پوری مملکت اسلامی کی بھی نہ ہوگی۔ تو واضح ہے اس بڑی تعداد میں ہر وہ شخص شامل ہے ، جس کو امام حسینؑ کے قتل کی داستان کا علم ہوا اور وہ ان کے قتل پر راضی رہا۔ اسی بات کی طرف زیارت وارثہ کا یہ فقرہ نشان دہی کر رہا ہے: ‘لعن اللہ امة قتلتک، و لعن اللہ امة ظلمتک و لعن اللہ امة سمعت بذالک فرضیت بہ۔’ اللہ اس امت پر لعنت کرے جس نے آپؑ کو قتل کیا، اللہ اس امت پر لعنت کرے جس نے آپؑ پر ظلم کیا اور اللہ اس امت پر بھی لعنت کرے جس نے آپؑ پر ظلم کی داستان کو سنا اور اس پر راضی ہوا۔’
تیسری اہم بات جو اس روایت سے واضح ہوتی ہے ، وہ یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے اسی دنیا میں قتل کے ذریعہ سے انتقام لے گا۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب یہ تمام افراد دوبارہ اس دنیا میں جمع ہوں۔ لہذا یہ عقیدہء رجع کی تائید کرتا ہے۔ یہ عقیدہ قران میں اور روایات میں موجود ہے۔ (یاد رہے کہ شیعہ رجعت کے اس قرآنی عقیدہ کو قبول کرتے ہیں جبکہ اہل تسنّن اس کا انکار کرتے ہیں۔)
بہر حال جن لوگوں کو یزید سے ہمدردی ہے یا اس کو مسلمان سمجھتے ہیں یا اس پر لعنت کرنے کو برا جانتے ہیں، خدا ان سب کو یزید کے ساتھ محشور کرے اور آخرت میں ان کو یزید کے جوار میں جگہ دے۔ ہم شیعوں کے عقیدے میں یعبی مکتب اہلبیتؑ کے مطابق یزید لعنتی اور جہنمی ہے، اس کا باپ معاویہ، جس نے امیرالمومنینؑ سے جنگ کی، لعنتی اور جہنمی ہے، اس کی دادی ہندہ، جس نے جناب حمزہؑ کا جگر چبایا، لعنتی اور جہمنی ہے، اس کا دادا ابوسفیان، جس نے رسول اسلام (ص) سے بارہا جنگیں لڑیں، لعنتی اور جہنمی ہے بلکہ بنی امیہ کا پورا خاندان لعنتیی ہے۔ اللہم العن بنی امیة قاطبہ۔

Short URL : https://saqlain.org/75ot
saqlain

Recent Posts

شیعہ امام حسینؑ کا ماتم کیوں کرتے ہیں؟

عالم اسلام میں شیعہ مکتب فکر کی ایک پہچان عزادار ی امام حسین علیہ السلام…

7 months ago

مجلس گریہ برپا کرنا سنت رسول اکرم (ﷺوآلہ) ہے

اسلامی سال کا آغاز ہوتے ہی غدیری اسلام کے پیروکار سبط اصغر، نواسئہ رسولؐ، سید…

7 months ago

دینِ صحابہ اور بغض اہلبیتؑ

رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے بعد امت میں اختلاف شروع…

7 months ago

8) کیا امام حسین کی عزاداری بدعت ہے؟ حصہ ہفتم

بخش هفتم: عزاداری در اہل سنت گریہ و اشک اهل سنت کے علماء کی نظر…

1 year ago

7) کیا امام حسین کی عزاداری بدعت ہے؟ حصہ ششم

بخش ششم: سیرت صحابہ میں عزاداری سیرت اصحاب میں ایک دوسرے کے لیے عزاداری صحابہ…

1 year ago

6) کیا امام حسین کی عزاداری بدعت ہے؟ حصہ پنجم

بخش پنجم: امام حسین کی عزاداری معصومین کی سیرعت میں الف:کربلا واقع ہونے سے بہت…

1 year ago