807

شہادت امیر المومنین علیہ السلام….اوراس کا حقیقی پس منظر

Print Friendly, PDF & Email

۱۹ رمضان المبارک سن ۴۰ ئجری کو  بوقت نماز صبح ایک ایسا دلدوز واقعہ رونما ہوا جسے مسلمانوں کی تاریخ آج تک نہیں بھلا پائ۔

مسجد کوفہ کے محراب عبادت میں ایک خارجیملعون نے مسلمانوں کے حاکم وقت اور خلیفئہ رسولؐ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سراقدس پر حالت نماز میں ایک ایسی ضرب لگائ کہ آپ کی ریشِ مبارک خون سے تر ہوگئ۔ اس ملعون نے اپنی تلوار کو ایسے خطرناک زہر میں بجھایا تھا کہ آپؑ کے زخمی سر پر بندھی ہوئ پٹی اور چہرہ مبارک دونوں یکساں زرد ہو گئے تھے۔ آپؑ پر زہر کا اثر اس قدر شدید ہوا کہ اس کے نتیجے میں دو دن بعد 21 رمضان سن 40 ہجریکو آپ کی شہادت واقع ہوگئ۔ اس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ پیشن گوئ سچ ثابت ہوئ کہ “اے علیؑ! تم کو ماہ رمضان میںشہید کیا جائے گا۔

اس بات پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو شقی ترین عبد الرحمان ابن ملجم مرادی لعنت اللہ علیہ نے شہید کیا۔ اس شخص کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ یہ ایک خارجی تھا جس نے ایک عورت کے اکسانے پر اور جنگ نہروان میں قتل ہونے والے خوارج کے خون کا بدلہ لینے کے لیے اس فعل کو انجام دیا تھا۔ جنگ نہروان میں حضرت علی علیہ السلام کے لشکر کے ہاتھوں بہت سے خوارج مارے گئے اور بہت سے میدان سے بھاگ نکلے انھیں میں سے ایک ابن ملجم لعنت اللہ علیہ بھی تھا۔ یہ حقائق تو ایک عام تاریخ کا حصہ ہیں، اور سب اس کے قائل ہیں۔ مگر اس کے ساتھ کچھ اور باتیں بیان کی جاتی ہیں کہ خوارج نے صرف علیؑ ہی کے قتل کا منصوبہ نہیں بنایا تھا، بلکہ ان کے نشانے پر شام کا باغی معاویہ ابن ابی سفیان اور اس کامشیرِ خاص عمرو بن عاص بھی تھا۔ ان دونوں کو قتل کرنے کی سازش بھی خوارج نے اسی دور میں رچی تھی۔ اس طرح ان تین خارجیوں نے مل کر منصوبہ بندی کی تھی کہ ماہ رمضان کی 11، 13، 17 یا 19 تاریخ میں سے کسی تاریخ کو موقع پاکر اپنے منصوبے پر عمل کرتے ہوے حملہ کریں گے. یہ روایت کچھ اختلاف کے ساتھ  تاریخی کتابوں میں نقل ہوئ ہے۔ ان میں تاریخ طبری، تاریخ یعقوبی، طبقات ابن سعد وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔

جسکا خلاصہ یہ ہے “عبد الرحمن بن ملجم مرادی نے مکہ میں دوسرے دو خارجیوں برک ابن عبد اللہ اور عمرو بن بکر تمیمی سے ملاقات کی۔ ان لوگوں نے اس وقت کی اسلامی دنیا کی تین بڑی شخصیتوں علیؑ بن ابی طالبؑ، معاویہ بن ابی سفیان اور گورنر مصر عمرو بن عاص کو مسلمانوں کے موجودہ حالات کا ذمہ دار قرار دیا اور اپنے وقت کی “ناپسندیدہ صورت حال” کو حل کرنے کے لیے، ان تین اشخاص کو قتل کرنے اور اپنے اصحاب نہروان کے قتل کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ دراصل حضرت علیؑ بن ابی طالبؑ پر حملہ کرنے اور قتل کرنے کی محرک نہروان کی وہ خاتون بنی جس سے ابن ملجم کو محبت تھی، اس عورت کا باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔ اس خاتون نے اس شرط پر شادی کی حامی بھری کہ ابن ملجم علیؑ بن ابی طالبؑ کو قتل کر دے۔ چنانچہ  مسجد کوفہ میں ابن ملجم نے حضرت علیؑ پر حملہ کیا، جس سے وہ شہید ہو گئے۔

وہیں شام میں نماز صبح کے لیے معاویہ نے کسی اور کو نماز کی اقتدا کے لیے بھیجا تھا جو برک بن عبد اللہ خارجی کا شکار بنا اور معاویہ بچ گیا۔

تیسرا شخص عمرو بن بکر جو مصر کے گورنر ابن عاص کو قتل کرنے کے لیے گیا تھا وہ بھی اپنے کام میں ناکام رہا اور عمر بن عاص بھی بچ گیا۔”

یہ روایت کئ عقلی و علمی وجوہات کی بنا پر غیرقابل قبول ہے۔

– اول یہ کہ عمرو بن عاص کے بچ نکلنے کا جو سبب بیان کیا گیا ہے وہ انتہائ مضحکہ خیز  اور احمقانہ ہے(جسے یہاں بیان کرنا غیر ضروری ہے)

– دوسرے یہ کہ برک ابن عبد اللہ کا معاویہ کے بدلے کسی اور کو قتل کرنا بھی شک سے خالی نہیں ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نے معاویہ کو پہچاننے میں غلطی کردی ہو۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب معاویہ نے ہو بہو اپنی چال ڈھال والے شخص ہی کو مسجد بھیجا ہو تاکہ وہ اس کے بدلے قتل ہوجاے، پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ احتیاطی تدابیر کس بنیادپر اختیار کی گئیں۔اس طرح کے کئ دیگر سوالات اور شبہات کا تاریخ کے پاس کوئ جواب نہیں ہے۔

ان باتوں سے قطع نظر کرتے ہوے یہ سوال بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ آخر علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی شہادت کے ساتھ ساتھ معاویہ پر حملہ ہونے کی بات کیوں بیان کی گئ؟ آخر یہ منگھڑت داستان کیوں بیان کی گئ؟ اس میں وہی سازش نظر آتی  ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے سلسلے میں بیان کی جاتی ہے۔ کہ آنحضرتؐ کو ایک یہودی عورت نے جنگ خیبر کے دوران زہر دیا تھا جس کی بنا پر  آپؐ کی شہادت واقع ہوئ۔ جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ دراصل ان لوگوں کا منشا یہ تھا کہ اس طرح کی باتیں بیان کی جائیں جن سے حقیقی قاتل پر پردہ ڈالا  جاسکے۔ چنانچہ روایت کی نوعیت ویکسانیت بتاتی ہے کہ ایک ہی جیسے کارخانہ سیدونوں مال بن کر منظر عام پر لایا گیا ہے۔ تاکہ امیر المومنین علیہ السلام کے حقیقی قاتلوں پر پردہ ڈالا جا سکے تاکہ لوگ اس پورے معاملے میں صرف خوارج کو ہی قتل امیر المومنین علیہ السلام کا ذمہ دار سمجھیں اور اس طرح حقیقی قاتل تک کسی کا ذہن نہ جاسکے۔یہاں تک تو سب پر یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت علیؑ کے قتل کو ابن ملجم لعنت اللہ علیہ نے انجام دیا ہے۔ مگر اس قتل میں ایک ایسی بڑی طاقت براہ راست ملوث ہے جس نے اس قتل کے لیے زمین ہموار کی ہے۔ اور وہ ہے شام کا باغی اور دشمن علیؑ معاویہ ابن ابی سفیان لعنت اللہ علیہ حضرت علی علیہ السلام کے قتل میں معاویہ اور اس کا مشیر عمرو بن عاص دونوں شامل ہیں۔ ان دونوں کے نام بطور قاتل امیر المومنین منظر عام پر نہ آجائیں اس لیے یہ منگھڑت داستان بیان کی گئ ہے۔

اس موضوع پر مرحوم علامہ  سید سعید اختر رضوی رضوان اللہ علیہ نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ ان کا یہ مقالہ کتاب ‘اتمام حجت’ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس مقالے میں آپ نے قتل امیر المومنین میں معاویہ کے کردار پر گفتگو کی ہے۔ اس میں یہ بات بیان کی گئ ہے کہ معاویہ ہی نے اپنے نمک خواروں کے ذریعے امیر المومنین کی شہادت کے لیے راستہ ہموار کیا تھا جس طرح اس نے سبط اکبر امام حسن علیہ السلام کو زہر دینے کے لیے ان کی بیوی جعدہ کو اکسایا تھا۔ اس ملعونہ کا باپ اشعث بن قیس الکندی معاویہ کا نمک خوار تھا اور مولا علیؑ کا دشمن تھا۔ اسی اشعث نے 19 رمضان کی رات کو ابن ملجم ملعون کو قتل امیر المومنین کے لیے تیار کیا تھا۔ (جلاء العیون جلد 1 صفحہ 288) اتنا ہی نہیں تاریخ کی کتابوں میں یہ بات بھی درج ہے کہ معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر سن کر خوشی منائ اور اپنی کمین گاہ پر گانا بجانا کیا۔ یہی مولا علیؑ کا وہ دشمن ہے جس نے منبروں سے امیرالمومین علیہ السلام پر سب و شتم کرنے کا سلسلہ شروع کروایا جو دور حکومت بنی امیہ میں ہوتا رہا۔ کیا اس جانی دشمن کی مکاریاں،معاندانہ اقدامات کو بهلا  قتل علیؑ کی سازش سے الگ کر سکتے ہیں۔ شام کے باغی پر،اس کے باپ ابو سفیان پر، اس کے بیٹے یزید پر اور اس کے خبیث خاندان بنی امیہ پراللہ تعالی کی بد ترین لعنت ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.