تیرہ رجب کی بابرکت تاریخ کو وصیء رسولؐ حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئ۔ یہی سبب ہے کہ ہر سال اس تاریخ کو اہل ایمان ولادتِ امیر المومنین کی خوشیاں مناتے ہیں۔ تمام شیعہ علماء مزید پڑھیں
مستند اور معتبر تاریخی حوالوں میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے فورًا بعد سقیفائ خلافت کے لیے جبرًا بیعت طلب کی گئ۔ انھیں دنوں دخترِ رسولؐ پر اور ان کے اہلبیتؑ پر مزید پڑھیں
تاریخ اسلام کے دردناک واقعات میں سب سے عظیم اور سخت ترین واقعہ در بتول پر حملہ ہے. اس حملے میں نہ صرف یہ کہ دختر رسولؐ کے گھر کو آگ لگائ گئ بلکہ خاتون عالمیان کو اس قدر زخمی مزید پڑھیں
رسولؐ خدا کی شہادت کے بعد جب خلیفہ اول کے لیے جبرا بیعت لی جارہی تھی اس وقت خاندان رسالت پر بھی مظالم ڈھائے گئے۔ ان واقعات میں ایک یہ بھی تھا کہ ‘بیت الشرف’ یعنی علیؑ و فاطمہؑ مزید پڑھیں
اکثر و بیشتر شیعوں پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ خلفاء کو برا بھلا کہتے ہیں۔ پھر ان کی تائید میں ان کے نام نہاد مفتی یہ فتویٰ بھی دے دیتے ہیں کہ شیعہ دین سے خارج ہیں مزید پڑھیں
یک دن بنی عباس کے بادشاہ نے امام علی رضا (ع) سے سوال کیا: آپؑ کے نزدیک علیؑ ابن ابی طالب (ع) کی عظیم ترین فضیلت جو قرآن میں موجود ہے وہ کیا ہے ؟ امام رضا (ع) نے فرمایا: مزید پڑھیں
ہارون رشید بنی عباس کا ایک بادشاہ گزرا ہے۔ بنی عباس کیونکہ رسول اللہؐ کے چچا عباس کی اولاد ہیں اس لیے وہ بھی بنی ہاشم ہیں۔ مگر حکومت پر قابض ہونے کے بعد اس خاندان نے اولاد فاطمہؑ اور مزید پڑھیں
اہل تسنن ،حضرت علیؑ کوخلفاۓ راشدین کی ترتیب کے حساب سے چوتھے مقام پر رکھتے ہیں جبکہ شیعوں کا ماننا الگ ہے۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت علیؑ نبی نہیں ہیں مگر نبئ کریمؐ کی طرح تمام انبیاء سے مزید پڑھیں
250 القاب ( 1 ) علي سيد المسلمين ( 2 ) علي إمام المتقين ( 3 ) علي قائد الغر المحجلين ( 4 ) علي يعسوب المؤمنين ( 5 ) علي ولي المتقين ( 6 ) علي يعسوب الدين ( مزید پڑھیں
لغوی معنوں میں ‘صدیق’ ہمیشہ سچ بولنے والے کو کہا جاتا ہے، یعنی جس کے منہ سے صرف سچ ہی نکلے اور جس نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو. صداقت ایک اچھی صفت ہے۔ اسلام، بلکہ تمام ادیانِ عالم اپنے ماننے والوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ سچ بولیں اور ہمیشہ سچائ کا ساتھ دیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں زیادہ تر پریشانیوں اور مصیبتوں کی جڑ سچ نہ بولنا ہے۔ اسلام نے بھی اپنے ماننے والوں کو سچا ہونے، سچّائ کا ساتھ دینے اور سچّوں کے ساتھ ہونے (کونوا مع الصادقین) کی ترغیب دی ہے۔ اس کے علاوہ ‘صدیق’ ہونا خدا کے نزدیک ایک بلند مقام بھی رکھتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ قرآن نے بعض انبیاء کو ‘صدیق’ لقب سے یاد کیا ہے.
