کون ہے اللہ کی مرضی کو خریدنے والا?

قرآن کریم کی سورہ بقرہ میں یہ آیت موجود ہے کہ:
> وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۔
“اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتے ہیں، اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔” (سورۂ بقرہ، آیت 207)
اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ خدا اپنی مرضی کو کچھ پاک نفوس کے بدلے میں بیچ دیتا ہے یعنی اللہ ایسا سودا بھی کرتا ہے جس میں وہ اپنی مرضی کو پاک نفس کی جان کے بدلے میں فروخت کردیتا ہے۔

طرفین کی کتابوں میں یعنی تفاسیر اور روایات میں کثرت سے یہ بات درج ہے کہ اس آیت میں جس محترم و مقدس نفس کا ذکر ہے وہ اور کوئی نہیں بلکہ ناصر رسول، اسد اللہ اور جانثار رسول، امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ ہیں۔ شب ہجرت جسے لیلۃ المبیت بھی کہا جاتا ہے، جب مشرکین مکہ نے رسولُ اللہ ﷺوآلہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور ان کو قتل کرنے کے لیے جمع ہوگئے تھے اس وقت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بستر پر حضرت علیؑ سولا دیا تھا۔ اس طرح شب ہجرت فرزند ابوطالبؑ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر رسول اللہ (ﷺوآلہ) کے بستر پر سوکر ان کی جان کو بچا لیا۔ مولا علی علیہ السلام کی اس جانثاری کے جذبے کو دیکھ کر خالق کائنات نے ان کو مرضی کا خریدار قرار دے دیا ہے۔
مگر جس کو بغض علیؑ کی بیماری ہو اس کے لیے یہ آیت ناسور کا کام کرتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بعض ناصبی افراد کا کہنا ہے کہ یہ آیت کسی صحابی ‘صہیب بن سنان’ اور ان مسلمانوں کے بارے میں ہے جو مکہ سے مدینہ ہجرت کر گئے تھے۔

کچھ دوسرے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ آیت عام طور پر مہاجرین کی طرف اشارہ کرتی ہے، جیسا کہ سورۂ توبہ کی آیت 111 کے ذیل میں نقل ہوا ہے۔
اہلِ تشیع کے نزدیک یہ کوئی متنازع بات نہیں ہے کہ اللہ کی مرضی کے خریدار صرف اور صرف مولاۓ کائنات حضرت علیؑ ہی ہیں. سنی علماء کی اکثریت کے نزدیک بھی علی ابن ابی طالبؑ کی شخصیت ، وہ شخصیت ہے جس نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنا نفس بیچا ہے۔ لہٰذا دونوں فرقوں کے اس اجماع کے مطابق اس آیت سے مراد علی ابن ابی طالبؑ ہی ہیں۔ کسی اور کو اس کا مصداق قرار دینا اتفاقِ رائے کے خلاف ہے اور گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ اگر یہ آیت مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے بارے میں ہے ، تب بھی حضرت علی ابن ابی طالبؑ بھی اس آیت کا مصداق ہیں، اور انھیں اس مفہوم سے مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔
اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے ذیل میں اُن سنی علماء کی فہرست پیش کررہے ہیں ، جنھوں نے اس آیت کے تحت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ کی قربانی کو حضور اکرم (ﷺ )وآلہہ اور اسلام کے لیے تسلیم کیا ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں مشہور سنی مفسر ثعلبی اپنی سندوں کے ساتھ بیان کرتے ہیں:

جب حضور (ﷺوآلہ) نے ہجرت کا فیصلہ فرمایا تو آپ (ﷺوآلہ) نے امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ کو اپنے قرض ادا کرنے اور لوگوں کی امانتیں واپس کرنے کے لیے مقرر فرمایا۔ ہجرت کے وقت مشرکین نے آپ (ﷺوآلہ) کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ اس وقت آپ (ﷺوآلہ) نے امیرالمؤمنینؑ کو حکم دیا کہ میرے بستر پر سو جائیں اور سبز چادر اوڑھ لیں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے جبرئیل اور میکائیل کی طرف وحی فرمائی اور کہا: میں نے تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے اور تمھیں طویل عمر عطا کی ہے۔ اب تم میں سے کون اپنی جان دوسرے پر قربان کرنے کے لیے تیار ہے؟ دونوں میں سے کسی نے پہل نہ کی۔

پھر اللہ نے ان پر واضح کیا: دیکھو! علیؑ رسولُ اللہ (ﷺوآلہ) کے بستر پر سو رہے ہیں اور اپنی جان ان پر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جاؤ ، زمین پر جاؤ اور ان کی حفاظت کرو۔

جس وقت کہ جبرئیل علیؑ کے سرہانے اور میکائیل ان کے قدموں کی طرف بیٹھے تھے ، جبرئیل نے کہا :

“اے ابو طالب کے بیٹے! آپ کو مبارک ہو، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے آپ پر فخر کرتا ہے۔”
اسی وجہ سے اس رات کو “فروخت ہونے والی رات” کہا جاتا ہے۔
(تفسیر ثعلبی، جلد 6، صفحہ 479)
دیگر حوالہ جات:
1. کشف البیان، ثعلبی، ج1، ص409
2. تفسیر مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر)، فخر الدین رازی، ج3، ص222
3. المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص4
4. اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج4، ص25
5. تفسیر قرطبی، ج3، ص347
6. شواہد التنزیل، ج1، ص123
7. مجمع الزوائد، ہیثمی، ج7، ص27
8. ذخائر العقبٰی، محی الدین طبری، ص86
9. نور الابصار، شبلنجی، ص84
10. تفسیر نیشاپوری، ج2، ص8
11. تفسیر امام زیدی، ج1، ص41
12. جامع التفاسیر، ج5، ص241
13. جواہر المطالب، ج1، ص241
14. الصلاۃ خیر من النوم، ج5، ص13
15. کنوز الحقائق، ص31
16. غایۃ المرام، ص344-345
17. ینابیع المودۃ، ج1، ص274
18. کفایۃ الطالب فی مناقب علی بن ابی طالب، ص114
اس فہرست سے ظاہر ہے کہ جید سنی علماء سورۂ بقرہ کی آیت 207 کے بارے میں متفق ہیں کہ یہ آیت علی ابن ابی طالبؑ کے لیے ہے . علی ہی کی وہ واحد شخصیت ہے ، جن کی طرف اس میں اشارہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا آپؑ کے بجائے دوسروں کو اس آیت کا مصداق قرار دینے کی کوشش بغض، حسد اور کینے کی علامت ہے، اور عام مسلمانوں کو مولا علیؑ کے بے شمار فضائل سے بے خبر رکھنے کی ناکام کوشش ہے

Short URL : https://saqlain.org/uyo4