تاریخِ تشیع میں بعض ایسے گروہ پیدا ہوئے جو خود کو اہلِ بیتؑ سے منسوب کرتے تھے، لیکن اہلِ بیتؑ کے پورے مکتب کو قبول کرنے کے بجائے اس کے بعض حصوں کو اختیار کرتے اور بعض کو ترک کر دیتے تھے۔ انہی گروہوں میں ایک معروف گروہ “بتریہ” تھا۔
امامیہ مصادر میں بتریہ کو ایک منحرف شیعہ گروہ قرار دیا گیا ہے۔ ان کا بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ وہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی فضیلت اور اہلِ بیتؑ کی محبت کے قائل تھے، لیکن ساتھ ہی ابوبکر و عمر کی خلافت و امامت کو بھی درست سمجھتے تھے۔ رجالِ کشی کے مطابق:
وَهُمُ الَّذِينَ دَعَوْا إِلَى وِلَايَةِ عَلِيٍّ (ع) ثُمَّ خَلَطُوهَا بِوِلَايَةِ رَجُلَيْنِ وَيُثْبِتُونَ لَهُمَا إِمَامَتَهُمَا
“یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے علیؑ کی ولایت کی دعوت دی، پھر اسے دو اشخاص کی ولایت کے ساتھ ملا دیا اور ان دونوں کی امامت کو بھی صحیح جانتے تھے۔”
یہی “خلط” اور آمیزش ائمہ اہلِ بیتؑ کی تنقید کا اصل محور تھی۔
بتریہ کیوں کہلائے؟
بتریہ کی وجہِ تسمیہ کے بارے میں متعدد اقوال نقل ہوئے ہیں، لیکن امامیہ مصادر میں سب سے مشہور سبب وہ واقعہ ہے جو رجالِ کشی میں سند کے ساتھ سدیر صیرفی سے نقل ہوا ہے۔
سدیر کہتے ہیں:
دَخَلْتُ عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ (ع) وَمَعِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ وَأَبُو الْمِقْدَامِ ثَابِتُ الْحَدَّادِ وَسَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ وَكَثِيرُ النَّوَاءِ وَجَمَاعَةٌ مَعَهُمْ، وَعِنْدَ أَبِي جَعْفَرٍ (ع) أَخُوهُ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ…
پھر ان لوگوں نے امام محمد باقرؑ سے عرض کیا:
نَتَوَلَّى عَلِيًّا وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا وَنَتَبَرَّأُ مِنْ أَعْدَائِهِمْ؟
امامؑ نے فرمایا:
««نَعَمْ»»
انہوں نے پھر کہا:
نَتَوَلَّى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَنَتَبَرَّأُ مِنْ أَعْدَائِهِمْ؟
یہ سن کر حضرت زید بن علیؑ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
أَتَتَبَرَّؤُونَ مِنْ فَاطِمَةَ؟ بَتَرْتُمْ أَمْرَنَا بَتَرَكُمُ اللَّهُ
“کیا پھر تم فاطمہؑ سے بھی براءت کرتے ہو؟ تم نے ہمارے امر کو کاٹ دیا، اللہ تمہیں(منقطع) کاٹ دے۔”
راوی کہتا ہے:
فَيَوْمَئِذٍ سُمُّوا الْبَتْرِيَّةَ
“پس اسی دن سے وہ بتریہ کہلائے۔”
اس روایت سے امامیہ علماء نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان لوگوں نے اہلِ بیتؑ کے موقف کو “ادھورا” کر دیا تھا، اسی لیے انہیں “بتریہ” کہا گیا۔
ائمہ اہلِ بیتؑ کی نظر میں بتریہ:
امام جعفر صادقؑ نے بتریہ کے بارے میں فرمایا:
لَوْ أَنَّ الْبَتْرِيَّةَ صَفٌّ وَاحِدٌ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ مَا أَعَزَّ اللَّهُ بِهِمْ دِيناً
“اگر بتریہ مشرق سے مغرب تک ایک صف بن جائیں تب بھی اللہ ان کے ذریعے دین کو عزت نہیں دے گا(ان کے دین کی کوئی وقعت نہیں ہے)۔”
امام محمد باقرؑ نے ان کے بعض سرکردہ افراد کے بارے میں فرمایا:
إِنَّ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ وَسَالِمَ بْنَ أَبِي حَفْصَةَ وَكَثِيراً وَأَبَا الْمِقْدَامِ أَضَلُّوا كَثِيراً مِمَّنْ ضَلَّ
“انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔”
اسی طرح امام صادقؑ سے ان کے بعض رہنماؤں کے بارے میں نہایت سخت الفاظ بھی منقول ہیں جن میں ان پر جھوٹ باندھنے اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں تحریف کرنے کا الزام بیان ہوا ہے۔
بتریہ کا اصل مسئلہ کیا تھا؟
امامیہ علماء کے نزدیک بتریہ کی بنیادی غلطی صرف یہ نہیں تھی کہ وہ شیخین کی خلافت کو درست سمجھتے تھے، بلکہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے ولایتِ اہلِ بیتؑ کو اس کے ایک بنیادی رکن یعنی “تبرّی” سے جدا کر دیا تھا۔
وہ اہلِ بیتؑ کی محبت کا دعویٰ کرتے تھے، مگر اہلِ بیتؑ کے مخالفین کے بارے میں وہ موقف اختیار نہیں کرتے تھے جسے شیعہ، مکتب اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کا لازمی حصہ سمجھتا ہے۔
اسی لیے حضرت زیدؑ نے ان کے جواب میں صرف “غلط ہو” نہیں کہا، بلکہ فوراً حضرت فاطمہ زہراؑ کا نام لے کر فرمایا:
أَتَتَبَرَّؤُونَ مِنْ فَاطِمَةَ؟
گویا آپؑ نے یہ واضح کیا کہ اگر کوئی شخص ایک طرف حضرت فاطمہؑ کے موقف کو حق مانے اور دوسری طرف ان کے مخالف موقف کو بھی حق قرار دے، تو وہ اہلِ بیتؑ کے امر کو ادھورا کر رہا ہے۔
نتیجہ
بتریہ کی تاریخ امامیہ مکتب کے نزدیک ایک اہم اعتقادی عبرت وسبق ہے۔ اس مثال کے ذریعے علماءِ امامیہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ولایتِ اہلِ بیتؑ صرف محبت کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل موقف کا نام ہے۔ جس طرح تولّی (اہلِ بیتؑ سے محبت و وفاداری) ولایت کا جزو ہے، اسی طرح تبرّی (اہلِ بیتؑ کے مخالف موقف سے بیزاری) بھی اس کا جزو سمجھا جاتا ہے۔
اسی بنا پر امامیہ علماء نے بتریہ کو “ادھوری ولایت” کی مثال قرار دیا ہے؛ ایک ایسا گروہ جس نے اہلِ بیتؑ کی ولایت کو قبول تو کیا، لیکن اس کے تمام لوازم کو قبول نہ کیا۔ چنانچہ اس تاریخی مثال سے یہ سبق اخذ کیا جاتا ہے کہ اہلِ بیتؑ کی ولایت اپنی کامل صورت میں اسی وقت متحقق ہوتی ہے جب اسے اس کے تمام ارکان کے ساتھ قبول کیا جائے
تقیہ، قیام اور الٰہی مشیت کے تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ واقعۂ کربلا کے بارے…
فقہ اسلامی کی دو اہم ترین بنیادیں ہیں :ایک نص دوسرے اجتہاد۔ نص سے مراد…
(تاریخ اور مستند روایات کے آئینہ میں ایک تحقیقی و فکری جائزہ) اسلامی تاریخ کا…
اسلامی تاریخ میں اگر کوئی واقعہ سب سے زیادہ دل سوز، المناک اور اثر انگیز…