Be wafa 433

امام حسین علیہ السلام پر گریہ کرنے کی فضیلت: امام علی رضا علیہ السلام کی زبانی

قال الرضا علیہ السلام:
يَا ابْنَ شَبِيبٍ إِنْ كُنْتَ بَاكِياً لِشَيْ‏ءٍ فَابْكِ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
اے فرزند شبیب! اگر تمہیں کسی چیز پر رونا آئے تو فرزند رسولؐ حسینؑ ابن علیؑ پر گریہ کرو۔

امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کا ایک لقب ‘غریب الغربا’ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپؑ کو بادشاہ وقت نے اپنے وطن مدینے سے بہت دور ایران میں رکھا جہاں آپ اپنے اہل و عیال اور احباب سے دور یکہ و تنہا ہوگئے۔ آپؑ کو بنی عباس جو اہلبیت کے دشمن تھے، کے درمیان زندگی گزارنی پڑی۔ ایسے پرآشوب حالات میں آپؑ نے دین اہلبیتؑ کی تبلیغ فرمائ اور بنی عباس کے کچھ نیک و صالح افراد آپؑ کے شیعہ بن گئے۔ انھیں افراد میں ایک مشہور نام جناب ریان بن شبیب کا ہے جو ایک قول کے مطابق خلیفہ مامون رشید کے ماموں تھے۔ حضرت نے ان کو بہت سے رموز اہل بیت سکھائے جن کو ابن شبیب نے روایت بھی کیا ہے۔ ان احادیث میں ایک بہت ہی مشہور روایت یہ ہے کہ فرزند رسولؐ نے ابن شبیب سے اپنے جد مظلوم، شہید کربلا کے مصائب بیان کیے اور ان کا غم منانے کی نصیحت فرمائ ہے۔ اس روایت کو شیعوں کے جیّد علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اس روایت میں امام نے ایک مومن کو ‘حسینی’ بننے کا سلیقہ بتایا ہے۔ پیش ہیں اس روایت کے کچھ اہم فقرے-

يَا ابْنَ شَبِيبٍ إِنْ كُنْتَ بَاكِياً لِشَيْ‏ءٍ فَابْكِ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع فَإِنَّهُ ذُبِحَ كَمَا يُذْبَحُ الْكَبْشُ
اے فرزند شبیب! اگر تم کسی پر رونا چاہو (اور اس کا غم تم کو رلائے تو پہلے) فرزند رسولؐ حسینؑ ابن علیؑ پر گریہ کرو۔ اس لیے کہ ان کو مظلومی کی حالت میں اس طرح ذبح کیا گیا جیسے کسی بھیڑ کو ذبح کیا جاتا ہے۔

وَ قُتِلَ مَعَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ رَجُلًا مَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ شَبِيهُونَ
(اتنا ہی نہیں بلکہ) ان کے ساتھ ان کے خاندان کے ایسے اٹھارہ افراد کو بھی شہید کیا گیا جن کی دنیا میں کوئ مثال نہیں ہے۔

وَ لَقَدْ بَكَتِ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَ الْأَرَضُونَ لِقَتْلِهِ
ان کی شہادت پر ساتوں آسمان اور زمینوں نے گریہ کیا

وَ لَقَدْ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ لِنَصْرِهِ
سید الشہداء کی نصرت کے لیے چار ہزار ملائکہ آسمان سے زمین کی طرف نازل ہوے

فَوَجَدُوهُ قَدْ قُتِلَ فَهُمْ عِنْدَ قَبْرِهِ شُعْثٌ غُبْرٌ إِلَى أَنْ يَقُومَ الْقَائِمُ فَيَكُونُونَ مِنْ أَنْصَارِهِ وَ شِعَارُهُمْ يَا لَثَارَاتِ الْحُسَيْنِ
مگر جب وہ کربلا پہنچے تو فرزند زہراء قتل کیا جاچکا تھا۔ تب سے یہ ملائکہ ان کی قبر مطہر کی مجاوری کررہے ہیں اور گریہ و زاری میں مصروف ہیں۔ یہ اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب ہمارا قائم قیام کرےگا۔ یہ ان کے لشکر میں شامل ہوں گے۔ ان کا نعرہ ہوگا ‘يَا لَثَارَاتِ الْحُسَيْنِ’

يَا ابْنَ شَبِيبٍ لَقَدْ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ لَمَّا قُتِلَ جَدِّيَ الْحُسَيْنُ أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ دَماً وَ تُرَاباًأَحْمَرَ
اے فرزند شبیب! میرے والد نے اپنے جد سے یہ روایت کی ہے کہ جب امام حسینؑ کی شہادت واقع ہوئ تو آسمان سے خون برسا اور سرخ مٹی برسی ۔

يَا ابْنَ شَبِيبٍ إِنْ بَكَيْتَ عَلَى الْحُسَيْنِ حَتَّى تَصِيرَ دُمُوعُكَ عَلَى خَدَّيْكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ كُلَّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتَهُ صَغِيراً كَانَ أَوْ كَبِيراً قَلِيلًا كَانَ أَوْ كَثِيراً
اے فرزند شبیب! اگر تم حسینِ مظلوم پر اس قدر گریہ کرو کہ تمھارے رخسار آنسوءوں سے تر ہوجائیں تو خدا تمھارے تمام گناہ بخش دے گا خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے کم ہوں یا زیادہ۔

يَا ابْنَ شَبِيبٍ إِنْ سَرَّكَ أَنْ تَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَا ذَنْبَ عَلَيْكَ فَزُرِ الْحُسَيْنَ ع
اے فرزند شبیب! اگر تم چاہتے ہو کہ خدا سے اس حال میں ملاقات کرو کہ تمھارے ذمہ کوئ گناہ نہ ہو تو میرے جد حسین(علیہ السلام) کی زیارت کو جاءو۔

يَا ابْنَ شَبِيبٍ إِنْ سَرَّكَ أَنْ تَسْكُنَ الْغُرَفَ الْمَبْنِيَّةَ فِي الْجَنَّةِ مَعَ النَّبِيِّ ص فَالْعَنْ قَتَلَةَ الْحُسَيْنِ
اے فرزند شبیب! اگر تم چاہتے ہو کہ جنت کے اس اعلی درجے کے مکان میں رہو، جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جوار میں ہے تو حسینؑ کے قاتلوں پر لعنت کیا کرو۔

يَا ابْنَ شَبِيبٍ إِنْ سَرَّكَ أَنْ يَكُونَ لَكَ مِنَ الثَّوَابِ مِثْلَ مَا لِمَنِ اسْتُشْهِدَ مَعَ الْحُسَيْنِ فَقُلْ مَتَى مَا ذَكَرْتَهُ- يا لَيْتَنِي كُنْتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزاً عَظِيماً
اے فرزند شبیب! اگر وہ ثواب حاصل کرنا چاہتے ہو، جو شہداء کربلا کو ملا ہے تو جب بھی ان شہیدوں کی یاد آے تو یہ کہا کرو “يا لَيْتَنِي كُنْتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزاً عَظِيماً” اے کاش میں ان کے ہمراہ (شہید) ہوتا تو عظیم کامیابی حاصل کرلیتا۔

يَا ابْنَ شَبِيبٍ إِنْ سَرَّكَ أَنْ تَكُونَ مَعَنَا فِي الدَّرَجَاتِ الْعُلَى مِنَ الْجِنَانِ فَاحْزَنْ لِحُزْنِنَا وَ افْرَحْ لِفَرَحِنَا
اے فرزند شبیب! اگر تم چاہتے ہو کہ جنت کے اعلی مقام پر ہمارے جوار میں رہو تو ہمارے غم میں غمزدہ ہوجایا کرو اور ہماری خوشی میں خوش ہوا کرو۔

وَ عَلَيْكَ بِوَلَايَتِنَا فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا تَوَلَّى حَجَراً لَحَشَرَهُ اللَّهُ مَعَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ہماری ولایت سے وابستہ رہو کیونکہ کوئ شخص اگر کسی پتھر سے بھی محبت کرے تو اللہ اس کو روز قیامت اس پتھر کے ساتھ محشور کرے گا۔
(أمالي الصدوق المجلس 27- الرقم 5، عيون أخبار الرضا ج 1 ص 299.)

ان بیش بہا جملوں میں امام علی رضا علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کی عزاداری اور ان کی زیارت کا ثواب بیان کیا ہے۔ کچھ لوگ قوم کی خیر خواہی میں یہ فقرے ادا کرتے ہیں کہ کربلا جانا کافی نہیں ہے یا یہ کہ داستان کربلا سن کر رو لینا کافی نہیں ہے، بلکہ کربلا کو اپنی زندگی میں برپا کرنا چاہیے یعنی کربلا کے مقصد کو سمجھے بغیر صرف آنسو بہا لینا بیکار ہے۔ یہ روایت ان کے قول کی تردید کرتی ہے۔ امام علیہ السلام نے پوری روایت میں کہیں اس طرح کی شرط نہیں لگائ ہے۔ بقول امام – مومن جب غمزدہ ہو تو امام حسینؑ کی مصیبت کو یاد کر کے گریہ کرے، صبح و شام ان کے قاتلوں پر لعنت کرے اور ان کی زیارت کو جاے یہی کربلا کو اپنی زندگی میں برپا کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.