780

آیئہ مباہلہ میں حضرت علی علیہ السلام کی سب سے عظیم فضیلت

Print Friendly, PDF & Email

یک دن بنی عباس کے بادشاہ نے امام علی رضا (ع) سے سوال کیا: آپؑ کے نزدیک علیؑ ابن ابی طالب (ع) کی عظیم ترین فضیلت جو قرآن میں موجود ہے وہ کیا ہے ؟
امام رضا (ع) نے فرمایا: علیؑ ابن ابی طالب (ع) کی سب سے اہم فضیلت قرآن میں آیۂ مباہلہ ہے۔ پھر اپؑ نے آیت مباہلہ کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا:
رسول خدا (ص)، نے امام حسن (ع) اور امام حسین (ع)، جو آپ (ص) کے بیٹے ہیں، ان کو بلوایا اور حضرت فاطمہ (س) کو بلوایا جو آیت میں ” نسائنا ” کا مصداق ہیں اور علیؑ ابن ابی طالب(ع) کو بلوایا جو اللہ کے حکم کے مطابق ” انفسنا ” کا مصداق ہیں اور رسول خدا (ص) کا نفس اور آپ (ص) کی جان ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ کوئی بھی مخلوق رسول اللہ (ص) کی ذات با برکت سے زیادہ جلیل القدر اور افضل نہیں ہے۔ اسی طرح کوئ بھی نفس رسول خدا (ص) کے نفس و جان سے بہتر بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح نفس رسول ہونے کی حیثیت سے علیؑ ابن ابی طالبؑ بھی رسول اللہؐ کی طرح تمام ملخلوقات سے افضل ہیں۔

بات یہاں تک پہنچی تو مامون نے کہا: خداوند نے ” ابناء ” کو صیغہ جمع کے ساتھ بیان کیا ہے، جبکہ رسول خدا (ص) صرف اپنے دو بیٹوں کو ساتھ لائے ہیں، ” نساء ” بھی جمع ہے، جبکہ آنحضرت (ص) صرف اپنی ایک بیٹی کو لائے ہیں، پس یہ کیوں نہ کہیں کہ ” انفس ” کو بلوانے سے مراد رسول خدا (ص) کی اپنی ذات ہے، اور اس صورت میں جو فضیلت آپ (ص) نے علیؑ ابن ابی طالب(ع) کے لیے بیان کی ہے، وہ خود بخود ختم ہو جاتی ہے؟”
امام رضا (ع) نے جواب میں فرمایا:
نہیں، تمہاری بات درست نہیں ہے کیونکہ دعوت دینے والا اور بلوانے والا اپنی ذات کو نہیں بلاتا، بلکہ دوسروں کو بلواتا ہے۔ آمر ( اور حکم دینے والے ) اپنے آپ کو نہیں بلکہ دوسروں کو امر کرتا ہے اور حکم دیتا ہے، اور چونکہ رسول خدا (ص) نے مباہلہ کے وقت علیؑ بن ابی طالب (ع) کے سوا کسی اور مرد کو نہیں بلوایا اس لیے یہ ثابت ہوتا ہے کہ علی (ع) ہی وہ نفس ہیں جو کتاب اللہ میں اللہ کا مقصود و مطلوب ہے اور اس کے حکم کو خدا نے قرآن میں قرار دیا ہے۔
یہ سن کر مامون نے کہا: آپؑ کے اس جواب نے میرے سوال کو جڑ ہی سے اکھاڑ دیا۔
(الفصول المختاره، المفید ص 38۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.