Lanat 404

کیا قرآن فاسق و فاجر مسلمان پر لعنت کرنے سے روکتا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

ایک ویڈیو کلپ میں ایک وہابی خطیب اپنے مریدوں کو بتا رہے تھے کہ یزید پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھلے ہی یزید فاسق و فاجر تھا مگر وہ کم ازکم مسلمان تھا اس لیے اس پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے۔
کیا واقعًا ایسا ہے؟؟ آیئے اس کا جواب قرآن مجید میں ڈھونڈھا جائے۔

جواب:-
یہ جاننا ضروری ہے کہ ‘لعنت’ ایک طرح کی بددعا ہے کہ جس میں لعنت کرنے والا خدا سے یہ دعا کرتا ہے کہ ‘ملعون’ شخص کو اپنی رحمت سے دور رکھ۔ اسلامی قوانین میں مسئلہ ‘لعان’ اسی لعنت سے حل کیا جاتا ہے۔ اس میں مسلمان مرد اور اس کی مسلمان زوجہ ایک دوسرے کو لعنت کا مستحق قرار دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مسلمان بھلے ہی فاسق یا فاجر ہو اس پر لعنت نہیں کی جاسکتی، غلط ہے۔ اسی ضمن میں قرآن کی اس آیت کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
“اور جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کی تہمت لگا ئیں اور ان کے پاس خود ان کے سوا کوئی گواہ نہ ہو تو ان میں سے ایک شخص چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو اور عورت سے سزا اس صورت میں ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ یہ شخص (اس کا شوہر) جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچا ہے، اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو تمھیں اس سے خلاصی نہ ملتی ) یہ کہ اللہ بڑا توبہ کو قبول کرنے والا اور حکمت والا ہے۔”
(سورہ نور : ۶ تا ۹)

اس آیت سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ قرآن نے مسلمان پر لعنت کرنے کی اجازت دی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے متعدد مقامات پر خطاکار اور مفسد اشخاص پر لعنت کی ہے۔ ان میں سے چند ایک کو یہاں پر بطور ،نمونہ پیش کر رہے ہیں۔

١) فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ •
أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ
(محمد:٢٢-٢٣)
“پس، تم سے یہ بعید نہیں کہ تم اگر صاحبِ اقتدار بن جاو تو زمین پر فساد برپا کرو اور قرابت داروں سے قطع تعلق کرلو۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان کے کانوں کو بہرا کردیا ہے اور آنکھوں کو اندھا بنا دیا ہے۔

یزید نے اسلام کے مقدس ترین شہروں میں فساد برپا کیا۔ رسالت مآبؐ کے قرابت داروں میں ان کے مردوں کو شہید کیا اور ان کی عورتوں کو قیدی بنایا۔ یزید سے بڑھ کر ان آیتوں کا کوئ مصداق ہو ہی نہیں سکتا۔ اہل تسنن کے بزرگ عالم امام احمد بن حنبل نے بھی یزید پر لعنت کرنے کے جواز میں اس آیت کو پیش کیا ہے۔

٢) الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثاقِهِ وَ يَقْطَعُونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوءُ الدَّارِ۔ (سورہ رعد:٢۵)
جن لوگوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو توڑا اور جن افراد سے صلہ رحمی کرنے کا حکم تھا ان سے قطع رحمی کی اور زمین پر فساد برپا کیا انھیں لوگوں پر لعنت ہوتی ہے اور ان کے لے بہت برا ٹھکانہ ہے۔

اس آیت میں بھی زمین پر فساد برپا کرنے والوں پر لعنت کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان باتوں کا بھی ذکر ہے، جو پہلی آیت میں موجود ہیں۔ ساتھ ہی ان لوگوں میں عہد شکنی کرنے والوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس آیت میں نہ صرف یزید بلکہ اس کے باپ معاویہ کو بھی لعنت کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ معاویہ نے صلح امام حسنؑ میں موجود تمام عہد توڑ دیا جس میں ایک اہم شرط یہ تھی کہ وہ اپنے بعد امام حسینؑ کو خلافت سونپ دے گا، مگر اس نے مرتے وقت اپنے بیٹے یزید کو مسلمانوں کا حاکم بنا دیا۔ اس طرح معاویہ کی یہ عہد شکنی اور خلیفہ برحق مولا علیؑ اور امام حسنؑ سے جنگ کرنا زمین پر فساد برپا کرنا ہے۔ اس لیے اس آیت میں لعنت کی ذد میں معاویہ بھی شامل ہے۔

٣) وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (سوره النساء: 93)
“جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے اس کی جزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور اللہ کی لعنت برستی رہتی ہے اور اس کے لیے عظیم عذاب تیار کیا گیا ہے۔

ناصبی اس بات سے بھلے ہی انکار کریں کہ نواسہ رسولؐ کے قتل میں یزید شامل نہ تھا مگر وہ یہ تو قبول کرتے ہیں کہ اس کے دورِ حکومت میں مدینہ اور مکہ میں جو کئی سو اصحاب اور تابعین قتل ہوئے ہیں ان کے خون کا ذمہ دار یزید ہی ہے۔ اس وجہ سے بھی وہ لعنت کا مستحق ہے۔

الغرض یہ وہابی اور ناصبی جس یزید کی حمایت میں یہ کہہ رہے ہیں کہ اس پر لعنت نہ کرو کیوں کہ وہ مسلمان تھا، اس بات کو جان لیں کہ خود اسی کے باپ معاویہ نے لعنت کا رواج قائم کیا تھا، جو ستّر سال تک چلا۔ بنی امیہ کی حکومت کے خطیب ہر جمعہ کے خطبے میں امیر المومنین، خلیفہ رسولؐ حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ پر (نعوذ باللہ) لعنت کرتے تھے۔ یہ بات واضح ہے کہ قرآن کی نظر میں یزید ملعون ہے، اس کا باپ معاویہ بھی ملعون ہے اور وہ تمام افراد بھی ملاعین ہیں جو ان دونوں کی حمایت میں اپنا دین خراب کر رہے ہیں۔

2 تبصرے “کیا قرآن فاسق و فاجر مسلمان پر لعنت کرنے سے روکتا ہے؟

  1. ماشاءاللہ بہت خوب مولا آپ کو سلامت رکھے خیر و عافیت سے رکھے دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.