کیا خوف زدہ ہوجانا بزدلی کی علامت ہے؟ 545

کیا خوف زدہ ہوجانا بزدلی کی علامت ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

بعض اہل تسنن افراد اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے بارہویں امام ٢۵۵ ہجری سے یعنی ١٠٠٠ سال سے زیادہ مدت سے زندہ ہیں اور غیبت میں ہیں۔ وہ لوگ ان کی غیبت کو ایک الگ رنگ دیتے ہیں، وہ اپنے ذہنی فتور کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام مہدیؑ اپنی جان کی سلامتی کےلیے روپوش ہیں۔ یہ سنی علماء یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ کیسے امام ہیں ، جنھیں اپنی جان کا خوف لاحق ہے ؟ اس ضمن میں وہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) یہ غیبت کے پردے میں چھپنا بزدلی ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ شیعوں کے بارہویں امام معاذ اللہ بزدل اور ڈرتے ہیں ہے۔

جواب:
ہرصاحب عقل اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ دلیری اور بہادری صرف لڑنے اور مر مٹنے کا نام نہیں ہے۔ انسان کا کمال اس کے مقصد کی تکمیل اور حصولیابی ہے۔ مقصد کے حصول کے لیے خاموشی اختیار کرلینا، ہتھیار نہ اٹھانا اور مناسب وقت کا انتظار کرنا انسان کی دانش مندی کی علامت ہے۔ جان کا بچانا یوں بھی ہر فرد پر واجب ہے۔ قرآن مجید کا واضح فرمان ہے ‘وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ..’ [ بقرة: 195] ‘اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو’۔
قرآن نے مختلف سورتوں میں متعدد انبیاء کی داستانیں بیان کی ہیں ۔ ان داستانوں میں یکساں بات بیان کی گئ ہے کہ جب کبھی کسی قوم کے پاس کسی نبی کو بھیجا گیا تو اس قوم کی اکثریت نے اس کی بات نہ مانی۔ اسے جھٹلایا، اس پر ظلم کیا اور بعض انبیاء کو تو قتل بھی کر دیا گیا۔ یہی سبب رہا ہے کہ انبیائے کرام، بحکم خدا، اپنی جان بچانے کی غرض سے بعض مواقع پر خاموشی اختیار کر لیتے تھے یا اپنی قوم سے ظاہری طور پر قطع تعلق کر لیتے تھے تو کیا اس فعل کو ان انبیاء کی بزدلی کہا جائے گا؟
کیا قوم کے طاقتور فاسدوں اور ظالموں کے شر سے اپنے ماننے والوں کو بچانے کے لیے غیبت میں چلے جانے کو بزدلی کا نام دیا جائے گا؟
قوم کی نافرمانی کے سبب مخلص مومنین کو اشرار کا شکار بننے سے بچانے کے لیے روپوش ہو جانے کو بزدلی ہر گز نہیں کہا جائے گا۔
در حقیقت اپنے عظیم مقصد کی بقا کے لیے، اس طرح خاموشی اختیار کرنا یا غیبت کا اختیار کرنا انبیائے کرام کی ایک اہم سنّت رہی ہے۔

جناب موسیٰؑ اپنی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دلانے والے اولوالعزم نبی تھے۔ ان کی داستان پڑھتے وقت آپ کو ان کے خوف زدہ ہونے کی بات ملے گی۔ ایک موقع پر ملتا ہے کہ فرعون کے ڈر سے جناب موسیٰؑ جان بچاکر اپنے شہر سے نکل آئے اور اپنی قوم سے ایک طویل مدّت کے لیے غیبت اختیار کر لی۔ اتنا ہی نہیں جب دربار فرعون میں جادوگروں سے ان کا سامنا ہوا تو ان جادوگروں کے ‘جادو’ دیکھ کر جناب موسیٰ خائف ہوگئے۔
فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَىٰ [سوره طه:67]
کیا یہ خوف بزدلی کی علامت ہے؟؟

اسی طرح سرورِؐ کائنات نے بھی اپنی جان کے تحفظ کی غرض سے مکہ میں خاموشی اختیار فرمائ اور جب آپ کے سب سے بڑے معاون ناصر اسلام جناب ابوطالب (علیہ السلام) کی رحلت ہوگئ تو آپ کو اپنی جان بچانے کے لیے مکہ سے مدینے ہجرت کرنی پڑی۔
اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اپنی جان کی حفاظت نہ تو بزدلی کی علامت ہے اور نہ ہی یہ کوئ فعل قبیح ہے

بلکہ سنت سرورِؐ عالم ہے۔ اتنا ہی نہیں قرآن یہ بتاتا ہے کہ دوران سفر جب رسولؐ اللہ اور ان کے ساتھی (ابو بکر) غار حرا میں چھپے تھے تو ابو بکر چلّا چلّا کر رونے لگے۔ کیا اس رونے کو بھی بزدلی کہا جائے گا؟ اگر خوف زدہ ہوجانا بری خصلت ہے تو سورہ توبہ کی آیت نمبر ۴٠، ابوبکر کی فضیلت نہیں بلکہ بزدلی کو بیان کرتی ہے۔

آخر میں یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ جو بدعقیدہ افراد مومنوں کے خوف زدہ ہونے کو بزدلی سمجھتے ہیں وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اس خوف کو ان کے لیے ‘امن و امان’ میں بدل دےگا۔
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ [ سورہ نور: 55]
اللہ وعدہ کرتا ہے ایمان لانے والوں سے اور عمل صالح بجالانے والوں سے کہ….ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا….

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.