513

شیعہ پوچھتے ہیں

قُراٰن کریم کی سورہ احزاب کی یہ مشہور آیت ہے جس میں الله مؤمنین کو یہ حکم دے رہا ہے کہ میرے حبیبؐ پر صلوات پڑھا کرو. اس آیت کی تفسیر کو اہل تسنّن کی کتابوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:-

عن كعب بن عجزة قال:
كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه و آله إذ جاء رجل فقال: قد علمنا كيف نسلم عليك يا رسول الله فكيف نصلي عليك؟
قال: «قولوا: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد، اللهم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد»

کعب بن عجزہ روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللّه صلی اللّه علیہ و آ لہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص نے ان سے سوال کیا:- ” ہم یہ تو جانتے ہیں کہ آپؐ کو سلام کیسے کریں۔ مگر (یہ نہیں جانتے کہ) آپؐ پر ہم صلوات کس طرح پڑھیں؟ انحضرتؐ نے جواب دیا: ” اس طرح کہا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔”

حوالے: صحيح البخاري، كتاب بدء الخلق، باب يزفون النسلان في المشي ۲: ۱۵۹- ۱۶۰؛ وكتاب التفسير، تفسير سورة الأحزاب، باب قوله تعالى: «انَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ» ۳: ۱۱۹؛ وكتاب الدعوات، باب الصلاة على النبي صلى الله عليه و آله ۴: ۷۲؛ وصحيح مسلم، كتاب الصلاة، باب الصلاة على النبي صلى الله عليه و آله بعد التشهد ۱: ۳۰۵ ح ۶۶؛ وسنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب الصلاة على النبي صلى الله عليه و آله بعد التشهد ۱: ۲۵۷ ح ۹۷۶؛ وسنن الدارمي، كتاب الصلاة، باب الصلاة على النبي ۱: ۳۰۹؛ وسنن النسائي، كتاب السهو، باب كيف الصلاة على النبي صلى الله عليه و آله ۳: ۴۷، ۴۸؛ وسنن الترمذي، كتاب الصلاة، باب ما جاء في صفة الصلاة على النبي صلى الله عليه و آله ۲: ۲۶۸؛ وسنن ابن ماجة، كتاب إقامة الصلاة، باب الصلاة على النبي صلى الله عليه و آله: ۲۹۳ ح ۹۰۴؛ ومسند أحمد ۴: ۲۴۱، ۲۴۳، ۲۴۴؛ وتفسير الطبري ۲۲: ۳۱؛ وتفسير القرطبي ۱۴: ۳۳۴؛ وتفسير الدرّ المنثور ۵: ۲۱۵- ۲۱۶؛ وكنز العمال ۲: ۱۸۰؛ وتفسير ابن كثير ۳: ۵۰۷

اس طرح کی اور بھی روایات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آ لہ سے جب پوچھا گیا کہ آ پ پر صلوات کس طرح پڑھا جاۓ تو آنحضرتؐ نے جواب میں اپنے ساتھ اس صلوات میں اپنی آل پاک کو بھی شامل کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ رسول الله نے اپنے ساتھ صرف اپنی آلِ پاک کو شامل کیا. پھر یہ فقرہ”صلی الله علیک یا رسول الله و علی آلک و اصحابک”جو مسلمان دہراتا ہے اِس میں “اصحابک” کیوں اضافہ کیا گیا ہے.

قرآن نے تو صرف اہلبیتؑ کی طہارت کی گواہی دی ہے. اوپر بیان کی ہوئ حدیث میں بھی اصحاب کا فقرہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی اور نبی کے اصحاب پر صلوات پڑھی گئی۔ پھر صلوات میں اس فقرہ کا اضافہ کیوں؟؟

کیا اصحاب رسولؐ نے بھی اِس طرح صلوات پڑھی ہے؟ اور اگر نہیں پڑھی تو کیا یہ اضافہ بدعت نہیں ہے؟ ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.