عالم اسلام میں شیعہ مکتب فکر کی ایک پہچان عزادار ی امام حسین علیہ السلام ہے ۔
اس سلسلہ میں شیعوں کے یہاں مرثیہ خوانی، نوحہ خوانی اور ماتم داری کا رواج پایا جاتا ہے۔ اس کے لیے محل و مقام کا انتظام بڑے پیمانہ پر کیا جاتا ہے۔ ہر سال ماہ محرم میں سبیلیں لگایا جاتا ہیں اور عزاخانے سجائے جاتے ہیں ، جن میں سیدالشہداءؑ کی عزا برپا کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کی دوسری جماعت یعنی اہل تسنّن کے افراد خصوصاً گروہ وہابی اس ماتم کو بدعت اور کفریہ عمل سمجھتے ہیں جبکہ شیعہ عزاداری کے ہر عمل کو عبادت جانتے ہیں۔ ویسے تو وہابیوں کی بات کی کوئ حیثیت نہیں رہتی کیونکہ ان کے نزدیک ان کے علاوہ تمام اہل اسلام مشرک اور کافر ہیں، تاہم اس مقالہ میں ہم یہ بات پیش کرنا چاہتے ہیں کہ شیعہ حضرات شہداۓ کربلا کا ماتم کیوں کرتے ہیں۔ اس بات سے قطعہ نظر کہ قرآن و احادیث میں اس ماتم کے کیے جانے کا جواز موجود ہے، ہم اس ماتم کو ایک انسانی اور فطری عمل جانتے ہیں۔ اس بارے میں ہمارے مندرجہ ذیل استدلال ہیں۔
دین صرف اللہ کی توحید ، اس کے رسولؐ کا اقرار اور روز جزا پر ایمان رکھنےکا نام نہیں ہے۔ ان تمام چیزوں کا عقیدہ ایک شخص کو مسلمان تو بناتا ہے مگر جنتی نہیں بناتا۔ اگر کوئی مسلمان ان چیزوں پر عقیدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی دین کے فرائض کو پورا کرتا رہے تب بھی اس کی کامیابی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی جب تک کہ اس کے پاس رسولؐ اور آل رسولؑ کی محبت و مودت کا پروانہ نہ ہو۔ یہ بات احادیث نبویؐ سے ظاہر ہے کہ بغیر محبت اہلبیتؑ کسی بھی شخص ک
کا ایمان مکمل ہی نہیں ہوتا۔
اپنی اس بات کے ثبوت کے لیے ہم اہل تسنن کی کتابوں سے دو روایات پیش کر رہے ہیں۔
* عَنْ عَبْدِ الرحمٰن بْنِ أَبِي لَيْلَي عَنْ أَبيْهِ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ (ﷺوآلہ) : لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّي أَکُوْنَ أَحَبَّّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ وَأَهْلِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَعِتْرَتِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ عِتْرَتِهِ. وَذَاتِي أَحَبََّ إِلَيْهِ مِنْ ذَاتِهِ.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (ﷺوآلہ) نے فرمایا : کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی محبوب تر نہ ہو جاؤں اور میرے اہلِ بیت اسے اس کے اہل خانہ سے محبوب تر نہ ہو جائیں اور میری اولاد اسے اپنی اولاد سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جائے اور میری ذات اسے اپنی ذات سے محبوب تر نہ ہو جائے۔‘‘
اہل تسنّن حوالہ جات:
الطبراني في المعجم الکبير، 7 / 75، الرقم : 6416، و في المعجم الأوسط، 6 / 59، الرقم : 5790
والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 189، الرقم : 1505، والديلمي في مسند الفردوس، 5 / 154، الرقم : 7795،
والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 88.
اس طرح کی احادیث شیعوں کے یہاں بھی کثرت سے موجود ہیں۔ پس علامت ایمان یہی ہے کہ مومن کے دل میں محبت رسولؐ اپنے نفس کی محبت سے زیادہ ہو اور محبت اہلبیتِؑ رسول اپنے اہل خانہ کی محبت سے زیادہ ہو اور یہ محبت خود اس مومن کی کامیابی اور جنّتی ہونے کے لیے ضروری ہے۔
دوسری حدیث:
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ علیہما السلام : أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ (ﷺوآلہ) قَالَ : الْزِمُوْا مَوَدَّتَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَإِنَّهُ مَنْ لَقِيَ اللهَ عزوجل وَهُوَ يَوَدُّنَا، دَخَلَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِنَا. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَنْفَعُ عَبْدًا عَمَلُهُ إلَّا بِمَعْرِفَةِ حَقِّنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
حضرت حسین بن علی علیہماالسلام بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ﷺوآلہ) نے فرمایا : ہم اہلبیتؑ کی محبت کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ جو شخص اس حال میں اللہ سے (وصال کے بعد) ملا کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہو تو وہ ہماری شفاعت کے وسیلہ سے جنت میں داخل ہوگا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں مجھ محمدؐ کی جان ہے ، کسی بھی شخص کو اس کا عمل ہمارے حق کی معرفت حاصل کئے بغیر فائدہ نہیں دے گا۔‘‘
اہل تسنّن حوالے:
الطبراني في المعجم الأوسط، 2 / 360، الرقم : 2230،
الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 172.
اس روایت میں آنحضرتؐ کی تاکید ہے کہ میرے اہلبیتؑ کی محبت کو اپنے لیے لازم قرار دو۔ اگر کسی مسلمان نےایسا نہ کیا تو اس کا کوئ عمل اسے کوئ فائدہ نہ پہنچائے گا۔ جب یہ بات واضح ہوگئ کہ اہلبیتؑ نبیؐ کی محبت دین کا اہم جز ہے بلکہ دین کی بنیاد اور اساس ہے تو ہر وہ عمل جو اس محبت کو ظاہر کرے ایک مستحسن اور مستحب عمل سمجھا جائے گا۔ مندرجہ بالا احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان کی علامت ہی یہ ہے کہ ایک مومن اپنے نفس سے زیادہ اور اپنے اہل و عیال سے زیادہ رسولؐ اور آل رسولؐ سے محبت کرے۔ پس اگر ہم کو ہمارے اہل خانہ کی مصیبت اور ان کا غم بے قرار کردیتی ہے تو اس سے زیادہ بے قراری ہمیں اہلبیتِؑ رسولؐ کے غم اور مصیبت میں ہونا چاہیے۔ اگر اپنے عزیز کی موت یا جدائ ہمیں بے قرار کردیتی ہے اور ہماری آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہا دیتی ہے تو اہلبیتِؑ پیغمبرؐ کا غم بھی ہمیں اس قدر مغموم کرتا ہے کہ ہماری آنکھیں رونے لگتی ہیں۔ امام حسینؑ اور ان کے گھر والوں کا کربلا کے تپتے صحرا میں تین دن تک بھوکا اور پیاسا محبوث رکھا جانا ، رسولؐ اسلام کی آل پاک سے امت کی دغابازی اور یزید پلید کا ساتھ دینا، ایک دوپہر میں خاندان رسالت کے اٹھارہ افراد کا شہید کر دیا جانا حتی’ کہ ششماہے علی اصغر تک کو تین پھل کے تیر سے شہید کردیا جانا، ہم شکل پیمبرؐ علی اکبر کے سینے کو زخمی کر کے شہید کیا جانا، تیرہ سال کے قاسم کو زندہ گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کر دیا جانا, حسین مظلوم کو بے دردی سے شہید کیا جانا، ان کے ۰جسد پاک سے ان کے سرِ مبارک کو جدا کر کے نیزے پر چڑھانا، ان کی لاش کو پامال کرنا، ان کے اہل حرم کو قیدی بنانا ، ان کے مال و اسباب کو لوٹ لینا، رسول زادیوں کو قیدیوں کی طرح اس طرح رسن بستہ کرنا کہ ان کے ہاتھ ٘پس گردن بندھے ہوں، رسولؐ کے گھر کی عورتوں اور ان کے بچوں کو بازاروں اور درباروں میں پھرانا کیا ان مظالم کو سن کر انسان کا سینہ غم سے پھٹ نہیں جاتا ، کیا امت کا اس طرح رسولؐ کی آل سے برتاو کرنا رسول اکرم (ﷺوآلہ) کو غم زدہ اور محزون نہیں کرتا؟ اگر شیعہ ان مظالم کو سن کر ماتم کرتے ہیں تو صرف اس لیے کہ ان کو رسول اسلام (ص)سے ہمدردی ہے اور یقیناً یہ ان کے اعلیٰ ایمان اور خاندانِ رسولؐ سے محبت کی علامت ہے۔
کتاب نہج البلاغہ میں امیرالمومنین کے ایک خطبہ کا یہ ٹکڑا شیعہ نقطہ نظر کو اور واضح کرتا ہے۔ امیرالمومنین جب مسلمانوں پر حکومت کررہے تھے، اس وقت یزید ملعون کا باپ ملعون باغی معاویہ ان کے سرہدی علاقوں میں اپنے لشکر کے دہشت گردوں کو بھیجتا تھا جو ان کمزوروں اور بے بس نہتّے گاوں والوں پر حملہ کرتے اور ان کے مال و اسباب لوٹ لیتے۔ اسی طرح معاویہ کے لشکر کے لوگوں نے کوفہ کے سرہدی علاقہ انبار میں رات کو حملہ کیا۔ جب اس کی اطلاع امیرالمومنین کو ملی تو آپؐ نے ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے فرمایا:
: و قد بلغني أن الرجل من أعدائكم كان يدخل بيت المرأة المسلمة و المعاهدة فينتزع خلخالها من ساقها ، و رعثها من أذنها فلا تمتنع منه ، ثم انصرفوا و افرين لم يكلم منهم رجل كلمة ، فلو أن أمرءا مسلمًا مات من دون هذا أسفًا ما كان عندي ملومًا بل كان عندي به جديرًا
“(اے لوگو!!….)مجھے خبر ملی ہے کہ تمھارے دشمنوں نے انبار میں حملہ کیا ہے اور انھوں نے ایک مسلمان عورت اور ذمی عورت کے گھر میں گھس کر ان کے سروں سے چادر چھین لی اور ان کے کان سے گوشوارے اتار لیے ….اگر کوئ مسلمان اس بات کو سن کر کسی مسلمان کو اتنا صدمہ ہو کہ وہ افسوس کی حالت میں مرجائے تو میرے نزدیک اس پر کوئ ملامت نہیں ہوگی بلکہ اس شخص کا وہ عمل قابل تحسین ہوگا۔”
ایک عام مسلمان عورت کی مصیبت کو سن کر ، بلکہ ایک ذمیہ کی مظلومیت کی داستان سن کر اگر کوئی مسلمان مر جائے تو کوئ ملامت کی بات نہیں ہے۔ ہائے افسوس یہ کیسے مسلمان ہیں کہ جن کو اہلبیتِ رسولؐ کے مصائب سن کر دل نہیں پھٹتا؟ مظلوم کربلا کا یہ حق بنتا ہے کہ مسلمان ان کے مصائب کو سن کر اس قدر مغموم و محزون ہوں کہ نہ صرف یہ کہ گریہ کریں بلکہ اپنے منہ پر طمانچے لگائیں اور اپنے اپنے سر و سینہ پیٹیں۔
رسول الله صلی الله علیه و آله نے بجا فرمایا ہے:
على الحسين فلتشق القلوب، لا الجيوب.
“حسینؑ کے مصائب پر صرف سینہ ہی نہیں بلکہ دل کو پھٹ جانا چاہیے۔”
( ثمرات الأعواد، ج۱، ص۴۱)