اسلامی تاریخ میں اگر کوئی واقعہ سب سے زیادہ دل سوز، المناک اور اثر انگیز ہے تو وہ سنہ 61 ہجری کا واقعۂ کربلا ہے۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم اور خلافت و ملوکیت کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اگرچہ ظاہری اعتبار سے یہ جنگ چند گھنٹوں پر مشتمل تھی اور امام حسینؑ اور ان کے باوفا اصحاب کو دسویں محرم کے دن شہید کر دیا گیا، لیکن اس کے اثرات چودہ صدیوں سے عالم اسلام پر نمایاں ہیں۔
امام حسینؑ رسول اللہ ﷺوآلہ کے نواسے، حضرت علیؑ و حضرت فاطمہ زہراؑ کے فرزند اور اہل بیت نبویؐ کے نمائندہ تھے۔ رسول اکرم ﷺوآلہ نے ان کے بارے میں فرمایا:
حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ الحُسَيْنٍ
“حسینؑ مجھ سے ہیں اور میں حسینؒ سے ہوں۔”»
(جامع الترمذی، ج 5، ص 324، حدیث )
اسی طرح آپؐ نے فرمایا:
الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
“حسنؑ اور حسینؑ اہلِ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔”
(سنن ابن ماجہ، حدیث 118؛ جامع الترمذی، حدیث 3768)
لہٰذا امام حسینؑ کی شہادت کوئی عام تاریخی واقعہ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺوآلہ کے گھرانے پر ڈھایا جانے والا عظیم ظلم ہے۔
کیا واقعی امام حسینؑ کو “شیعوں” نے قتل کیا؟
بعض مخالفینِ تشیع یہ اعتراض کرتے ہیں کہ امام حسینؑ کو کوفہ کے شیعوں نے خطوط لکھ کر بلایا اور پھر انہی لوگوں نے انہیں قتل کیا، لہٰذا “شیعوں نے امام حسینؑ کو قتل کیا”۔
یہ دعویٰ تاریخی اعتبار سے نہایت سطحی اور گمراہ کن ہے، کیونکہ اس میں “شیعہ” کے لفظ کو اس کے حقیقی معنی سے ہٹا کر استعمال کیا جاتا ہے۔
شیعہ کسے کہتے ہیں؟
لغوی طور پر “شیعہ” کا معنی پیروکار اور حامی ہے۔ قرآن مجید میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے:
وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ
“اور بے شک ابراہیمؑ نوحؑ کے شیعوں میں سے تھے۔”
(سورۂ صافات: 83)
لہٰذا جو شخص امام حسینؑ کا حقیقی پیروکار اور حامی ہو، وہ کبھی ان کے قتل میں شریک نہیں ہو سکتا۔
کوفہ کے خطوط اور حقیقی صورتحال
یہ درست ہے کہ کوفہ کے ہزاروں افراد نے امام حسینؑ کو خطوط لکھے اور انہیں کوفہ آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ مورخین نے بارہ ہزار سے اٹھارہ ہزار بلکہ بعض نے اس سے بھی زیادہ خطوط کا ذکر کیا ہے۔
(تاریخ الطبری، ج 5، ص 352-353؛ الکامل فی التاریخ، ابن الاثیر، ج 4، ص 14)
امام حسینؑ نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؑ کو کوفہ بھیجا۔ مسلم بن عقیلؑ کے ہاتھ پر ہزاروں افراد نے بیعت کی۔
(تاریخ الطبری، ج 5، ص 354-360)
لیکن جب یزید نے عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تو اس نے دھمکی، رشوت، قید و بند اور قتل کے ذریعے عوام کو خوفزدہ کر دیا۔ نتیجتاً اکثر لوگ منتشر ہوگئے اور مسلم بن عقیلؑ کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔
یہ عمل یقیناً عظیم غداری اور سنگین جرم تھا، لیکن غداری کرنا اور قتل کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ جن لوگوں نے امامؑ کا ساتھ چھوڑا وہ گناہگار ضرور ہیں، لیکن قاتل وہ لوگ تھے جو ابن زیاد اور یزید کی فوج میں شامل ہو کر میدانِ کربلا میں جنگ کر رہے تھے۔
قاتلینِ امام حسینؑ کون تھے؟
تاریخ کی تمام معتبر کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ کربلا میں امام حسینؑ کے مقابلے میں جو لشکر کھڑا تھا وہ یزید بن معاویہ کی حکومت کے تحت عبید اللہ بن زیاد کے حکم سے آیا تھا۔
سپہ سالار عمر بن سعد تھا، جبکہ شمر بن ذی الجوشن، سنان بن انس، خولی بن یزید اور دیگر افراد اس لشکر کے نمایاں کردار تھے۔
(تاریخ الطبری، ج 5؛ البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، ج 8؛ الکامل فی التاریخ، ابن الاثیر، ج 4)
امام حسینؑ نے روز عاشور اپنے خطبات میں بارہا ان افراد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
“کیا میں تمہارے نبیؐ کا نواسہ نہیں ہوں؟”
لیکن ان لوگوں نے حکومتِ وقت کی اطاعت کو رسولؐ کے نواسے کے احترام پر ترجیح دی۔
شیعہ عقیدہ اور قاتلانِ امام حسینؑ سے براءت:
اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ شیعہ قاتلانِ امام حسینؑ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو اسے شیعہ روایات، دعاؤں اور زیارات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ خصوصاً “زیارت عاشورہ” میں بار بار قاتلانِ امام حسینؑ، ان کے مددگاروں، منصوبہ سازوں اور ان کے حامیوں پر لعنت کی گئی ہے:
اللَّهُمَّ الْعَنْ الْعِصَابَةَ الَّتِي جَاهَدَتِ الْحُسَيْنَ وَشَايَعَتْ وَبَايَعَتْ وَتَابَعَتْ عَلَى قَتْلِهِ
ترجمہ:
“اے اللہ! اس گروہ پر لعنت فرما جس نے حسینؑ سے جنگ کی، ان کا ساتھ دیا، ان کی بیعت کی اور ان کے قتل پر تعاون کیا۔”
(مصباح المتهجد، شیخ طوسی؛ مفاتیح الجنان)
اسی طرح شیعہ عقائد کا بنیادی شعار ہے:
إِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ
“میں اس سے صلح میں ہوں جو تم سے صلح میں ہے اور اس سے جنگ میں ہوں جو تم سے جنگ میں ہے۔”
لہٰذا شیعہ مکتب میں امام حسینؑ کے قاتلوں سے محبت نہیں بلکہ ان سے براءت ایمان کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔
ایک اہم سوال: کیا صرف دعوت دینے والا قاتل کہلاتا ہے؟
اگر یہ منطق قبول کر لی جائے کہ جس نے دعوت دی اور بعد میں ساتھ نہ دیا وہی قاتل ہے، تو پھر تاریخِ اسلام کے بہت سے مسلمہ واقعات کے نتائج بدل جائیں گے۔
قرآن مجید جنگِ اُحد کے متعلق فرماتا ہے:
إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ
“جب تم بھاگے جا رہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھ رہے تھے۔”
(سورۂ آل عمران: 153)
جنگِ حنین کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ
“پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔”
(سورۂ توبہ: 25)
اگر میدان چھوڑنے والوں کو مقتولین کا قاتل قرار دیا جائے تو لازم آئے گا کہ اُحد اور دیگر غزوات کے شہداء کے قاتل بھی وہ مسلمان قرار پائیں جو میدان چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، حالانکہ ایسا کوئی مسلمان نہیں کہتا۔
لہٰذا کوفیوں کی بے وفائی اپنی جگہ ایک بڑا جرم ہے، لیکن اس سے قاتلانِ امام حسینؑ عظیم جرم سے بچ نہیں سکتے ۔
اہل سنت کے اکابر علماء کی آراء:
اہل سنت کے بہت سے جلیل القدر علماء نے بھی یزید اور اس کے کارندوں کو واقعۂ کربلا کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں:
“یزید نے اہل بیت رسولؐ کے ساتھ ایسا سلوک کیا جس سے مسلمانوں کے دل زخمی ہوگئے۔”
(تاریخ الخلفاء، ص 207)
امام ابن جوزی نے “الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید” نامی مستقل کتاب لکھی اور یزید کی مذمت کی۔
امام تفتازانی لکھتے ہیں:
“یزید کے فسق بلکہ اس کے کفر کے بارے میں بھی اختلاف نہیں کیا جاتا۔”
(شرح العقائد النسفیہ، ص 181)
یہ اقوال اس بات کی دلیل ہیں کہ امت کے بڑے علماء نے بھی واقعۂ کربلا کو عظیم ظلم قرار دیا ہے۔
یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ کوفہ کے بہت سے لوگوں نے امام حسینؑ کے ساتھ بے وفائی کی اور انہیں تنہا چھوڑ دیا، جس کی وجہ سے وہ سخت ترین مواخذے کے مستحق ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ “شیعوں نے امام حسینؑ کو قتل کیا” نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ منطقی طور پر۔
امام حسینؑ کے حقیقی شیعہ وہ تھے جو کربلا میں ان کے ساتھ شہید ہوئے؛ جیسے جناب حبیب بن مظاہرؑ، مسلم بن عوسجہؑ، زہیر بن قینؑ اور دیگر وفادار اصحاب۔ جبکہ ان کے قاتل وہ لوگ تھے جو یزید، عبید اللہ بن زیاد اور عمر بن سعد کے لشکر میں شامل ہو کر ان کے قتل میں شریک ہوئے۔
لہٰذا انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم سب، خواہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتے ہوں، رسول اللہ ﷺوآلہ کے نواسے امام حسینؑ اور ان کے اہل بیتؑ کے ساتھ محبت کا اظہار کریں، ان پر ہونے والے ظلم کی مذمت کریں، اور ان تمام افراد سے براءت کا اعلان کریں جنہوں نے براہِ راست یا بالواسطہ اس عظیم سانحے میں کردار ادا کیا۔
(تاریخ اور مستند روایات کے آئینہ میں ایک تحقیقی و فکری جائزہ) اسلامی تاریخ کا…
ایک معروف اور مستند حدیث میں جابر بن سمرہ نے نبی کریم (ص) سے یہ…
واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ دلخراش باب ہے جس نے حق اور باطل، اور…
آج کل مسلمانوں میں ایک فکر زور پکڑ رہی ہے اور وہ یہ کہ 'ہم…
شیعہ مذہب میں امامت کا جو مفہوم پایا جاتا ہے ، وہ دوسرے مسالک سے…
قرآن کریم کی سورہ بقرہ میں یہ آیت موجود ہے کہ: > وَمِنَ النَّاسِ مَنْ…