215

اہل تسنّن اور خلافت راشدہ:

Print Friendly, PDF & Email

اہل تسنّن کے یہاں اسلامی تاریخ کا پہلا دور یعنی رسول اسلام (ص) کے وصال کے بعد ابوبکر، عمر ، عثمان، حضرت علیؑ اور امام حسنؑ کے چند مہینہ کا عہد خلافت ‘خلافت راشدہ’ کہلاتا ہے۔ ان کے نزدیک اس عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے جس میں ابوبکر پہلے خلیفہ ہیں اور حضرت علیؑ آخری اور چوتھے خلیفہ ہیں۔ امام حسنؑ کی خلافت ظاہری کے چھ مہینے کو اہل تسنّن مولا علیؑ کی خلافت کا ہی حصّہ مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل تسنن امام حسنؑ کے دور خلافت کو خلافت راشدہ میں شمار کرتے ہیں مگر خود امام حسنؑ کو پانچویں خلیفہ راشد کے طور پر شمار نہیں کرتے۔ اہل تسنّن کے نزدیک اس دور کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ قرآن و سنّت کی بنیاد پر قائم نظام حکومت تھا۔
اپنی بات کی دلیل کے لیے وہ اس حدیث کو پیش کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَفِينَةُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ (وآلہ) وَسَلَّمَ: الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ وَخِلَافَةَ عُمَرَ وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ ثُمَّ قَالَ لِي أَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ قَالَ فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخِلَافَةَ فِيهِمْ قَالَ كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ الْمُلُوكِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ قَالَا لَمْ يَعْهَدْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ (وآلہ) وَسَلَّمَ فِي الْخِلَافَةِ شَيْئًا وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ
(سنن الترمذي۔ رقم 2226 .ج 2۔ص 46۔)
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کے آزاد کردہ غلام سفینہ نے حضور اکرم (ص) کا ارشاد نقل کیا ہے:
میری امت میں خلافت تیس سال تک رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت و سلطنت آجائے گی۔
(سفینہ کا شاگرد سعید بن جمھان کہتا ہے) پھر مجھ سے سفینہ نے کہا اپنی انگلیوں پر گنو ابوبکر کی خلافت (کا دور)، عمر کی خلافت (کا دور) اور عثمان کی خلافت (کا دور) پھر کہا انگلیوں پر گنو (حضرت) علیؑ کی خلافت (کا دور)۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے (شمار کیا تو اس پوری مدت کو ہم نے ) تیس سال پایا۔‘‘
پھر میں نے سفینہ سے کہا کہ: بنی امیہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ (مذکورہ)خلافت ان (کے خاندان) میں ہی ہے، تو سفینہ نے کہا کہ بنی زُرقا (نیلی آنکھ والی، بدچلن عورت، کے خاندان والے) جھوٹے ہیں، وہ تو بدترین بادشاہوں میں سے ہیں۔”

اس حدیث سے اہل تسنّن یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ قول رسولؐ کے مطابق وہ خلافت کہ جس میں دین و شریعت اور عدل و انصاف کے ساتھ کسی اور چیز کی ذرا سی بھی آمیزش نہ ہوگی ، تیس (30 )سال رہے گی۔اس کے بعد خلافت ملوکیت کی شکل وصورت میں تبدیلی ہوجائے گی۔

اہل تسنّن کی کتابوں میں موجود اس حدیث کی تشریح ان کے علماء نے اس طرح کی ہے: “حدیث مذکور کے راوی سفینہ نے تیس سال کا جو حساب بیان کیا ہے وہ تخمیناً ہے ، انھوں نے کسور کو بیان نہیں کیا، چنانچہ صحیح روایات اور مستند تاریخی کتابوں میں خلافت راشدہ کی تیس سالہ مدت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ابوبکر کی خلافت کا زمانہ دو سال چار ماہ، عمر کی خلافت کا زمانہ دس سال چھ ماہ، عثمان کی خلافت کا زمانہ چند روز کم بارہ سال اور حضرت علیؑ مرتضی کی خلافت کا زمانہ چار سال نو ماہ رہا ہے۔ اس طرح چاروں خلفاء کی مجموعی مدت خلافت انتیس سال سات ماہ ہوتی ہے۔ اور پانچ مہینے جو باقی رہے وہ حضرت امام حسنؑ کی خلافت کا زمانہ ہے، حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد مسلمانوں کے سواد اعظم
نے حضرت حسنؑ بن علیؑ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پانچ یا چھ ماہ حکمرانی کرنے کے بعد جب تیس سال کی مدت پوری ہوگئی تو انھوں نے حکومت معاویہ کو سونپ کر کے خود کنارہ کش ہوگئے۔ اس طرح حضرت حسنؑ بن علیؑ کی مدت خلافت بھی مشہود لہا بالخیر میں داخل ہوئی۔ اس طرح حضرت امام حسنؑ کا دور بھی خلفاء راشدین میں شامل ہے۔” (شرح الفقہ الاکبر ص 68۔69۔شرح عقائد نسفی ص 151۔ شرح العقیدہ الطحاویہ ص 545 ۔الخلافہ والامارہ ۔)

ایک عجیب بات یہ ہے کہ اگر مولا علیؑ کی شہادت کے فوراً بعد دور خلافت راشدہ ختم مان لی جاتی تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ چونکہ اب کوئی اس لائق شخصیت دنیا میں موجود نہ رہی تو امت کو مجبوراً بادشاہوں کی پیروی کرنی پڑی اور خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوگئ۔ مگر امام حسنؑ کی موجودگی میں امت کا معاویہ کی بادشاہت کو قبول کرلینا ‘خلافت راشدہ’ کے ڈھونگ کی پول کھول دیتا ہے۔
ایک سوال تو یہی ہے کہ جب شیخین کی مخالفت کرنے والوں کو مرتد شمار کیا جاتا ہے تو حضرت علیؑ، جو خلیفہ بالحق اور مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ راشد تھے، ان کے مخالفوں کی بغاوت کو ‘اجتہادی خطا’ اور ان کو مجتہد کیسے مانا جاسکتا ہے؟ اہل تسنّن کو چاہیے تھا کہ ان کے مخالفوں کو اسلامی حکومت اور خلافت رسول اکرم (ص) کا باغی شمار کریں مگر انھوں نے تو ان میں سے اکثریت کو ‘رضی اللہ’ کا خطاب دیا ہے ۔ حتیٰ کہ جناب عمّار یاسر ( جن کے بارے میں قول نبیؐ مشہور ہے کہ ان کو باغی گروہ شہید کرے گا) کے قاتل کو بھی وہ رضی اللہ کہتے ہیں۔
دوسرا اہم سوال جو پوچھا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ جب امام حسنؑ کا دورِ خلافت اللہ کی شریعت اور رسولؐ کی سنّت پر مبنی تھا اور خلافت راشدہ میں شامل تھا تو کیوں امت نے ان کو چھوڑ کر ان کے مخالف اور باغی معاویہ کا ساتھ دیا؟ کیا مسلمانوں کے نزدیک آزاد کردہ غلام ابوسفیان اور جگر خوارہ ہندہ کے بیٹے کی منزلت نواسئہ رسولؐ اور سبط اکبر سے زیادہ تھی؟ کیا اسلامی فرائض اور قوانین کی سمجھ اور ان کو جاری کرنے کی صلاحیت امام حسنؑ میں کم اور معاویہ میں زیادہ تھی؟ یا یہ کہ جو امت صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی مشتاق رہتی ہے (سورہ حمد) ان کی ہدایت معاویہ کرسکتا تھا اور فرزند کل ایمان، آغوش رسالت کے پروردہ، اصحاب اہل کساء اور اصحاب مباہلہ میں شامل، امام حسنؑ نہیں کرسکتے تھے؟ لطف کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان ایسے اسلاف کا خوب قصیدہ پڑھتے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ‘خلفاء راشدہ’ کی اصطلاح رسولؐ اسلام کی رائج کردہ نہیں ہے ، اس کی ایجاد دور خلافت بنی عبّاس میں کی گئ ہے ۔ اگر یہ اصطلاح رسولؐ کے زمانے سے مشہور ہوئی تو یہ کیسے ممکن ہوا کہ دور خلافت بنی امیہ میں ستر سال تک خطباء منبروں سے چوتھے خلیفہ راشد حضرت علیؑ پر لعنت کرتے رہے۔ اگر دور بنی امیہ میں مسلمان حضرت علیؑ کو اپنا چوتھا خلیفہ راشد مانتے تھے تو کیوں اس لعن کے رواج کو برداشت کرتے رہے؟ حقیقت یہی ہے کہ خلافت راشدہ کی اصطلاح کو رسول اسلام (ص) کی رحلت کے تقریباً ١٠٠ سال بعد بنی عباس نے جنم دیا ہے تاکہ وہ بنی امیہ کی حکومت کو غیر اسلامی اور اپنی حکومت کو رسولؐ کی خلافت کے طور پر ظاہر کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.