510

سوال : کیا غدیر کا شمار اسلامی اعیاد میں ہوتا ہے یا یہ عید شیعوں سے مخصوص ہے؟

جواب : یہ عید شیعوں سے مخصوص نہیں ہے ، اگر چہ شیعہ اس عید سے بہت زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں بلکہ مسلمانوں کے دوسرے فرقے بھی اس روز کو عیدجانتے ہیں ۔
ابوریحان بیرونی نے کتاب ”الآثار الباقیہ عن القرون الخالیه“(۱) میں اس کو اہل اسلام کی اعیاد میں شمار کیا ہے ۔
ابن طلحہ شافعی نے کتاب ”مطالب السؤول “ (۲) میں لکھا ہے :
امیرالمومنین (علیہ السلام) نے اپنے اشعار میں غدیر خم کو یاد کیا ہے اور یہ روز عید کے روز سے جانا جاتا ہے ، کیونکہ اس روز پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی (علیہ السلام) کو اس بلند مرتبہ سے نوازا ہے اور ان کو ا س کا شرف بخشا ہے اوردوسروں کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا ۔
اس کے علاوہ کہتے ہیں :
لفظ ”مولی“ کے جو معنی رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لیے ممکن ہیں وہی معنی رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی (علیہ السلام) کے لیے قرار دییے ہیں اور یہ بہت بڑا مرتبہ ہے جو آپ کو عطا کیا ہے اور کسی دوسرے کو عطا نہیں کیا ، اسی وجہ سے اس دن کو عید اور حضرت علی (علیہ السلام) کے چاہنے والوں کیلیے خوشی کا دن قرار دیا ہے(۳) ۔
ابن خلکان کی کتاب ”وفیات“ (۴) کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اس دن کو عید کا دن قرار دینے پر علماء کا اتفاق ہے ۔
مسعودی نے حدیث غدیر کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے :
حضرت علی (علیہ السلام) کی اولاد اور ان کے شیعہ اس دن کی عظمت کے قایل ہیں (۵) ۔
نیز ثعلبی نے ”ثمار القلوب“ (۶) میں شب عیدغدیر کوامت اسلامی کے نزدیک بزرگ راتوں میں شمار کیا ہے اور کہا ہے : شب غدیر وہ شب ہے جس کے اگلے روز پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے غدیر خم میں انٹوں کے کجاوں پر خطبہ دیا اور اپنے خطبہ میں فرمایا :”

من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاداه و انصر من نصره واخذل من خذله

“ ۔ اس وجہ سے شیعہ اس رات کو بزرگ شمار کرتے ہیں اوراس میں عبادات انجام دیتے ہیں ۔
غدیر کے عید ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ شیخین (ابوبکر او رعمر) ، ازواج پیغمبر اور دوسرے صحابہ نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے حکم سے امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کو مبارک باد دی ، اورمبارکباد دینا عید اور خوشیوں کے دنوں سے مخصوص ہے (۷) ۔
١ ـ الآثار الباقیه عن القرون الخالیه: ٣٣٤.
٢ ـ مطالب السؤول: ٥٣(ص ١٦).
٣ ـ مدرک پیشین: ٥٦.
٤ ـ وفیات الاعیان ١: ٦٠; ٢: ٢٢٣ (١/١٨٠، شماره ٧٤; ٥/٢٣٠ شماره ٧٢٨).
٥ ـ التنبیه والاشراف: ٢٢١ (ص ٢٢١ ـ ٢٢٢).
٦ ـ ثمار القلوب: ٥١١(ص ٦٣٦، شماره ١٠٦٨).
٧- شفیعی مازندرانی / گزیده اى جامع از الغدیر، ص ٧٦.

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.