282

واقعہ کربلا کی بنیاد کس نے رکھی؟

Print Friendly, PDF & Email

زیارت عاشورہ شیعہ مذہب میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس زیارت کے پڑھنے کے بارے میں ائمہ معصومین علیہم السلام نے خاص تاکید فرمائ ہے۔ اس زیارت میں جہاں حضرت سیدالشہداء اور پنجتن پاک پر سلام بھیجا گیا ہے وہیں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اہلبیتؑ کے دشمنوں سے براءت کرنا بھی اللہ سے تقرّب حاصل کرنے کا ایک راستہ ہے۔ خصوصًا ان لوگوں سے جنھوں نے اہلبیتؑ پر ظلم کی بنیاد رکھی۔ لہذا زیارت عاشورہ میں ہم اس فقرے ،
‘اتقرب الیٰ اللہ… بالبرآئة ممن اسّس اساس الظلم و الجور علیکم اہلبیت…’
یعنی
میں اللہ سے تقرب حاصل کرتا ہوں آپؑ کی ولایت کے ذریعے اور ان لوگوں سے براءت کرکے جنھوں نے آپ اہلبیتؑ پر ظلم کی بنیاد رکھی…’ کو پڑھتے ہیں
پس اس زیارت کے ذریعے شیعہ ان تمام لوگوں پر لعنت کرنا عبادت سمجھتے ہیں جو کسی بھی حالت میں، یا کسی بھی مِقدار میں، یا کسی بھی حیثیت میں قتلِ امام حسینؑ میں شامل رہے ہوں۔ حتی کہ جو لوگ اس قتل پر راضی ہوئے یا راضی ہیں وہ بھی اللہ کی لعنت کے مستحق ہیں۔
قاتلان امام حسینؑ سے براءت کرنے کا عمل، نبیؐ اکرم (ص) اور ان کی آل سے محبت کرنے کا لازمہ ہے۔ پس اگر مسلمان واقعًا اپنے نبیؐ سے محبت کرتے ہیں تو بجائے یہ کہ صرف کوفے کے شیعوں کو برا بھلا کہتے رہیں ، شیعوں کی طرح وہ بھی تمام قاتلانِ امام حسینؑ پر لعنت کریں۔ اب ہم اپنے سوال کی طرف پلٹتے ہیں کہ واقعہ کربلا کی بنیاد کس نے رکھی؟ اس سوال کا جواب ہم خود اہلبیتؑ کی روایات اور طرفین کے علماء کے اقوال میں تلاش کریں گے۔ ان میں سے چند اقوال یہاں پیش کیے جارہے ہیں۔

• مکتب اہلبیت کے جلیل القدر عالم ثقة الاسلام شیخ یعقوب کلینی نے امام صادق علیه السلام سے اس بارے میں ایک روایت نقل کی ہے ، جس میں صادق آل محمدؐ (ع) فرماتے ہیں: “جس وقت ابوبکر، عمر اور ان کے گروہ نے ‘صحیفه ملعونه’ کو تشکیل دیا اسی وقت امام حسین علیه السلام کا قتل ہوجانا بھی طے پا گیا۔”
(الکافی، ج ۸، حدیث ۲۰۲، ص ۱۸٠)
اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ کربلا واقع تو سن ٦٠ ہجری میں ہوا مگر اس کی بنیاد دشمنان اہلبیتؑ نے رسول اکرم (ص) کی زندگی ہی میں رکھ دی تھی۔
• شیعہ محقق اور عالم سید نعمت الله جزایری نے بھی اسی مضمون کی ایک روایت صادق آل محمدؐ (ع) سے نقل کی ہے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا:
“نہ امام حسینؑ قتل کیے جاتے اور نہ ہی ان کے بچّے اور اہل حرم قیدی بناے جاتے مگر یہ کہ اہل سقیفہ نے اس کی بنیاد رکھی ہے۔” (زهر الربیع، تالیف سید نعمت الله جزایری، ص ۱۹۳، چاپ موسسه العالمیة للتجلید)
اس روایت میں بھی اس بات کا واضح ذکر ہے کہ کربلا کی بنیاد سقیفہ میں ہے۔

• اسی بات کو اہل تسنّن کے بزرگ عالم ضياء الدين بن الأثير  (ت ٦٣٧هـ) نے اپنی کتاب ‘الوشى المرقوم في حل المنظوم’ میں بھی نقل کیا ہے۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ امام حسینؑ کی شہادت کی بنیاد سقیفہ ہے۔ “وأعلم أن الحسين لم يُقتل في يوم كربلاء و إنما قُتل في يوم السقيفة.”
جان لو کہ حسینؑ روز عاشور کربلا میں قتل نہیں کیے گئے بلکہ ان کو روز سقیفہ شہید کیا گیا تھا۔’
(الوشي المرقوم في حل المنظوم. ص ٣٨٣، الهيئة العامة لقصور الثقافة ، 2004 ، مصر )

• اہل تسنّن کے ایک اور بزرگ عالم موفق بن احمد خوارزمی نے بھی اسی بات کو اپنے انداز سے ڈھانک کر بیان کیا ہے کہ کربلا کی بنیاد سقیفہ ہے۔ اپنی تالیف ‘کتاب مقتل الحسین’ (علیه السلام) میں خوازمی نے نقل کیا ہے کہ جب سید الشہدا (ع) شدید زخمی ہوگئے اور اپنی سواری پر نہ رہ سکے اور زمین پر آگئے…. تب آپؑ نے اپنے ہی خون سے خضاب کیا اور فرمایا میں اسی حال میں اپنے نانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کروں گا اور ان سے فریاد کروں گا کہ مجھے فلاں اور فلاں (پہلے دونوں) ہی نے قتل کیا ہے…۔
(مقتل الحسین، تالیف خوارزمی، ج ۲، ص۳۹)
حالانکہ کہ اس روایت میں ان دونوں کے نام کا ذکر نہیں ہے مگر اشارہ صاف ہے۔
• شیخ الفقها ابو الصلاح حلبی نے اس مضمون کی ایک روایت اپنی تالیف میں نقل کی ہے کہ راوی کہتا ہے کہ میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے ان دونوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپؑ نے جواب دیا: “مسلمانوں کا اور ہمارا ایک قطرہ خون نہیں بہایا جاتا ہے مگر یہ کہ اس کے ذمہ دار وہ دونوں ہیں۔”
(تقریب المعارف، تالیف ابو الصلاح حلبی، صفحه ۲۴۵)
امام کے اس قول سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف کربلا بلکہ جب بھی جہاں بھی مسلمانوں کا بے گناہ خون بہایا جاتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ دونوں خلفاء ہیں۔

• شیخ کشی اپنی کتاب ‘اختیار معرفة الرجال’، جو ‘رجال کشی’ کے نام سے مشہور ہے، میں اسی مضمون کی ایک روایت اس طرح نقل ہوئ ہے۔ مشہور شاعر اہلبیت کمیت روایت کرتے ہیں کہ میں نے صادق آل محمد امام جعفر صادق علیہ السلام سے ان دونوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپؑ نے فرمایا :”اے کمیت! اگر ظالمانہ طور پر ایک خراش بھی لگائ جائے، یا مال غصب کیا جائے یا حرام طور پر مال جمع کیا جائے یا زنا سرزد ہو یا ناجائز طور پر نکاح قائم ہو تو ایسے تمام گناہوں کی ذمہ داری ان دونوں کی گردن پر ہے….”
(اختیار معرفة الرجال المعروف به رجال الکشی، تالیف شیخ طوسی، صفحه ۱۸۰، حدیث ۳۶۳، چاپ موسسه النشر الاسلامی)
پس شیعہ عقائد کے مطابق اہلبیتؑ پر ظلم کی بنیاد انھیں لوگوں نے رکھی ہے جنھوں نے امیرالمومنینؑ کی خلافتِ بلافصل کو غصب کیا ہے۔ اگر یہ لوگ ایسا نہ کرتے اور تاجدارِ ولایت حضرت علیؑ ابن ابی طالب علیہما السلام کو رسول اکرم (ص) کا بلافصل خلیفہ بن جانے دیتے تو مسلمانوں کا نہ بے گناہ خون بہتا اور نہ ہی مسلمانوں پر کسی قسم کا ظلم ہوتا۔ لہذا مسلم امت میں جو بھی گمرہی، اختلاف، تفرقہ، اور گناہ سرزد ہو رہے ہیں ان سب کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جنھوں نے امت کو صراط مستقیم اور ثقلین کی اتباع سے پھیر دیا ہے۔
یہی ہے اس سوال کا جواب کہ جن لوگوں نے غصب خلافت کیا اور اہلبیتؑ پر ظلم ڈھانے کی بنیاد رکھی نھیں لوگوں نے واقعہ کربلا کے واقعہ کی بنیاد رکھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.