عاشوراہ کے قیام کی قدیم(پرانی) روایت ہے
سن 61 ہجری کےدل کو دہلا دینے والے واقعہ عاشورہ کے بعد، سب سے پہلے عینی شاہدین (اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے)
یعنی امام حسین علیہ السلام کے خاندان خصوصاً زینب کبری سلام اللہ علیہا اور حضرت سجاد علیہ السلام نے اس واقعہ کی تاریخ بیان کی۔ بعد میں یہ رپورٹیں خاص طور پر دو آخری دنوں کی نینوا کے میدان میں قیام کی ،مقتل میں بیان کی گئیں۔ یہ رپورٹیں، مبالغہ سے پاک، مشاہدات پر مبنی اور حقیقت و عقلانیت پر قائم تھیں، جن میں بغیر کسی بیرونی جذبات و احساسات کے اضافے کے، خودبخود عاشورا کے واقعہ کی مظلومیت، شجاعت، حماسه اور عرفان کو ظاہر کرتی ہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں مقتل خوانی کی جگہ اہل بیت پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کربلا میں مصائب کے ذکر کی دیگر اقسام نے لے لی ہے، اور مصآئب اور نوحہ و مرثیہ پڑھنے والے کوشش کرتے ہیں کہ خاص اشعار، جذبات کے اظہار اور احساسات کو ابھارنے کے ذریعے واقعہ کو نئے طریقے سے پیش کرنا چاہتے ہیں جو اکثر معتبر نہیں ہوتی ہے اور زیادہ تر ذاتی احوال اور دلچسپیوں پر مبنی ہوتی ہے۔
جبکہ مقتل خوانی کے اپنے مختلف فوائد ہیں، جن میں سب سے کم اہمیت کا حامل حسین کے غم میں عزاداروں کا رونا ہے۔
گزشتہ سالوں میں، رہبر معظم انقلاب نے خود محرم کے مہینے میں نماز جمعہ کے دوران تہران میں سید بن طاووس کی مقتل “لہوف” کے حصے کوپڑھ کر، نوحہ خوانوں اور ذاکرین کو معتبر متون کی طرف رجوع کرنے اور مقتل خوانی کی روایت کو زندہ کرنے کی دعوت دی۔ شاید اسی وجہ سے آج کل ریڈیو اور ٹیلیویژیون پر “مقتل” اور “مقتل خوانی” جیسے الفاظ سنائی دیتے ہیں اور معتبر مقاتل کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت پر بات کی جاتی ہے۔
مقتل اور مقتل خوانی کیا ہے؟
مقتل خوانی، مناقب خوانی، پردہ خوانی، شبیہ خوانی، روضہ خوانی وغیرہ؛ یہ اصطلاحات عام طور پر امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی روایات سے متعلق ہیں۔
شبیہ خوانی جسے تعزیہ بھی کہتے ہیں، اس میں کوئی شخص کربلا کے کسی کردار کی شبیہ بن کر تعزیہ پیش کرتا ہے۔ پردہ خوانی بھی نقالی سے مشابہ ہے؛ یعنی کربلا کے واقعات کو تصویری پردوں کی مدد سے بیان کرنا۔ مناقب خوانی، امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی مناقب کے اشعار پڑھنے کو کہا جاتا ہے۔ آخر میں مقتل خوانی، مقتل کی کتابوں سے پڑھنے کو کہتے ہیں؛ یہ کام پہلے نوحہ خوانی اور مرثیہ خؤانی کی جگہ کیا جاتا تھا اور اب اس کی جگہ مصائب نے لے لی ہے، یعنی مخصوص مقتل (کتاب روضہ الشہداء) سے پڑھنا۔
مقتل کا مطلب قتلگاہ اور قتل کی جگہ ہے، لیکن ہماری ثقافت میں، لفظ “مقتل” ان کتابوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی خونین حادثے کو بیان کرتی ہیں جس میں کسی شخصیت کا قتل ہو گیا ہو۔ سب سے مشہور مقتل خوانی، مقتل کی کتابوں سے پڑھنا ہے، جو پہلے مرثیہ خوانی اور نوحہ خؤانی کی جگہ کیا جاتا تھا۔ امام علی علیہ السلام کے مقتل کی چار کتابوں کے مقابلے میں، امام حسین علیہ السلام کے مقتل کی ستر سے زیادہ کتابیں موجود ہیں۔
اتنی زیادہ مقتل کیوں لکھی گئی ہیں؟ شاید یہ سوال پڑھنے کے بعد ذہن میں آئے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ کربلا کا واقعہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کی شہادت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے صرف پچاس سال بعد ہی اتنی عجیب اور ناقابل یقین تھی کہ لوگ اس کے بارے میں تفصیلات جاننا چاہتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ یہ واقعہ شیعوں کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے اور شیعہ اماموں نے اس پر بہت زور دیا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ بنی امیہ کی ممانعتیں عاشورہ کی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے تھیں، لیکن اس نے الٹا اثر کیا اور شیعوں نے عاشورہ کے بارے میں بات کرنے کے بجائے اسے خفیہ طور پر لکھنا شروع کیا۔
عاشورا کے واقعہ کے راوی کون ہیں؟
عاشورا کے واقعہ کے راوی تین گروہ ہیں
پہلا گروہ خود اہل بیت علیہم السلام کے افراد پر مشتمل ہے۔ امام سجاد علیہ السلام نے اس بارے میں سب سے زیادہ روشنی ڈالی۔
دوسرا گروہ عاشورا کے راویوں میں خود دشمنان شامل ہیں۔ جب ابن زیاد اپنے لشکریان کو انعام دینا چاہتا تھا تو ہر کوئی اعلان کرتا تھا کہ اس نے کیا کیا اور کس کو قتل کیا۔ مختار کے قیام کے دوران، جب کربلا کے شہداء کے قاتلوں سے انتقام لینے کا وقت آیا، تو یہ باتیں دوبارہ دہرائی گئیں۔ کچھ راوی ایسے بھی ہیں جو اس دن امام حسین علیہ السلام کے دشمنوں میں شامل تھے اور بعد میں توبہ کی اور ماجرا کو مختلف مقامات پر بیان کرنے لگے۔
تیسرا گروہ امام حسین علیہ السلام کے شیعہ اور دوستدار ہیں جو عاشورا کے دن امام کے ساتھ نہ ہو سکے۔ ان میں سے ایک اصبغ بن نباتہ تھے، جو امام علی علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے تھے، جنہوں نے صفین میں امام کے لیے جنگ کی اور امام کے آخری لمحات میں ان کے پاس موجود تھے۔ وہ عاشورا کے وقت قید میں تھے۔ پہلے مقتل نویس یہی اصبغ بن نباتہ (وفات 64 ہجری) تھے۔
اصبغ بن نباتہ کے مقتل میں سے آج کچھ باقی نہیں رہا، لیکن ان کے بعد بھی اماموں کی نگرانی میں مقتل نویسی کا کام جاری رہا۔ ان میں سے ایک لوط بن یحییٰ، جو ابو مخنف کے نام سے مشہور ہیں (وفات 157 ہجری)، امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے، جنہوں نے امام کی نگرانی میں ایک مقتل تیار کیا۔ حالانکہ اس اصل کتاب میں سے بھی کچھ باقی نہیں رہا، لیکن بڑے مورخین جیسے طبری (وفات 310 ہجری)، یعقوبی (وفات 323 ہجری)، مسعودی (وفات 345 ہجری) اور ابن اثیر (وفات 630 ہجری) نے اپنی کتابوں میں اس مقتل کی باتیں نقل کی ہیں اور یہ مقتل ان کی کتابوں کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔
سادگی اور معتبر ہونا مقاتل کی خصوصیات
ایک مقتل کے ایک حصے میں یوں آیا ہے: “حسین علیہ السلام پیاسے ہوئے۔ وہ فرات کے کنارے پہنچے اور پانی پینے کا ارادہ کیا۔ حسین بن نمیر نے ان پر تیر پھینکا جو ان کے منہ پر لگا اور اسے خون سے بھر دیا۔ حسین علیہ السلام خون کو ہاتھ سے پکڑ کر آسمان پر پھینک دیتےہیں اور خدا کی تعریف و شکر کرتے ہوئے کہا: ‘خدایا، میں تجھ سے شکایت کرتا ہوں کہ تیرے نبی کے بیٹے کے ساتھ کیا ہو رہا ہے!'”
پرانے مقاتل اسی سادگی سے بھرے ہوتے ہیں۔ نہ اشعار ہوتے ہیں، نہ زبان حال، نہ تفصیل اور نہ کوئی اور چیز؛ بالکل ویسا ہی جیسے آج کل کہانیاں لکھنے کی کلاسوں میں کہا جاتا ہے۔
“روضہ الشہداء” فارسی میں پہلی مقتل کی کتاب
مقتل نویسی کا عمل بعد کے صدیوں میں بھی جاری رہا۔ ایک اہم واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملا حسین کاشفی سبزواری (وفات 910 ہجری) نے پہلی بار فارسی میں مقتل لکھا۔
سید بن طاووس، علامہ حلی، یا شیخ صدوق (ہماری معروف ابن بابویہ) جیسے بڑے بھی مقتل لکھ چکے ہیں، لیکن تمام مقتل عربی زبان میں تھے۔
“اشک بہانے” میں افراط اور امیر کبیر کی مخالفت
کاشفی سبزواری، جامی کے ہم عصر تھے؛ وہ مشہور منبروں کے خطیب تھے اور لوگوں سے “اشک لینے” میں ماہر تھے۔ سلطان حسین بایقرا، تیموریوں میں سے ایک، نے انہیں درخواست کی کہ وہ ایک فارسی مقتل لکھیں تاکہ فارسی زبان بولنے والے بھی آسانی سے مقتل پڑھ سکیں۔ ملا حسین کاشفی نے “روضہ الشہداء” لکھی؛ کتاب جو فارسی مقتل کی غیر موجودگی، کتاب کی نثربھی شائستہ اور اچھی ہونےکی وجہ سے، اور دربار کی حمایت کی وجہ سے فوراً ایران بھر میں مشہور ہو گئی، اور یہاں تک کہ ہر مجالس عزاداری کو “روضہ خوانی” کہا جانے لگا۔
“روضہ الشہداء” سے پہلے، مقتل نویسوں نے روایات میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی تھی؛ روایات سادہ تھیں، بغیر تشبیہ اور تفصیل کے، لیکن “روضہ الشہداء” میں، کچھ اضافے “زبان حال حضرت…” کے عنوان سے شامل کیے گئے تھے جو کہ اصل متن سے ہٹ کر تھے، اور اسی نے نئی مقتل نویسی میں تحریفات کا دروازہ کھولا۔ امیر کبیر نے اپنے عہد میں سب سے پہلے ان تحریفات کے خلاف موقف اپنایا اور مجالسوں میں “اسرار الشہادات” پڑھنے پر پابندی لگا دی۔
صفوی دور میں مقتل میں تحریفات
صفوی دور میں “روضہ الشہداء” کی تقلید پر مبنی متعدد کتابیں لکھی گئیں، جن میں زیادہ تر جعلی مصادر اور بے بنیاد روایات شامل تھیں۔ ان کتابوں کی انتہا فاضل دربندی (وفات 1286 ہجری) کی “اکسیر العبادات فی اسرار الشہادات” تھی۔ فاضل دربندی نے قمہ زنی کی رسم بھی متعارف کرائی اور اپنی کتاب میں بہت سی عجیب باتیں شامل کیں، جیسے کہ عاشورا کا دن عام دنوں سے زیادہ طویل تھا یا امام حسین علیہ السلام نے اس دن 300,000 لوگوں کو خود قتل کیا۔
شہید مطہری نے اپنی کتاب “حماسه حسینی” جلد 3 میں لکھا ہے: “اگر فرض کریں کہ ہر سیکنڈ میں ایک شخص کو قتل کیا جائے، تو 300,000 لوگوں کو قتل کرنے میں 83 گھنٹے اور 20 منٹ لگیں گے۔”
سید جمال الدین اسدآبادی نے بھی ایک نئی مقتل لکھی اور عباس میرزا کا بیٹا بھی ایک غیر خرافاتی مقتل لکھ چکا ہے۔ شیخ عباس قمی (وفات 1359 ہجری) نے “نفس المهموم” لکھی۔
کتاب “ریحانة الادب” میں آیا ہے کہ جو مقتل جلد دہم کتاب “بحار الانوار” میں “ابو مخنف” کے نام سے منسوب ہے، وہ ان کا نہیں ہے اور معلوم نہیں کہ یہ کس نے لکھا ہے، کیونکہ “مقتل ابو مخنف” جو کتاب طبری میں نقل کیا گیا ہے، اس سے کسی طرح کا تعلق نہیں رکھتا۔ ابو مخنف سے منسوب کتابوں پر شک و شبہات نے یہ بات واضح کی کہ طبری کی روایات زیادہ معتبر ہیں۔ اس وجہ سے کچھ افراد نے طبری کی روایات کو اس کی تاریخ سے الگ کر کے شائع کیا، جو پہلی بار “مقتل الحسین” کے نام سے حسن غفاری کی کوشش سے 1398 ہجری قمری میں قم میں شائع ہوئی۔ اسی طرح کی روایات “وقعة الطف” کے نام سے 1367 ہجری شمسی میں قم میں شائع ہوئیں۔
تاہم، مقتل نویسی کو صرف ماضی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اگرچہ سید بن طاووس کی “لہوف” آج بھی معتبر مقاتل میں شامل ہے، لیکن ضروری ہے کہ شیعہ تاریخ کے علماء جدید سائنسی آلات کا استعمال کرتے ہوئے عاشورہ کی تاریخ کو دوبارہ تحریر کریں اور آج کے دور کے عاشقانِ ابا عبداللہ کے لیے سب سے صحیح اور صریح رپورٹیں پیش کریں۔

