فقہ اسلامی کی دو اہم ترین بنیادیں ہیں :ایک نص دوسرے اجتہاد۔ نص سے مراد قرآنِ کریم یا رسول اکرم (ﷺوآلہ) کا وہ واضح اور صریح حکم ہے جس میں کسی مسئلے کا فیصلہ براہِ راست موجود ہو۔ جبکہ اجتہاد قرآن و سنت کی روشنی میں علمی کوشش و استنباط کا نام ہے جس کے ذریعے کسی ایسے مسئلے کا حکم معلوم کیا جاتا ہے جس کے بارے میں کوئی واضح نص موجود نہ ہو۔
چنانچہ اصولی طور پر اجتہاد کا میدان وہیں شروع ہوتا ہے جہاں نص ختم ہوتی ہے۔ اگر کسی مسئلے میں قرآن یا سنتِ نبوی کا واضح حکم موجود ہو تو پھر کسی شخص کی رائے، قیاس یا اجتہاد کو اس کے مقابلے میں حجت نہیں سمجھا جاتا۔ اس مسئلے میں اجماع بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
اسی لیے فقہ و اصولِ فقہ کی کتابوں میں ایک مشہور قاعدہ بیان کیا گیا ہے:
“لا اجتهاد مع النص”
“نص کے ہوتے ہوئے اجتہاد کی گنجائش نہیں۔”
یہ اصول صرف شیعہ مکتبِ فکر ہی کا نہیں بلکہ اہل تسنّن کے جلیل القدر اصولی علماء بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔
اہل تسنّن کے امام آمدی لکھتے ہیں:
“لا مساغ للاجتهاد في مورد النص”
“جہاں نص موجود ہو وہاں اجتہاد جائز نہیں ہے ۔”»
اسی طرح ان کے امام ابن قدامہ حنبلی فرماتے ہیں:
«ولا يجوز الاجتهاد مع النص: “نص کے ہوتے ہوئے اجتہاد جائز نہیں۔”»
اسی طرح دیگر اصولی علماء نے بھی یہی قاعدہ بیان کیا ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے واضح حکم کے بعد کسی کی ذاتی رائے کو ترجیح نہیں دی جا سکتی۔
یہی فیصلہ قرآن کا بھی ہے کہ جب اللہ اور رسول نے کسی معاملے میں ایک حکم یا رائے قائم کرلی ہے تو مومنین کو اس فرمان کے سامنے صرف ‘سلمنا’ کہنا ہے بس۔
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا [احزاب: 36]
(کسی مومن مرد یا مومن عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول نے کسی معاملے کا کوئ فیصلہ کرلیا ہو تو ان کے لیے اپنے معاملے میں کچھ اور رائے اختیار کریں ۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ یقیناً صریح گمراہی میں پڑ گیا۔)
لیکن جب تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو ہم پاتے ہیں کہ صحابہ نے بارہا رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کی مخالفت کی ہے۔ صحابہ کی جو تصویر قرآن نے پیش کی ہے ان میں یہ سب بھی شامل ہے: جنگوں سے فرار کرنا، رسول کی بارگاہ میں بد کلامی کرنا، آنحضرت کو غیرضروری مشورہ دینا وغیرہ۔ بعض ایسے مواقع پر جب صحابہ نے رسول اکرم (ﷺوآلہ)یا قرآن کریم کی مخالفت کی ہے تو ان کو بچانے کے لیے اہل تسنّن نے اس کو ‘صحابہ کے اجتہاد’ کا نام دے دیا جبکہ صحابہ کا یہ عمل کھلے عام نصوص کے مقابلے میں اجتہاد تھا۔ ان واقعات نے بعد میں اسلامی تاریخ اور عقائد پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
1۔ واقعۂ سقیفہ اور مسئلۂ خلافت
رسول اللہ (ﷺوآلہ) نے اپنے آخری حج کے بعد غدیر خم کے مقام پر ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں تم پر تمہارے نفسوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا، تو حاضرین نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ۔ اس پر سرور کائنات (ص) نے یہ اعلان فرمایا:
«من كنت مولاه فعلي مولاه
“جس جس کا میں مولا ہوں، علیؑ بھی اس کے مولا ہیں۔”»
شیعہ علماء کے نزدیک یہ اعلان حضرت علیؑ کی سیاسی و دینی قیادت کے بارے میں ایک واضح نص تھا۔ ان کا استدلال ہے کہ رسول اکرم (ﷺوآلہ) کے وصال کے فوراً بعد سقیفۂ بنی ساعدہ میں خلافت کے مسئلے کو مشاورت اور رائے کے ذریعے طے کیا گیا، حالانکہ اس سلسلے میں پہلے سے نص موجود تھی۔
شیعہ مصنفین کے مطابق یہ تاریخِ اسلام میں نص کے مقابلے میں اجتہاد کی سب سے بڑی مثال ہے، کیونکہ اس ایک فیصلے نے بعد کی پوری اسلامی تاریخ کا رخ متعین کر دیا۔ اگر تمام صحابہ رسول اعظم کے اس حکم کی تعمیل کرتے تو امت میں کسی طرح کاانحراف نظر نہ آتا۔
2۔ لشکرِ اسامہ سے تخلف
رسول اللہ (ﷺوآلہ) نے اپنی آخری بیماری کے دوران اسامہ بن زید کو ایک لشکر کا سپہ سالار مقرر فرمایا اور مسلمانوں کو اس لشکر کے ساتھ روانہ ہونے کا حکم دیا۔
متعدد تاریخی مصادر میں یہ بات مذکور ہے کہ بعض افراد نے اسامہ کی کم عمری کو موضوعِ گفتگو بنایا اور لشکر کی روانگی میں تاخیر ہوئی۔
شیعہ علماء کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ (ﷺوآلہ) کسی شخص کو سپہ سالار مقرر کر چکے تھے اور روانگی کا حکم بھی صادر فرما چکے تھے تو پھر اس فیصلے پر اعتراض یا تاخیر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی۔ ان کے نزدیک یہ بھی نص کے مقابلے میں اجتہاد کی ایک صورت تھی۔
3۔ حدیثِ قرطاس (قلم و دوات کا واقعہ)
رسول اللہ (ﷺوآلہ) کی زندگی کے آخری ایام میں پیش آنے والا یہ واقعہ صحیح بخاری سمیت متعدد معتبر کتب میں مذکور ہے۔
رسول اللہ (ﷺوآلہ) نے فرمایا:
«ائتوني أكتب لكم كتاباً لن تضلوا بعده أبداً
“میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔”»
لیکن وہاں موجود افراد کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا اور مطلوبہ تحریر نہ لکھی جا سکی۔
حضرت ابن عباس اس واقعے کو یاد کرکے فرمایا کرتے تھے:
«الرزية كل الرزية ما حال بين رسول الله وبين كتابه
“سب سے بڑی مصیبت وہ تھی جس نے رسول اللہ اور ان کی تحریر کے درمیان رکاوٹ ڈال دی۔”»
شیعہ علماء کے نزدیک جب خود رسول اللہ (ﷺوآلہ) نے لکھنے کا حکم دیا تھا تو اس حکم کے سامنے کسی دوسرے اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
4۔ متعۂ حج اور متعۂ نساء کی ممانعت
تاریخی مصادر میں خلیفۂ دوم عمر بن خطاب کا یہ مشہور قول نقل ہوا ہے:
«متعتان كانتا على عهد رسول الله وأنا أنهى عنهما وأعاقب عليهما
“دو متعے رسول اللہ کے زمانے میں رائج تھے، اور میں ان دونوں سے منع کرتا ہوں اور ان پر سزا دوں گا۔”»
شیعہ علماء استدلال کرتے ہیں کہ اگر کوئی عمل رسول اللہ (ﷺوآلہ) کے زمانے میں مشروع اور جائز تھا تو بعد میں کسی فرد کو اسے اپنی رائے سے حرام قرار دینے کا اختیار حاصل نہیں۔
ان کے نزدیک یہ نصِ نبوی کے مقابلے میں اجتہاد کی واضح مثال ہے۔
5۔ فدک اور آیاتِ میراث
رسول اللہ (ﷺوآلہ) کے وصال کے بعد حضرت فاطمہ زہراؑ نے فدک اور میراث کے سلسلے میں اپنا حق طلب فرمایا۔
شیعہ علماء اس موقع پر قرآنِ مجید کی ان آیات کو پیش کرتے ہیں جن میں انبیاء کی وراثت کا ذکر موجود ہے، مثلاً:
«وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ
“اور سلیمان، داؤد کے وارث ہوئے۔”»
اور:
«يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ
“وہ میرا اور آلِ یعقوب کا وارث ہوگا۔”»
شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق جب قرآن وراثت کا اصول بیان کر رہا تھا تو اس کے برخلاف فیصلہ نص کے مقابلے میں اجتہاد شمار ہوگا۔
6۔ اذان میں “حي على خير العمل” کا ترک
متعدد تاریخی آثار میں یہ ذکر ملتا ہے کہ ابتدائی دور میں اذان میں “حي على خير العمل” کے الفاظ کہے جاتے تھے۔
شیعہ علماء کا موقف ہے کہ اگر یہ رسول اللہ (ﷺوآلہ) کے زمانے میں اذان کا حصہ تھا تو بعد میں اس کا ترک کیا جانا بھی نص کے مقابلے میں اجتہاد کی ایک مثال شمار ہوگا۔
نتیجہ
اصولِ فقہ کا مسلمہ قاعدہ یہ ہے کہ “لا اجتهاد مع النص” یعنی نص کے ہوتے ہوئے اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسی اصول کی روشنی میں شیعہ علماء تاریخِ اسلام کے بعض اہم واقعات کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ کئی مواقع پر قرآن یا سنتِ نبوی کی موجودگی کے باوجود اجتہادی فیصلے کیے گئے۔
یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس نے بعد میں خلافت، امامت، فقہ اور تاریخِ اسلام کے متعدد اختلافات کو جنم دیا، اور آج تک شیعہ و سنی علمی مباحث میں “نص اور اجتہاد” کا موضوع ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
تقیہ، قیام اور الٰہی مشیت کے تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ واقعۂ کربلا کے بارے…
(تاریخ اور مستند روایات کے آئینہ میں ایک تحقیقی و فکری جائزہ) اسلامی تاریخ کا…
اسلامی تاریخ میں اگر کوئی واقعہ سب سے زیادہ دل سوز، المناک اور اثر انگیز…
ایک معروف اور مستند حدیث میں جابر بن سمرہ نے نبی کریم (ص) سے یہ…
واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ دلخراش باب ہے جس نے حق اور باطل، اور…
آج کل مسلمانوں میں ایک فکر زور پکڑ رہی ہے اور وہ یہ کہ 'ہم…