Sahaba 348

صحابہ کو برا بھلا کہنے کا رواج کس نے شروع کیا؟

Print Friendly, PDF & Email

اکثر و بیشتر شیعوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ خلفاء کو برا بھلا کہتے ہیں۔ پھر ان کی تائید میں ان کے نام نہاد مفتی یہ فتویٰ بھی دے دیتے ہیں کہ شیعہ دین سے خارج ہیں اور کافر ہیں۔ یہ بات سراسر غلط بیانی پر مبنی ہے اس بات پر مفصل بحث کی ضرورت ہے۔ تاریخی حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ خود صحابہ ایک دوسرے کو خوب برا بھلا کہتے تھے مگر اس کے باوجود بھی اہل تسنن علماء ان میں سے کسی ایک کو بھی اس وجہ سے کافر یا مرتد نہیں کہتے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تاریخ اسلام میں ایسا بھی دور گزرا ہے جب خود سرکاری طور پر رسولؐ اکرم کے خانوادے پر لعنت کی گئ ہے۔ دور حاضر کے مفتیوں کی یادداشت سے شاید یہ بات خارج ہو چکی ہے لہذا اس مضمون میں ہم اس فعل قبیح کے موجد اسلام دشمن ناصبی کی کچھ عناد پرستی کی نشاندہی کریں گے ۔

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا [سوره الفتح: 29]

سورہ مبارک الفتح کی یہ آیت سرورِ کائنات (ص) کے ساتھیوں کی صفات بیان کر رہی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو کفّار کے لیے تو سخت تھے مگر آپس میں ایک دوسرے کے لیے ان کے دلوں میں رحم پایا جاتا تھا۔ ان کو اکثر و بیشتر اللہ کی عبادت کرتے دیکھا جاتا تھا جس کے ذریعے سے وہ خدا کے فضل کے مشتاق ہوتے۔ یہ وہ افراد ہیں جن کا ذکر نہ صرف یہ کہ قرآن میں بلکہ انجیل اور توریت میں بھی موجود ہے۔

قرآن میں اس طرح کی اور بھی آیتیں موجود ہیں جن میں پیغمبرؐ اسلام کے ساتھیوں کی مدح سرائ کی گئ ہے۔ کہیں پر ان کو ‘سابقون’ اور ‘مقربون’ کہا گیا ہے تو کہیں ان کو ‘رضی اللہ عنہ’ کہا گیا ہے۔ قرآن کی نظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان ساتھیوں کا اسلام کے لیے جاں نثاری اور قربانی کا جزبہ بے حد قابل احترام ہے۔ اسلامی دستاویز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان ساتھیوں کو ‘اصحاب رسولؐ’ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

رسول اللہ (ص) کے ان ساتھیوں میں مکے کے مہاجرین اور مدینے کے انصار دونوں شامل ہیں۔ ان تمام مخلص افراد میں سب سے اہم فرد رسول اللہ (ص) کے پروردہ، ان کے چچازاد بھائ اور داماد حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ ہیں۔ آپؑ نے دس سال کی عمر سے مرتے دم تک اسلام کی خدمت کی۔ اسلام کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں، مشرکین اور یہودیوں سے اسلام کی خاطر جنگیں لڑیں اور عرب کے بڑے بڑے سورماوں کو ڈھیر کیا۔ خطمی مرتبت (ص) کی زندگی میں ہر معرکے پر آگے آگے رہے اور ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد جب آپؑ کا حقِّ خلافت غصب کر لیا گیا تو آپؑ نے اسلام اور مسلمانوں کی خاطر خاموشی اختیار کرلی حالانکہ ان کے لیے ایسا کرنا بہت مشکل تھا۔ (ملاحظہ کیجیے خطبہ شقشقیہ)

آخر کار جب مسلمانوں نے حضرت علی علیہ السلام کو خلافت کے لیے منتخب کیا تو کچھ دنیا پرست لوگوں نے ان کی بیعت توڑ دی اور ان کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ انھیں میں شام کا باغی معاویہ ابن ابی سفیان بھی تھا۔ یہی وہ شخص تھا جس نے خلیفئہ بر حق علیؑ ابن ابی طالبؑ کے خلاف جنگ کی جس میں کئ ہزار مسلمان لقمہ اجل بن کئے۔ یہی وہ شخص تھا جس نے حضرت علی علیہ السلام کے خلاف سب و شتم کے رواج کا آغاز کیا جو کئ برسوں تک اموی حکومتوں میں رائج رہا۔
(تاریخ الخلفاء، ص ۲۴۳)

اس لعن و طعن کو بنی امیہ نے اپنی حکومت کی بنیاد بنا رکھی تھی۔ چنانچہ جب مروان بن حکم سے سوال کیا گیا کہ منبروں پر سے علیؑ کو ناسزا باتیں کیوں کہی جاتی ہیں؟
تو اس ملعون نے جواب دیا :بنی امیہ کی حکومت علیؑ کو گالیاں دئے بغیر استوار نہیں رہ سکتی ہے۔
(بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص ۱۸۴)
• معاویہ کہتا تھا: علیؑ پر لعن و سب اس طرح پھیل جانا چاہیئے کہ بچے اسی شعار کے ساتھ بڑے ہوں اور جوان اسی کے ساتھ بوڑھے ہوں۔کوئی شخص ان کی ایک بھی فضیلت نقل نہ کرے۔
(ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج ۴، ص ۵۷؛ العمانی، النصایح الکافیہ، ص ۷٨)
• اس نے صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت بنائی جو حضرت علی علیہ السلام کی مذمت میں روایات کو جعل کرتے۔ ان میں سے ابوہریره، عمرو بن عاص، مغیره بن شعبہ اور عروه بن زبیر سر فہرست تھے ۔
• اس دور کے ہر امام جمعہ پر یہ لازم تھا کہ ہر جمعہ کے خطبے کے آخر میں حضرت علی علیہ السلام پر لعن کرے اور اگر کوئ خطیب ایسا نہ کرتا تو اسے معزول کر دیا جاتا تھا۔
• معاشرے میں حضرت علیؑ کے خلاف اور ان کے شیعوں کے متعلق اس قدر خوف و ہراس پیدا کر دیا گیا کہ لوگ اپنے بیٹوں کے نام علی نہیں رکھتے تھے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اہل تسنن کو یہ بات تو گراں گزرتی ہے کہ شیعہ ان کے پہلے تین خلفاء کو برا بھلا کہتے ہیں مگر جب ان ہی کے چوتھے خلیفہ حضرت علیؑ کا معاملہ آتا ہے تو ان پر لعن و طعن کرنے کی ابتداء کرنے والے معاویہ کو وہ ‘خال المومنین’ کہتے ہیں۔ نہ اس کے اس عمل سے بیزاری کرتے ہیں اور نہ ہی اسے صاف صاف برا کہتے ہیں۔ جس شخص نے حضرت علیؑ جیسے جلیل القدر صحابی، مجاہد اسلام، خطیب منبر رسولؐ، عالم و مفسر قرآن، خلیفئہ راشد کو نہ صرف یہ کے خود برا کہا بلکہ ٧١ سال تک اس کو اسلامی معاشرے کا رواج بنایا اس کے بارے میں تو اہل تسنن سکوت اختیار کرتے ہیں۔لہذا اہل سنت علماء وخطبا کو اپنے سننے والوں کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ سب سے پہلے جس شخص نے صحابہ اور خلفاء کو لعن طعن کرنے کا رواج قائم کیا وہ معاویہ تھا اور اس کے اس عمل کو کفر بتا کر اسے اور اس کی پیروی میں حضرت علیؑ کو برا کہنے والے تمام افراد کو ‘خارج از اسلام’ اور کافر ہونے کا اعلان کریں۔ جس طرح شیعوں کو صحابہ کے بارے میں برا کہنے پر کافر کہتے ہیں۔

حکیم امت شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
اے اہلِ نظر! ذوقِ نظر خوب ہے، لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.