207

حضرت علیؑ کو پہلا یا چوتھا خلیفہ،ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

گزشتہ چند برسوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ کچھ جیالے پوری امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لئے بڑی کوششیں کر رہے ہیں ،چنانچہ عوام کے دلوں میں یہ بات بٹھائی جا رہی ہے کہ اتحاد بہت ضروری ہے ۔اب سے سارے اہل اسلام ایک امت کی طرح رہیں۔ اللہ کی توحید اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے قبول کرنے والوں کے درمیان جو بنیادی اختلاف ہے وہ حضرت علیؑ کی امامت و خلافتِ بلافصل کو لے کر ہے۔ شیعہ حضرات امیر المومنین حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ کو اپنا پہلا امام مانتے ہیں جبکہ سنی حضرات ان کو اپنا چوتھا خلیفہ مانتے ہیں۔ روشن فکر والوں کا کہنا یہ ہے کہ جس شخصیت کو شیعہ پہلا امام مانتے ہیں اسی کو سنّی اپنا چوتھا خلیفہ کہتے ہیں بس فرق ‘پہلے’ اور ‘چوتھے’ کا ہے۔ لہذا اس معمولی اختلاف کو اتنی اہمیت نہیں دینا چاہیے! اس ذرا سے فرق کو تاریخ میں اتنا طول دیا گیا ، اتنی زیادہ اہمیت دی گئ کہ امت کے درمیان ایک تفرقہ کھڑا ہوگیا ۔اس ملت کو نقصان ہی ہوا ہے اس لیے اب اس گفتگو کو زیادہ طول نہیں دینا چاہیے کہ حضرت علیؑ کو ‘پہلا امام’ ماننا صحیح ہے یا ‘چوتھا خلیفہ’ ماننا؟ !

ان لوگوں کی باتیں کتنی پر اثر اور دل کو خوش کرنے والی لگتی ہیں ،ہر شخص اتحاد پر لہالوٹ ہے ، اتحاد اور اتفاق پر ہم بھی جان دیتے ہیں ، مگر بات صرف اتنی سی نہیں ہے۔ حقیقت اس سے جدا ہے۔ اختلاف صرف ‘پہلے’ اور ‘چوتھے’ کا نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کی دو جداگاناہ فکریں ہیں۔
شیعہ حضرات جو حضرت علی علیہ السلام کو پہلا امام مانتے ہیں ، وہ اس وجہ سے مانتے ہیں کہ ان کے نزدیک حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ کو رسول الله (ص) نے بحکم خدا اپنا جانشین بنایا تھا۔ یعنی شیعوں کے نزدیک منصبِ امامت ایک الٰہی منصب ہے، امام کا انتخاب (سیلیکشن) اللہ کرتا ہے۔ اس سلسلہ ء امامت کا ہر امام حضرت علیؑ کی طرح ہی ‘منصوص من اللہ’ ہوتا ہے یعنی اس شخص ( امام) کو امت کی امامت و رہبری کا اختیار خود خالق کائنات نے دیا ہے۔ لہٰذا امیرالمومنین کی لا محدود فضیلتوں کے باوجود شیعہ ان کو منصبِ امامت کا پہلا حقدار صرف اس لیے مانتے ہیں کیونکہ رسول اللہ (ص) نے حکمِ خدا سے اس بات کا خصوصی اعلان اپنے آخری حج کی واپسی کے وقت غدیر خم میں فرمایا تھا۔ اس لیے حضرت علیؑ کے علاوہ کسی اور کو رسول اللہ کا جانشین سمجھنا حکمِ خدا کی مخالفت کرنا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بارہ اماموں میں سے کسی ایک کی بھی امامت کا منکر ہے ، تو وہ حکم خدا کی مخالفت کرتا ہے اور تمام کے تمام بارہ اماموں کی امامت کا منکر ہوجاتا ہے۔
اب جو لوگ حضرت علیؑ کو چوتھا خلیفہ مانتے ہیں وہ اس وجہ سے مانتے ہیں کہ مسلمانوں نے ان کو اس مسند پر بٹھایا تھا یعنی لوگوں کے انتخاب نے حضرت علیؑ کو چوتھا خلیفہ بنایا ہے۔ اس گروہ کے نزدیک خلافت امت کے انتخاب سے چلتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ اور اس کے رسولؐ نے امت کو اس طرح اپنے لیے امام یا رہبر کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا ہے؟؟

دوسرا اہم فرق یہ ہے کہ بنصِ قرآن شیعوں کے بارہ امام ‘واجب الاطاعت’ ہیں۔ کیونکہ قرآن کی زبان میں ہر امام اپنے زمانے کا ‘اولوالامر’ ہوتا ہے لہٰذا ان میں سے کسی ایک کی مخالفت، انسان کو دین سے خارج کر دیتی ہے۔
اس کے بر خلاف جو لوگ حضرت علیؑ کے چوتھے خلیفہ ہونے کے قائل ہیں ، وہ ان کو برحق تو مانتے ہیں مگر ان سے جنگ کرنے والوں کو برا نہیں سمجھتے۔ حضرت علیؑ جب مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ ہوۓ تو ان کے خلاف مسلمانوں میں کچھ ہستیوں نے ان کی مخالفت کی اور باقاعدہ ان سے جنگ کی۔ ان جنگوں میں کئی کئی ہزار مسلمان مارے گئے۔ اس کے باوجود سنّیوں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ اپنے ‘چوتھے خلیفہ’ سے جنگ کرنے والوں کو ‘باغی گروہ’ کے زمرے میں شمار کر سکیں بلکہ وہ تو ان سب کو ‘رضی اللہ عنہ’ اور ‘رضی اللہ عنہا’ کہتے ہیں۔ الٹا ان میں دو کو تو ‘عشرہ مبشّرہ’ میں شمار کرتے ہیں۔ حالانکہ جناب عمّار کی شہادت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان کے قاتل “فئة باغیة: باغی گروہ” کی حیثیت رکھتے ہیں، اس کے باوجود بھی اہل تسنّن جناب عمّار کے قاتل معاویہ کو برا نہیں کہتے۔ دوسری طرف جو لوگ حضرت علیؑ کو پہلا امام مانتے ہیں وہ ان کے تمام دشمنوں کو لعنت کا مستحق جانتے ہیں۔

اب آئیے ان روایات کی طرف رخ کرتے ہیں ، جن میں صریحی طور پر حضرت علیؑ کے پہلا امام یا بالفاظِ دیگر رسول اللہ (ص) کے بلا فصل خلیفہ ہونے کا ذکر ہے۔ شیعہ جن روایات سے حضرت علیؑ کے پہلے خلیفہ ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں ان میں بعض اہل تسنّن کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اختصار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوۓ صرف ان کی نشاندہی کرتے ہوۓ گزر جانا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ متعدد مقامات پر مرسل اعظم (ص) نے حضرت علیؑ کی جانشینی کا اعلان کیا ہے۔
کبھی آپؐ نے فرمایا:-

• “علیٌ ولی کل مؤمن بعدی”
(مصنف – ابن ابی شیبہ ج٦ ص ٣٧٢)
تو کبھی
• “هو ولی کل مؤمن من بعدی”
(مرقاة المفاتیح – ملا علی قاری ج ٩ ص ٣٩٣٦) فرمایا، کبھی
• “انت ولی کل مؤمن بعدی”
(مسند -ابی داود طیالسی ج ١ ص ٣٦٠، مسند- احمد ابن حنبل ج ۴ ص ۴٣٧) کہہ کر سمجھایا
تو کبھی
• “انت ولی کل مؤمن بعدی و مؤمنة”
(فضائل الصحابہ – احمد ابن حنبل ج ٢ ص ٦٨٢) کے ذریعہ علی کے خلیفہ بلا فصل ہونے کی وضاحت کی۔
کبھی آنحضرت نے
• “انت ولیی فی کل مؤمن بعدی”
(مسند – احمد ابن حنبل ج ۵ص ١٧٨) کے ذریعہ علی کی اہمیت واضح کی ،تو کبھی
• “فانه ولیکم بعدی”
(الاصابہ – ابن حجر عسقلانی ج ٦ ص ٦٨٧) سے وضاحت کی۔کبھی
• “ان علیاً ولیکم بعدی”
(البدایہ والنہایہ – ابن کثیر ج ١١ ص ٦٢) تو کبھی
• “هذا ولیکم بعدی”
(السنن الکبری – نسائی ج ۵ ص ١٣٣، المحاسن – بیھقی ج ١ ص ١٧) فرمایا۔ کبھی
• “انک ولی المؤمنین من بعدی”
(خطیب بغدادی ج ٢٣ ص ۵٦)کہہ کر لوگوں پر علی کی اہمیت واضح کی ،تو کبھی
“انت ولیی فی کل مُؤْمِنٍ بعدی”
(مسند احمد ابن حنبل ج ١ ص ٣٣٠) کہہ کر سمجھایا۔کبھی
“انه لا ینبغی ان اذهب الا وانت خلیفتی فی کل مؤمن من بعدی”
(السنّة – ابن ابی عاصم
ج ٢ ص ۵٦۵) کے ذریعہ وضاحت کی تو کبھی
“فهو اولی الناس بکم بعدی”
(المعجم الکبیر – طبرانی ج ٢٢ ص ١٣۵) کے ذریعہ علی کی اہمیت اجاگر کی۔ کہ حضرت علی علیہ السلام ہر مومن کےمو لا ہیں۔
اہل تسنّن کتابوں میں موجود اس طرح کی تمام روایتیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ حضرت علیؑ رسول الله (ص) کے بعد ہر مومن کے ولی و سرپرست ہیں۔ اوپر ذکر کی گئ تمام روایتوں میں لفظ “من بعدی” ثابت کرتا ہے کہ رسول اکرم (ص) نے اپنی حیات طیبہ میں بارہا یہ اعلان کیا ہے کہ علیؑ میرے بعد اس امت کے پہلے خلیفہ اور پہلے امام ہیں۔

اس بات کی ایک اور واضح دلیل حدیث غدیر کی وہ روایت ہے جس کو ابن کثیر نے براء بن عاذب کی زبانی نقل کیا ہے۔ براء کا کہنا ہے کہ رسول الله (ص) نے اس طرح فرمایا :”من کنت مولاہ فان علیًا بعدی مولاہ” یعنی “جس کا میں مولا ہوں یقینًا میرے بعد علیؑ اس کے مولا ہیں” (الغدیر ج ١)
ایک روایت ایسی بھی ہے جو اس پہلے اور چوتھے کے مسئلہ کو پوری طرح ختم کردیتی ہے۔ اس روایت کو رسول الله (ص) کے جلیل القدر صحابی عبد الله ابن مسعود نقل کرتے ہیں۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ جب پیغمبر اکرم (ص) کا وقت وفات قریب تھا تو میں نے ان سے عرض کی:”یا رسول الله (ص) ! ابوبکر کو خلیفہ معین نہیں کریں گے؟ آنحضرتؐ میری اس بات سے ناخوش ہوۓ اور اپنا رخ میری طرف سے موڑ لیا۔ میں نے دوسری مرتبہ دریافت کیا: “یا رسول الله (ص)! عمر کو اپنا جانشین معین نہیں کریں گے؟ آنحضرتؐ میری اس بات سے بھی ناخوش ہوۓ اور اپنا رخ میری طرف سے موڑ لیا۔ میں نے عرض کی:” یا رسول الله (ص) ! کیا علیؑ کو اپنا جانشین معین نہیں کریں گے؟ اس پر رسول خدا (ص) راضی ہوۓ اور فرمایا:”ہاں۔ خدا کی قسم اگر تم لوگ علیؑ کی بیعت پر قائم رہے اور ان کی پیروی کرتے رہے تو علیؑ تم کو جنت کی طرف ہدایت کریں گے۔”
(نفحات الازھارفی خلاصۃ العبقات الانوار ٢۷۴۔۲۷۹۔/٩ -دستاویز غدیر اردو حصۂ اول)

اس روایت کہ بعد یہ واضح ہو جاتا ہے کہ رسول الله (ص) اس بات سے راضی تھے کہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ ہی ہوں۔ روایت سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ جو بھی حضرت علیؑ کو پہلا خلیفہ نہیں مانتا وہ اپنے حق میں رسول الله (ص) کی ناراضگی مول لیتا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ رسول اسلام (ص) نے دو مرتبہ ابن مسعود کی گزارش پر ناخوش ہوکر اپنا رخ موڑ لیا تھا۔ تویقینا بروز قیامت جو بھی امیرالمومنینؑ کے علاوہ کسی اور کو پہلا امام یا خلیفہ ماننے کا عقیدہ لے کر رسول الله (ص) سے ملاقات کرے گا ، اس کے ساتھ بھی آنحضرت کا یہی برتاؤ ہوگا۔

یہ بات واضح ہے کہ اگر امت کو رسولؐ کے معین کئے جانے کی پرواہ ہوتی ، تو وہ حضرت علیؑ کے علاوہ کسی اور کو پہلا خلیفہ نہ بناتی۔ مختصر یہ کہ حضرت علیؑ کو پہلا امام یا پہلا خلیفہ ہونے کا منصب الله اور اس کے رسولؐ نے عطا کیا ہے۔ جو ان کو پہلا خلیفہ نہیں تسلیم کرتا وہ خدا کے انتخاب پر اپنی راۓ یا امت کے انتخاب کو ترجیح دیتا ہے اور نتیجتًا وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی ناراضگی کو مول لے رہا ہے۔ لہٰذا حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ کو پہلا امام ماننا اور چوتھا خلیفہ ماننا کوئی معمولی اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ اطاعت اور مخالفت رسولؐ کی بات ہے جس کے سبب انسان یا تو جنّتی ہوگا یا جہنمی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.