پیغام غدیر

خطبہ غدیر محض ایک تاریخی واقعہ کی جھلکی یا مولا علی علیہ السلام کی فضیلت کے بیان تک محدود نہیں ، بلکہ یہ اسلام کے فکری ، اعتقادی اور تمدنی ڈھانچے کی بنیاد سے متعلق ہے . یہ مسئلہ “امامت و ولایت” کا ہے . وہ حقیقت جسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں انتہائی وضاحت، تاکید اور جامعیت کے ساتھ امت کے سامنے پیش فرمایا۔ یہ وہ بیان ہے جس کے بعد خالق کائنات نے دین کے کامل ہونا کا اعلان فرما دیا تھا۔

اگر ہم اسلامی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ امتِ مسلمہ کے اکثر فکری و سیاسی اختلافات کی جڑ یہی سوال ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کی دینی و روحانی قیادت کس کے سپرد ہونی چاہیے تھی؟ آیا یہ منصب عوامی انتخاب کا تابع تھا یا خدائی تعیین کا؟

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سوال کا جواب بارہا اپنے اصحاب کے سامنے بیان کیا تھا۔ دوران حج عرفات کے میدان میں ہی نہیں بلکہ میدان غدیر میں بھی مسلمانوں کی کثیر تعداد کے سامنے نہایت واضح انداز میں آپؐ نے ارشاد فرمایا:

“اے لوگو! جان لو کہ اللہ نے علیؑ کو تمہارا ولی اور ایسا امام مقرر کیا ہے جس کی اطاعت واجب ہے۔”

یہ جملہ صرف محبت یا احترام کی دعوت نہیں، بلکہ “ولایت” اور “وجوبِ اطاعت” کا اعلان ہے۔ اسلامی اصطلاح میں “ولی” صرف دوست کو نہیں کہتے، بلکہ وہ ہستی مراد ہوتی ہے جو انسان کے دینی و اجتماعی امور پر حقِ تصرف رکھتی ہو۔ لہٰذا رسولؐ کا یہ فرمان دراصل امت کے لیے ایک الٰہی نظامِ قیادت کا اعلان ہے۔

اسی حقیقت کو قرآن مجید نے بھی مختلف مقامات پر بیان فرمایا ہے ، کیونکہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے ، اور ہر نظام کو ایک معصوم، عادل اور الٰہی رہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی خطبہ میں رسولِ خداؐ نے فرمایا:

“جو علیؑ کی پیروی کرے اور ان کی امامت کی تصدیق کرے وہی رحمتِ پروردگار کا مستحق ہے۔”

اسلام میں ہدایت کا سرچشمہ وحیِ الٰہی ہے ، اور اس وحی کی حقیقی تفسیر و حفاظت کے لیے ایک ایسے مرکز کی ضرورت تھی جو خطا ، خواہش اور ذاتی مفاد سے مبری’ ہو ، اسی لیے رسولِ اکرمؐ نے اپنے بعد معصوم اماموں کی نشاندہی فرمائ ہے۔ چنانچہ غدیر کی خطبہ میں سید المرسلین نے یہ جملے ارشاد فرماۓ:

“ اللہ کی طرف سے نورِ ہدایت میری ذات میں ہے، پھر یہ علیؑ میں منتقل ہوگا ، پھر ان کی نسل میں مہدیؑ تک باقی رہے گا۔”

یہ نورانی کلمہ دراصل “ تسلسلِ ہدایت” کا اعلان ہے۔ یعنی نبوت کے خاتمے کے بعد بھی خدا نے انسانیت کو بغیر رہبر نہیں چھوڑا ، امامت کی صورت میں نورِ ہدایت کو جاری رکھا . یہی وہ نظریہ ہے جو اسلام کو محض ایک تاریخی مذہب نہیں ، بلکہ ایک زندہ اور دائمی مکتب بناتا ہے۔

اللہ نے اپنے حبیب کو ہر اس علم سے نوازا جس کی ضرورت کسی انسان کو ہو سکتی ہے۔ لہذا قرآن میں ہم پڑھتےہیں “علّم الانسان ما لم یعلم”(علق: ۵) “اس معبود نے انسان کو ہر وہ چیز سکھا دی جو وہ نہیں جانتا تھا”۔ اس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علمِ الٰہی کے مالک بنا دیے گئے۔ پھر حکم خدا پر عمل کرتے ہوئے آنحضرت (ص) اس علم کو اپنے جانشین کے سپرد کر دیا تاکہ روزے قیامت تک یہ علم انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے۔ اس بات کو اپنے ان جملوں میں اپنے اصحاب کے سامنے پیش کیا:

“ کوئی علم ایسا نہیں جسے خدا نے میری ذات میں محصور نہ فرمایا ہو اور میں نے وہ علم علیؑ کو نہ سکھایا ہو۔”

یہاں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امامت صرف سیاسی قیادت نہیں ، بلکہ “مرجعیتِ علمی” بھی ہے۔ یعنی دین کے تمام مسائل اور حقائق کو جاننے اور سمجھنے کے لئے جس طرح امت رسول کی محتاج اسی طرح امام کی بھی محتاج ہے۔ اگر امت کو قرآن و سنت کی حقیقی تفسیر درکار ہے تو اسے اُس دروازے تک جانا ہوگا جسے رسولؐ نے “ بابِ مدینۃ العلم” قرار دیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت نے اہلِ بیتؑ کے علم سے فاصلے اختیار کیے، فکری انتشار، فرقہ واریت اور دینی تحریفات نے جنم لیا۔ اور جب بھی اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو اپنایا گیا ، علم ، عرفان، عدل اور اخلاق نے معاشرے کو نور بخشا .

۱۸ ذی الحجہ سنہ ۱۰ ہجری کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف علیؑ کی ولایت کا اعلان نہیں فرمایا بلکہ امت سے اس پر بیعت بھی لی۔ بلکہ تمام ائمہ کے لئے بیعت طلب کی۔ آپؐ نے فرمایا:

“مجھے اللہ کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم سے امیرالمومنین علیؑ اور ان کے تمام اوصیاء ، جن کا آخری مہدیؑ ہے ، کی امامت کے بارے میں بیعت لے لوں۔”

یہ بیعت دراصل اس حقیقت کا اظہار تھی کہ امامت کوئی وقتی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ قیامت تک جاری رہنے والا الٰہی نظام ہے۔ اسی لیے ائمہؑ کا سلسلہ امام مہدیؑ پر منتہی ہوتا ہے، جو عدلِ الٰہی کے عالمی ظہور کی علامت ہیں .

رسولِ اکرمؐ نے فرمایا:

“جان لو کہ خاتم الائمہ قائم مہدیؑ ہے۔ وہی ظالموں سے بدلہ لینے والا ہے، وہی ہر علم کا وارث ہے اور ہر فہم کا احاطہ رکھنے والا ہے۔”

آج جب دنیا ظلم ، مادہ پرستی، اخلاقی بحران اور روحانی اضطراب کا شکار ہے، تو انسانیت ایک بار پھر اس الٰہی قیادت کی محتاج نظر آتی ہے جو عدل، معنویت اور حقیقی انسانیت کو زندہ کرے۔

محبتِ علیؑ صرف ایک جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایمان کا معیار ہے۔ رسولِ اکرمؐ نے فرمایا:

“سوائے شقی القلب شخص کے کوئی علیؑ سے بغض نہ رکھے گا ، اور سوائے خالص مومن کے کوئی علیؑ پر ایمان نہ لائے گا۔”

کیونکہ علیؑ عدل کا نام ہیں ، تقویٰ کا نام ہیں ، معرفت کا نام ہیں، اور حق کے ساتھ اس درجہ وابستہ ہیں کہ رسولؐ نے فرمایا: “علیؑ حق کے ساتھ ہیں اور حق علیؑ کے ساتھ ہے۔”

آخر میں، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ امامت کا عقیدہ محض چند شخصیات سے عقیدت کا نام نہیں، بلکہ یہ دین کی حفاظت، قرآن کی صحیح تفسیر، شریعت کی بقا اور انسانیت کی ہدایت کا ضامن ہے۔ اسی لیے رسولِ خداؐ نے فرمایا:

“بغیر امامِ معصوم کے نہ امر بالمعروف ممکن ہے اور نہ نہی عن المنکر۔”

اور پھر تنبیہ فرمائی:

“جو ائمہؑ میں سے کسی ایک کے بارے میں شک کرے گا گویا اس نے سب کے بارے میں شک کیا ، اور ہمارے بارے میں شک کرنے والے کے لیے جہنم ہے۔”

خداوندِ عالم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں معرفتِ محمد و آلِ محمدؑ عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو ولایتِ اہلِ بیتؑ سے منور رکھے اور ہمیں امامِ زمانہ حضرت مہدیؑ کے حقیقی انصار میں شامل فرمائے

Short URL : https://saqlain.org/g0dr
saqlain

Recent Posts

امام حسینؑ نے یزید کی بیعت کیوں نہیں کی؟

تقیہ، قیام اور الٰہی مشیت کے تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ واقعۂ کربلا کے بارے…

4 weeks ago

نص کے مقابلے میں اجتہاد؟ ( تاریخی و اصولی جائزہ)

فقہ اسلامی کی دو اہم ترین بنیادیں ہیں :ایک نص دوسرے اجتہاد۔ نص سے مراد…

1 month ago

عزادارئ امام حسینؑ : بدعت یا سنتِ صحابہ؟

(تاریخ اور مستند روایات کے آئینہ میں ایک تحقیقی و فکری جائزہ) اسلامی تاریخ کا…

1 month ago

کیا امام حسینؑ کو شیعوں نے قتل کیا تھا؟

اسلامی تاریخ میں اگر کوئی واقعہ سب سے زیادہ دل سوز، المناک اور اثر انگیز…

2 months ago

معرکہ کربلا اور یزید کا مکروہ کردار،مستند اسلامی کتب اور ائمہ اربعہ کی روشنی می

واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ دلخراش باب ہے جس نے حق اور باطل، اور…

2 months ago