اہل تسنّن علماء نے اپنے دین کی بنیاد خلافت پر رکھی ہے جس میں خاص طور پر عمر ، ابوبکر اور عثمان کی خلافت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے ۔ ان کے نزدیک عمر ، ابو بکر اور عثمان کی خلافت ‘خلافت راشدہ’ تھی۔ کیا ان حضرات کو قرآن یا سنت کی نص کی بنا پر خلافت ملی ہے? نہیں۔ بلکہ، چونکہ اصحاب رسول نے ان کی خلافت پر(منصوبہ بند) اجماع کیا تھا ، اس لیے وہ خلیفہ ء برحق ہیں . شیعہ حضرات، ان افراد کی خلافت کو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی سنیوں کی اس دلیل کو قبول کرتے ہیں۔ بلکہ شیخین کو غاصب خلافت سمجھتے ہیں۔اس لیے اہل تسنّن شیعوں کو ‘رافضی’ کہتے ہیں. (رافضی ، یعنی وہ گروہ یا شخص جو رد کر دے یا خلفاء کو چھوڑ دے) اہل تسنّن چونکہ امت کے اجماع کو حق سمجھ بیٹھے ہیں اس لۓ انھوں نے اس لفظ کو ‘تبرہ کرنے والے شیعوں’ کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ۔ پس عموما ہر اثناعشری شیعہ ان کے نزدیک رافضی ہے .
اس کے برخلاف، شیعہ مکتبِ فکر کے نزدیک تاریخِ اسلام کا مطالعہ شخصیات کی تقدیس اور امت کے اجماع کے بجائے منصب امامت کو ختم نبوت کے ساتھ نبوت و رسالت کی طرح الہی منصب جانتے ہوے قرآن ، سنتِ رسول (ﷺوآلہ) اور اہلِ بیتؑ کے معیار کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے ۔ اسی اصول کے تحت شیعہ علماء نے بعض ایسے واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں ابوبکر اور عمر کے اعمال کو قرآن کی تنبیہ، رسول اللہ (ﷺوآلہ) کے حکم کے مقابل یا اہلِ بیتؑ کے حقوق کے خلاف قرار دیا گیا ہے .لہٰذا قرآنی اصولوں کے مطابق ان اشخاص کا خلفاء ہونا تو دور ان کا مسلمان ہونا یا باایمان ہونا بھی مشکوک ہوجاتا ہے ۔ مندرجہ ذیل ان متعدد واقعات میں سے چند مشہور واقعات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے تاکہ قارئین کو معلوم ہوجائے کہ ‘شیعہ رافضی کیوں ہیں؟
اول: سورۂ حجرات اور رسول اکرم(ﷺوآلہ) کے سامنے آواز بلند کرنا:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (الحجرات: 2)
مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں وہ روایات نقل کی ہیں ، جن کے مطابق ابوبکر اور عمر کے درمیان اختلاف ہوا ، ان کی آوازیں رسول اللہ (ﷺوآلہ) کی موجودگی میں بلند ہوئیں اور اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی .
سنی حوالہ: صحیح بخاری میں ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے : ” ابوبکر اور عمر نے نبی (ﷺوآلہ) کی موجودگی میں اپنی آوازیں بلند کیں … پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ ”
اسی روایت کو بخاری کی کتاب التفسیر میں نقل کیا گیا ہے اور اس میں ابوبکر و عمر دونوں کا نام صراحت کے ساتھ مذکور ہے ۔
شیعہ استدلال :
شیعہ علماء اس آیت میں موجود الفاظ :
«أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ»
کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور استدلال کرتے ہیں کہ قرآن نے یہاں اس آواز بلند کرنے کو معمولی بے ادبی نہیں مانا ہے بلکہ ایک ایسا عمل قرار دیا ہے ، جس کے بارے میں اعمال کے ضائع ہونے کا انتباہ دیا گیا۔ پس رسول اعظم کی بزم میں آواز کو بلند کرنا ‘اعمال کو حبط’ کردیتا ہے یعنی کافر بنا دیتا ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل میں موجود روایات پر تحقیقی نظر ڈالنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان دونوں اشخاص کا یہ عمل کسی نادانی کی بنا پر یا نادانستہ طور پر نہیں تھا بلکہ رسول اکرم کی توہین اور اپنی بات کو رسول کی بات پر فوقیت دینے کے لیے تھا ۔ اسی لیے رحمان و رحیم خدا نے ان کے اعمال کے حبط ہو جانے کا اعلان فرمایا ۔
دوم : لشکرِ اسامہ سے تخلّف :
تاریخی مصادر کے مطابق رسول اسلام (ﷺوآلہ) نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں اسامہ بن زید کو سپہ سالار مقرر فرمایا اور تمام مہاجرین و انصار کو اس لشکر میں شامل ہونے کا حکم دیا۔ ان سب پر یہ لازم قرار دیا کہ وہ اسامہ کے لشکر میں شامل ہوں اور فورا” مدینہ سے روانہ ہو جائیں ، مگر صحابہ قیل و قال میں لگے رہے ۔ ان کی نافرمانی اس حد تک پہنچ گئی کہ ‘رحمت للعالمین’ کو ان پر لعنت کرنی پڑی . تاریخ بتاتی ہے کہ جو اشخاص اسامہ کے لشکر میں شامل نہیں ہوۓ ، ان میں ممتاز نام ابوبکر ، عمر اور ان کے حامیوں کا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی رحلت کے بعد ان سب نے سقیفہ میں اپنے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے خلافت پر ناجائز قبضہ کر لیا۔
سوم : رزیۃ یوم الخمیس
رسول اللہ (ﷺوآلہ) کے آخری ایام میں منافقین کھل کر ان کے حکم کی مخالفت کرنے لگے ۔ حیات طیبہ کے آخری ایام میں اہل مدینہ میں اقتدار کے لیے رسی کشی شروع ہوگئی تھی ۔ انصار و مہاجرین کے درمیان عوس و خزرج کے قبائل آپس میں بھڑے ہوۓ تھے اور سب مل کر یہ چاہتے تھے کہ رسول کے حقیقی نامزد خلیفہ اور امام – علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو خلافت نہ ملے ۔ لہذا اکابر اصحاب کے مجمع میں نہایت علالت کے باوجود جب سرور عالم نے یہ فرمائش ظاہر کی کہ :
«”میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔”»
تاریخ بتاتی ہے کہ حاضرین میں دو گروہ بن گئے جن میں عمر نے اس لکھے جانے کی بھرپور مخالفت کی ۔عمر نے اس طرح کے نازیبا الفاظ ادا کیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب کو وہاں سے نکل جانے کو کہا۔ اس طرح عمر کی وجہ سے یہ تحریر نہ لکھی جا سکی اور امت کی گمراہی کا سبب عمر کی مخالفت بنی۔
شیعہ مصادر
– الاحتجاج للطبرسی
– تلخیص الشافی
– بحار الانوار
سنی مصادر
– صحیح بخاری
– صحیح مسلم
اس کے علاوہ ایسے بہت سے واقعات تاریخ میں درج ہیں ، جہاں شیخین کی صریحا” مخالفت درج ہے ، بلکہ ان تینوں کا جنگوں سے بار بار فرار کرنا ، بیعت رضوان میں وعدہ کرنے کے بعد حنین میں پھر جنگ سے بھاگ جانا تو قرآن میں بھی موجود ہے ۔ یہ وہ جرائم ہیں ، جن کے انجام دینے سے ایک مسلمان شخص کافر و مرتد ہوجاتا ہے .
شیخین کے کفر کی سب سے بڑی دلیل اور واقعہ ، جو شیعوں کے دل میں شیخین کی نفرت کو زندہ رکھے ہوۓ ہے ، وہ غصب فدک اور رسول کی بیٹی کے گھر پر حملہ ہے ۔ کسی شیعہ کو ‘رافضی’ کہا جائے ، ‘مرتد’ کہا جائے یا ‘کافر’ کہا جائے ، اس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ، مگر وہ کبھی اس شخص کو مسلمان نہیں سمجھ سکتا ، جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا ان کے اہلبیت کے کسی فرد سے دشمنی کی ہو۔ ﴿حقیقی ایمان یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے کسی دشمن سے دوستی نہ کی جائے۔﴾ شیخین نے تو جگر گوشہء رسول، سیدۃ نساء العالمین، زوجہ امیرالمومنین، ام الائمہ کو غضبناک کیا ہے لہذا ان کے لیے مکتب اہلبیت میں کوئی گنجائش نہیں رہتی . اس لئے کہ مکتب خلفاء اور مکتب اہلبیت علیہم السلام دو متضاد راستہ ہیں۔
تاریخِ تشیع میں بعض ایسے گروہ پیدا ہوئے جو خود کو اہلِ بیتؑ سے منسوب…
تقیہ، قیام اور الٰہی مشیت کے تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ واقعۂ کربلا کے بارے…
فقہ اسلامی کی دو اہم ترین بنیادیں ہیں :ایک نص دوسرے اجتہاد۔ نص سے مراد…
(تاریخ اور مستند روایات کے آئینہ میں ایک تحقیقی و فکری جائزہ) اسلامی تاریخ کا…
اسلامی تاریخ میں اگر کوئی واقعہ سب سے زیادہ دل سوز، المناک اور اثر انگیز…