711

’’علیکم بِسُنّتی‘‘ والی حدیث کے کیامعنٰی ہیں؟

Print Friendly, PDF & Email

(۱)   اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

والذینِ یبلِّغونَ رسالاتِ اللہ و یَخشَوْنَہُ وَلاَ یَخْشَوْنَ اَحَداً اِلاَّاللہ و کفٰی بِاللہِ حَسِیْباً:

وہ لوگ جو اللہ کا پیغام پہونچاتے ہیں۔ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اس کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور حساب لینے کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔

(سورۂ احزاب؍آیۃ۳۹)

(۲)   امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

جب خدا کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے دل میں ایک سفید نقطہ لگا دیتا ہے۔ پس وہ دل حق کو ڈھونڈنے لگتا ہے۔ پھر وہ تمہارے عقیدے کی طرف آنے میں گھونسلے کی طرف لوٹنے والے پرندے سے بھی زیادہ جلدی کرتا ہے۔

(بحارالانوار جلد۵؍صفحہ۲۰۴)

مذکورہ بالا آیت و روایت کی روشنی میں اس کالم میں سوالات پیش کرنے کا صرف مقصدیہ ہے کہ حقائق سے باطل کی تاریک اور دبیز پردوں کو اٹھایا جا سکے تا کہ واضح طور سے حق، باطل سے الگ ہو سکے، جو اللہ و رسولﷺ اور اہلِ بیتِ رسول علیہم السلام کا مذہب ہے اِسی کی پیروی و اطاعت کریں، اس لئے تمام عالم اسلام سے میری التماس ہے کہ اس کالم میں ہر ہفتہ پوچھے جانے والے سوال پر غور فرمائیں تحقیق کریں اور غیر جانب دار ہو کر فیصلہ کر کے صرف اللہ سبحانہٗ تعالیٰ سے ڈرنے کا ثبوت پیش کریں۔ روزِ قیامت کا مالک اور حساب لینے ولا بھی وہی ہے۔ اللہ ہم سب کی توفیق و ہدایت فرمائے۔ آمین۔

سوال 1:  ۔ عالم اسلام کے محدثین کہتے ہیں کہ

(ا)    سب سے صحیح حدیث وہ ہے جسے امام بخاری اور امام مسلم نے  نقل کیا ہے۔

(۲)   دوسرے نمبر وہ حدیث جسے صرف امام بخاری نے نقل کیا ہے۔

(۳)   اس کے بعد وہ حدیث جسے صرف امام مسلم نے نقل کیا ہے۔

(۴)   اس کے بعد وہ حدیث ہے جسے اگرچہ بخاری و مسلم نے نقل نہیں کیا ہے لیکن وہ بخاری ومسلم کی شرائط پر پوری اُترتی ہے۔ غرض یہ کہ صحاح سِتّہ میں درج ہونے والی احادیث صحیح حدیث ہیں اس لئے کہ صحیح کتاب میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ:

حدیث علیکم بِسُنّتی و سنّۃِ الخلفاء الراشدین من بعدی (تم میری سنّت کی پیروی کرو اور میرے بعد خلفائے راشدین کی سنّت پر عمل کرو۔)یہ حدیث نہ صحیح بخاری میں ہے، نہ صحیح مسلم میں ہے، اور یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر بھی پوری نہیں اُترتی، اسی لئے امام حاکم نیشاپوری متوفی ۴۰۵ھ؁ نے اسے مستدرک علی الصحیحین میں بھی نقل نہیں کیا۔ اور جہاں نقل بھی ہوتی ہے اس کے سارے سلسلے مجروح اور ضعیف ہیں جو تحقیق کر یگا اسے معلوم ہو جائے گا اور جس مقصد کے لئے خلیفۂ دوم نے رسول اللہ ﷺ کو دستاویز لکھنے سے روکا تھا اسی مقصد کی تکمیل کے لئے انھوں نے احادیث کو جمع کرنے اور سنّتِ پیغمبرؐ کو یکجا کرنے کو منع کیا تھا۔ جب سنّت موجود ہی نہیں تھی۔ اور احادیث بیان کرنے پر پابندی تھی۔(شیخ محمودریہ مصری، اضواء علی السنّۃ المحمدیّۃ صفحہ ۵۳) تو پھر ’’علیکم بِسُنّتی‘‘ والی حدیث کے کیامعنٰی ہیں؟

کیا اس طرح کی حدیث ضعیف اور جعلی روایت پر کسی مذہب کی عمارت قائم ہو سکتی ہے؟

دوسری حدیث جسے بہت تاکید کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے وہ ہے: ’’اِنّیٖ تارک فیکم الثقلین……کتابُ اللہ و سُنَّتی‘‘

رسولؐ اللہ نے فرمایا! میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں……ایک اللہ کی کتاب دوسرے میری سُنّت۔!!

یہ حدیث پہلی والی سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ اس لئے کہ:

۱۔     کتابُ اللہ و سنّتی والی حدیث ’’صحاح سِتّہ‘‘ کی کسی بھی کتاب میں موجود نہیں ہے۔

۲۔     حدیث کی کتاب صواعق محرّقہ میں اسے’’حدیث مرسل‘‘ کے طور پر نقل کیا گیا ہے۔ اور سیرت ابن ھشام میں اس کی سند ناقص ہے۔ ابن ھشام نے لکھا ہے کہ انھوں نے یہ حدیث سیرت ابن اسحاق سے نقل کی ہے مگر یہ ابن اسحاق کے کسی نسخہ میں موجود نہیں ہے۔

۳۔     امام مالک نے اسے بغیر سند کے بیان کیا ہے۔

آپ غور فرمائیں جب اس حدیث کی سند ہی نہیں ہے تو بے سند کی حدیث پر اعتماد کرنا کیسے صحیح ہو گا؟

امام مالک کے استاد امام ابو حنیفہ نے بھی یہ روایت بیان نہیں کی اور امام مالک کے شاگردوں امام محمد بن ادریس شافعی اور امام احمد بن حنبل نے بھی یہ روایت نہیں کی ہے؟ تو اگر یہ حدیث صحیح ہوتی توائمہ حدیث اور ائمہ مذاہب اسے ضرور نقل کرتے!!!

اور اس کے مقابلہ میں حدیث ثقلین’’ کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی‘‘ والی حدیث بین الفریقین معتبر کتابوں میں موجود ہے۔ اسے صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور بے شمار محدثین نے نقل کیا ہے۔

اب آپ خود ہی فیصلہ کریں اور تحقیق فرمائیں کہ کس حدیث ثقلین کو تسلیم کریں؟

اصلی حدیث ثقلین یا نقلی حدیث ثقلین کو؟؟

اللہ  ہم سب کی صحیح رہنمائی فرمائے۔آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.