2,352

جناب ابوطالب کے نعتیہ اشعار

Print Friendly, PDF & Email

مومن آل ابراہیم، عمِ رسول اکرمؐ ،ناصرِ اسلام جناب ابوطالب علیہ السلام نے رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی پرورش اور حفاظت کے سلسلے میں جو خدمات انجام دی ہیں وہ ‘اپنی مثال آپ’ ہیں۔ بلکہ خود خلاق عالم نے ان کی خدمات کا ذکر اپنی کتاب قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ سورہ بلد اور سورہ والضحیٰ کی تفاسیر میں جناب ابوطالب کی نصرت و جاں نثاری کا ذکر ملتا ہے۔ آپؑ نے نہ صرف یہ کہ شمع نبوّت کی حفاظت کی بلکہ حضور پاک کی اس طرح پرورش فرمائ کہ قرآن کو کہنا پڑا “اٙلٙم یٙجِدکٙ یٙتِیمًا فاٰوٰی-(میرے حبیب) کیا ہم نے آپ کو یتیم پاکر آپ کی سرپرستی نہیں کی؟” جب رسولِ اسلام نے مکہ کی سرزمین پر لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا شروع کیا تو مکہ کے تمام قبائل قریش کے چھوٹے بڑے سارے قبیلے رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے مخالف ہوگئے ۔ اس وقت جناب ابوطالبؑ نے ہی آپؐ کی پشت پناہی کی اور آپؐ کے ساتھ کھڑے رہے۔ انھیں کی قربانیاں تھیں جس نے شجر اسلام کو مرجھانے سے محفوظ رکھا۔ آنحضرتؐ کی پرورش سے لے کر آپؐ کی تبلیغ کے دوران اور پھر شعبِ ابوطالب میں ہر مقام پر جناب ابوطالبؑ کی خدمات نظر آتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جناب ابوطالب اپنے بھتیجے سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ متعدد مواقع پر آپؑ نے اپنے بچوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال کر آنحضرتؐ کی جان بچائ ہے۔ ان کی اس محبت کا اندازہ ان اشعار سے بھی ہوتا ہے جو آپ نے اپنے بھتیجے اور اس کے مشن کے لئے کہے ہیں۔

سرورِ کائنات کی شان میں جو مدحیہ اشعار جناب ابوطالب نے ارشاد فرماے ہیں ان کا ذکر بہت سی شیعہ اور سنی کتابوں میں ملتا ہے ۔علامہ امینیؓ نے اپنی مشہور کتاب الغدیر کی آٹھویں جلد میں اہل تسنن کی کتابوں سے جناب ابوطالب کے اشعار جمع کیے ہیں۔ انھوں نے اہل تسنن کی مندرجہ ذیل کتابوں سے جمع کر کے یہ ذخیرہ کیا ہے – تاریخ ابن کثیر، فتح الباری،بلوغ العرب،تاریخ ابو الفدا، سیرة النبوی، شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید وغیرہ۔

اس کتاب سے کچھ اشعار یہاں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
وَ اللهِ لَنْ يَصِلُوْا إِلَيْكَ بِجَمْعِهِمْ حَتَّى أُوَسَّدَ فِي التُّرَابِ دَفِيْنًا
قسم خدا کی (اے میرے بھتیجے) یہ کفّار تم تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میری پشت میری قبر کی مٹی سے نہ جا ملے اور مجھ کو زمین میں دفن نہیں کردیا جاے۔

فَاصْدَعْ بِأَامْرِكَ مَا عَلَيْكَ غَضَاضَةً وَ ابْشِرْ وَ قِرَّ بِذَاكَ مِنْهُ عُيُوْنًا.
پس تم اپنے کام کو مکمل کرو اور کسی کا خوف نہ رکھو۔ اپنی تبلیغ سے لوگوں کو بشارت دیتے رہو اور اس کے ذریعے سے آنکھوں کو سرور اور ٹھنڈک پہنچاتے رہو۔

وَ دَعَوْتَنِيْ وَ زَعَمْتُ أَنَّكَ نَاصِحِيْ وَ لَقَدْ صَدَقْتَ وَ كُنْتَ قَبْلَ أَمِيْنًا.
تم نے مجھے (اسلام کی)دعوت دی جس کی میں تصدیق کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم میری خیر چاہنے والے امین اور ناصح ہو۔

وَ لَقَدْ عَلِمْتُ أَانَّ دِيْنَ مُحَمَّدٍ مِنْ خیر ادیان البریة دیناً۔
میں بخوبی جانتا ہوں کہ جتنے بھی دین انسانوں میں موجود ہیں ان سب سے بہتر دین- محمّدؐ کا دین ہے۔

لَمْ تَعْلَمُوا أَنَّا وَجَدْنَا مُحَمَّداً نَبِيّاً كَمُوسَى خُطَّ فِي أَوَّلِ الْكُتُبِ.
(اے قریش!) کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے محمّدؐ کو ویسا ہی نبی پایا ہے جیسے نبی موسیٰ تھے، اور ان کا بھی ذکر گزشتہ کتابوں میں موجود ہے۔

وَ أَنَّ عَلَيْهِ فِي الْعِبَادِ مَحَبَّةً وَ لاَ سِنَّ فِيْمَنْ خَصَّهُ اللهُ فِي الْحُبِّ.
اور یہ کہ ان کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت ہے اور یہ محبت ہونا بھی چاہیے کیوں کہ الله نے ان کو اپنی محبّت کے لیے چن لیا ہے۔ الغدیر- (جلد 8 علاّمہ امینی)

خوش قسمتی سے ایک کتاب ‘دیوانِ ابوطالب’ کے نام سے اردو زبان میں بھی موجود ہے جس کو ڈاکٹر محمد التونجی نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے یہ شعر بطور نمونہ پیش کر رہے ہیں۔

اٙنتٙ الرّٙسُولُ رٙسُول اللّٰهِ نٙعلٙمُہ
عٙلٙیکٙ نٙزٙل مِن ذِی العِزِّةِ الکُتُب

ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ ہی رسول برحق ہیں،جسے خدا وند عالم نے مبعوث بہ رسالت فرمایا ہے اور اس عزت والے خدا نے آپ پر کتابیں نازل فرمائ ہیں۔
اسی طرح دیگر مشہور کتابوں میں ان اشعار کا ذکر ہے۔ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ابن عرفطہ سے نقل کیا ہے:
مکہ میں قحط پڑا،قریش نے ابوطالب سے کہا کہ وادیاں سوکھ گئی ہیں ،ہم روٹی روٹی کو محتاج ہوگئے ہیں ۔ ہمارے ساتھ آیئے تاکہ نماز استسقاء پڑھیں ۔ ابوطالب اپنے ساتھ ایک بچے کو لئے ہوئے باہر آئے جو سورج کی طرح درخشاں تھا ۔ آپ کے گرد کئی بچے تھے، ابوطالب نے اس بچے کو گود میں لے کراس کی پیٹھ کعبہ سے چسپاں کردی ،بچے نے آپ کی انگلی تھا م لی۔ اس وقت آسمان پر بادل کا کہیں پتہ نشان نہ تھا، اچانک اس قدر بارش ہوئی کہ تمام قرب وجوار اور وادیاں جل تھل ہوگئیں ۔

ایسے میں ابوطالبؑ نے یہ اشعار کہے:
وابیض یستسقی الغمام بوجھہ
ثمالُ الیتامیٰ عصمة الارامل
یلوذبہ الہلاّک من آل ہاشم
فہم عندہ من نعمة فواضلِ
و میزان عدل لا یخیس شعیرةً
ووزان صدقٍ وزنہ غیر ہائلٍ

” وہ نورانی چہرہ جس کا واسطہ دے کر پانی طلب کیاجاتاہے ، وہ یتیموں کا فریادرس اور بیواؤں کی پناہ گاہ ہے،بنی ہاشم کے فقراء اسی کی پناہ حاصل کرتے ہیں اوراسی کے پاس ناز و نعمت کے لئے زیادہ جاتے ہیں،وہ عدالت کی ایسی میزان ہے جس کا وزن ایک بال کے برابر بھی خطا نہیں کرتا اور اس کا وزن سچا وزن ہے جس میں جھوٹا دعویٰ نہیں کیا گیا ہے” ۔

شہرستانی ”ملل ونحل” (جلد 2 صفحہ 249) حاشیہ کتاب”الفصل” (جلد 3 صفحہ 225) میں جناب عبد المطلب کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”وہ چیزیں جواس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ مقام رسالت اورشرف نبوت سے واقف تھے،ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب مکہ میں زبر دست قحط پڑا اور دوسال تک بارش نہیں ہوئی تو اپنے بیٹے ابو طالب کو حکم دیاکہ گہوارے میں موجود شیرخوار کو لے آئیں ۔ آپ انھیں اپنے دونوں ہاتھوں پر اٹھا کر کعبہ کے پاس آئے اور آسمان کی طرف بلند کرکے کہا: خدایا! اس بچے کے حق کی قسم اور۔ دوسری تیسر ی مرتبہ بھی آسمان کی طرف بلندکیا اورکہا :خدا! اس بچے کے حق کی قسم ،ہم پر مسلسل اورموسلا دھاربارش کا نزول فرما۔تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ آسمان پر بادل چھاگئے اوربارش ہونے لگی یہاں تک کہ لوگ مسجد کے خراب ہونے سے خوفزدہ ہوگئے اس وقت ابو طالب نے اپنا قصیدہ ٔ لامیہ (جس کے ہر شعر کے آخر میں لام ہے) پڑھا جس کامطلع ہے :
وابیض یستسقی الغمام بوجہہ
ثمال الیتامیٰ عصمة للارامل
پھراس قصیدے کے بقیہ اشعارنقل کئے ہیں۔

مختصر یہ کہ جناب ابوطالبؑ کے اشعار عرب کے مورخین اور ادباء دونوں نے اپنی اپنی کتابوں میں محفوظ رکھے ہیں۔ ان اشعار کا کتابوں اور عربوں کے درمیان محفوظ رہنا ان کے معیاری ہونے کی دلیل ہے۔ شاعر کا کلام نہ صرف یہ کہ اس کے عقیدہ کا پتہ دیتے ہیں بلکہ ان سے اس کے فکر کی بلندی کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے۔ جناب ابوطالبؑ کے اشعار سے آپؑ کے موحّد اور موءمن ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ پیغمبرِ اکرم سے آپؑ کی محبت اور عقیدت مندی کا بھی پتہ چلتا ہے۔

جناب ابوطالب کے نعتیہ اشعار” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.