1,229

کیا رونا منع ہے۔۔۔؟؟

Print Friendly, PDF & Email

انسان جس سے محبت کرتا ہے اُس کی خوشی میں خوش ہوتا ہے اور اُس کے غم میں غمگین وملول ہوتا ہے۔ یہ حقیقت انسانی فطرت میں داخل ہے۔ اور اس اظہار خوشی اور اظہار غم کو محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ یہ ہماری روز مرہ کی زندگی کا تجربہ ہے کہ جب کسی کے یہاں ولادت ہوتی ہے تو وہ شخص اپنے اقرباء کو خوش خبری دیتا ہے اور اُنھی اپنی خوشی میں شامل ہونے کی دعوت دیتاہے۔اسی طرح شادی کے موقع پر ولیمہ وغیرہ رکھا جاتا ہے تاکہ اپنی خوشی میں سب کو شامل کیا جاسکے۔اور اس کے برعکس جب کسی کےیہاں کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے یا کسی قریبی رشتہ دار کی موت واقع ہوتی ہے تو جاننے والوں کو خبر دی جاتی ہے۔ لوگ جمع ہوکر پسمندگان کو پُرسہ دیتے ہیں اور اُن کے غم کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس شخص کی مرنےو الے سے زیادہ قربت ہوتی ہے اُتنا ہی اُس کے جذبات متاثر ہوتے ہیں ۔ وہ بے ساختہ روپڑتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ اس طرح کے احساسات و جذبات ہر انسان میں پائے جاتے ہیں۔ رونا انسان کا فطری عمل ہے۔

مگر مسلمانوں کو اس رونے سے روکا جاتا ہے اور ایک فرقے کے مبلغین تو اپنے ماننےوالوں کو حکم دیتے ہیں کہ اے مسلمان مُردے پر مت رو۔۔۔ رُونا منع ہے!!

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ احادیث میں وارد ہوا ہے مُردے پر رونا نہیں چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ لوگ رونے والے پر کفر اور بدعت کا فتویٰ لگانے سے بھی نہیںچونکتے۔ بقول ان کے رونے کے سبب مُردے پر عذاب ہوتا ہے بطور نمونہ یہاں چند روایات کا ذکر کیا جارہا ہے۔

۱) ابوہریرہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی شخص میں یہ دو چیزیں پائی جائیں تو وہ کفر کے برابر ہے۔ ایک بہتان لگانا اور دوسرے مُردے پر رونا۔

(صحیح مسلم کتاب۱ حدیث نمبر۱۲۸)

یہاں پر رونا کفرکے مساوی قرار دیا گیا ہے۔

۲) کتاب صحیح بخاری میں یہ روایت عبداللہ بن عمر سے ملتی ہے وہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مرنے والے پر عذاب ہوتا ہے جب اس پر کوئی گریہ کرتا ہے۔

(صحیح بخاری کتاب ۴ حدیث نمبر۲۰۲۵)

۳) اسی طرح کی ایک اور روایت ابوہریرہ سے مروی ہے:

’’عن ابی بردۃ عن ابیہ قال لما اصیب عمر جعل صھیب یقول واخاہ فقال عمر اما علمت ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال ان المیت لیعذب ببکاء الحی۔‘‘

(صحیح بخاری جلد۲ کتاب ۲۳ حدیث ۳۷۷)

ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ جب عمر زخمی ہوئے صہیب نے رونا شروع کیا ہائے میرا بھائی۔ اس پر عمر نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت پر اُس کے گریہ کرنے والوں کے رونے کے سبب عذاب ہوتا ہے۔

اسی طرح کے اور بھی روایتیں ان کتابوں میں کتاب الجنائز کے ذیل میں نقل ہوئی ہیں۔ ان تمام روایتوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ رونے والوں کے سبب مُردے پر عذاب ہوتا ہے ۔یہی سبب ہے کہ عالم اسلام کہ وہ فرقہ جو اپنے آپ کو سلفی کہلاتا ہے شدت سے اس گریہ کرنے کو حرام جانتا ہے۔ اس کو بدعت او رکفر کے مساوی سمجھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعاً مُردوں پر گریہ کرنا یا کسی شہید کی یاد میں آہ وبکاء کرنا حرام ہے؟ نہیں۔ اور اس نہیں کے دلائل بھی انھیں ابواب میں اور انھیں کتابو ںمیں ملتے ہیں۔ جن لوگوں نے اُوپر دی ہوئی روایتوں سے رونے کو حرام جانا ہے اُنھوں نے علمی خیانت کی ہے۔اگروہ اُسی باب کی دیگر روایات پر نظر ڈالتے تو ایسی باتیں نہ کرتے ۔ مثال کے طورپر جس روایت میں عمر کے زخمی ہونے کا ذکر ہے اور صہیب کے گریہ اور نوحہ کا بیان ہے اس طرح کی ایک اور روایت میں اس رونے کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے۔

(صحیح مسلم کتاب ۴ کتاب الجنائز باب المیت بعذب ببکاء اہلہ علیہ حدیث نمبر۲۲۵۵)

۔۔۔عن ابی بروۃ بن ابی موسی عن ابی موسیٰ قال لما اصیب عمر اقبل صہیب من منزلہ حتی دخل علی عمر فقام بحیالہ یبکی فقال عمر علام تبکی قال ای واللہ لعلیک ابکی یا امیرالمومنین۔ قال واللہ لقد علمت ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ قال من یبکی علیہ یعذب۔ قال قذکرت ذالک یموسی بن طلحۃ فقال کانت عائشۃ تقول انما کان اولئک الیھود۔

ا س روایت میں اضافہ اور وضاحت دونوں ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ جب میں نے یہ روایت (اوپردی ہوئی ابوہریرہ کی روایت ۔ جس میں صہیب کے رونے کا ذکر ہے) موسیٰ بن طلحہ سےنقل کیا جو انھوں نے بتایا کہ عائشہ کہا کرتی تھیں کہ یہ بات (مُردے پر رونے سے اُس پر عذاب ہوتا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے یہودیوں کیلئے فرمایا تھا۔

اس حدیث سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ یہ بات یہودیوں کیلئے کہی گئی تھی نہ کہ مسلمانوں کے مُردوں کیلئے۔ نہ صرف یہ بلکہ اسی باب میں اور بھی روایتیں موجود ہیں جو اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں۔ ملاحظہ کریں۔

(صحیح مسلم : کتاب الجنائز۔ باب المیت بعذب ببکاء اہلہ علیہ حدیث نمبر۲۴۶۱۔ صحیح بخاری کتاب ۴ حدیث نمبر۲۰۲۵ اور سنن ابی داؤد کتاب الجنائز)

عن ہشام بن عروہ عن ابیہ ،قال ذکر عند عائشۃ قول ابن عمر : المیت یعذب ببکاء اھلہ علیہ۔وقالت رحم اللہ ابا عبدالرحمن سمع شیئا فلم یحفظہ انما مرت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازہ یہودی وہم یبکون علیہ۔ فقال انتم تبکون وانہ لیعذب۔

یہ روایت ہشام بن عروہ نے اپنے والے سےنقل کی ہے اور اس میں بھی عائشہ نے یہ واضح کردیا ہے کہ یہ حدیث یہودیوں کیلئے بیان کی گئی ہے کہ جب اُن کے مُردوں پر رویاجاتا ہے تو اس رونے کے سبب مُردے پر عذاب ہوتا ہے۔

اسی طرح کی ایک اور روایت عمرہ بنت عبدالرحمن سے نقل ہوئی ہے اور اُس میں بھی عائشہ نے واضح کردیا کہ یہ بات یہودیوں کے متعلق کہی گئ ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الجنائر ،حدیث نمبر۲۲۶۴)

یہاں ایک اور روایت کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہو ںجس کے بعد اس موضوع پر کسی شک وشبہہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ یہ روایت اس حقیقت کو پوری طرح آشکار کردیتی ہے کہ مسلمانوں کے مُردوں پر رونے کی کو ئی ممانعت نہیں ہے ۔ اسی طرح یہ اوپر دی ہوئی روایتوں کی تائید بھی کرتی ہے اور کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی ۔ اس روایت میں جناب عبداللہ ابن عباس مفسر قرآن کا قول نقل ہے اوروضاحت عائشہ کی زبانی جاری ہورہی ہے نہ صرف یہ بلکہ اس حدیث کو بزرگ محدثین سنن و صحاح نے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے جیسے صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد وغیرہ عبداللہ ابن ابی ملیکہ نقل کرتےہیں کہ جب عثمان بن عفان (تیسرے خلیفہ) کی بیٹی کا انتقال مکہ میں ہوا تو ہم اُن کے جنازہ میں شرکت کیلئے گئے۔ میں عبداللہ ابن عمر(دوسرے خلیفہ کے بیٹے) کے پہلو میں جاکر بیٹھ گیا اُن کے سامنے عمروبن عثمان (تیسرے خلیفہ کے بیٹے ) بیٹھے تھے۔ اتنے میں عبداللہ ابن عباس آئے اور میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ اس طرح میں اُن دونوں کےد رمیان ہوگیا۔ اندر سے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ تو عبداللہ ابن عمر نے عمروابن عثمان سے کہا، کیا تم اُن کو رونے سے منع نہ کروگے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’’مُردے پر اُس کے رونے والوں کے سبب عذاب ہوتا ہےاس پر ابن عباس نے کہا اس طرح کی بات عمر کہا کرتے تھے۔۔(یہاں صہیب والی روایت نقل کی گئی ہے) پھر ابن عباس کہتے ہیں کہ جب عمر کی رحلت ہوئی (اس موقع پر) میں نے یہ حدیث عائشہ سے بیان کی تو اُنھوں نے یوں فرمایا۔

فقالت یرحم اللہ عمر لا واللہ ماحدث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اللہ یعذب المومن ببکاء احد۔ ولکن قال ان اللہ یزید الکافر عذاب ببکاء اہلہ علیہ۔ قال وقالت عائشہ حسبکم القرآن ولاتزروازرۃ وزری اخری، قال وقال ابن عباس عند ذالک واللہ۔ اضحک و ابکی۔‘‘

(صحیح بخاری کتاب ۴ حدیث نمبر ۲۰۲۳ سنن ابی داؤد کتاب ۱۶ حدیث نمبر ۱۶؍۱۲؍۳۷، صحیح مسلم کتاب الجنائز باب المیت یعذب ببکاء اہلہ علیہ حدیث نمبر ۲۲۵۸)

عائشہ نے جواب دیا کہ خدا عمر پر رحم کرے بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مومن پر اس کے رونے والوں کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے بلکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ہے کہ کافر کا عذاب اس پر رونے والوں کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے پھر اُنھوں نے قرآن کی اس آیت سے استدلال کیا کہ کیا قرآن میں یہ نہیں ہے کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔(انعام:۱۶۴)

پھر ابن عباس نے مزید فرمایا: قرآن کی یہ آیت کہ اور اللہ ہی ہنساتا ہے اور رُلاتا ہے(نجم:۴۲)

اس روایت سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی مومن کیلئےیہ بات نہیں کہیں ہے بلکہ کافر کیلئے کہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں یہ لفظ استعمال ہوتے ہیں ’’واللہ ماحدت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ‘‘ تواب اگر کوئی رسول اللہ ؐ کی طرف اس بات کو نسبت دیتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان دونوں بزرگوں نے اس ضمن میں قرآن کی آیتوں سے استدلال بھی کیا ہے۔ سورہ انعام ۱۶۴ (کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا)

تو رونے والے کی وجہ سے مرنے والے پر عذاب کیونکر ہوسکتا ہے ۔

سورۃ نجم :۴۲: اور وہی ہے جو ہنساتا  ہے اور رُلاتا ہے۔‘‘

تو رونے والے پر بھی عذاب کیسا جب خدا ہی رُلاتا ہے اور خدا ہی ہنساتا ہے۔

الغرض یہ بات پوری طرح سے غلط ہے کہ مسلمان مُردے پر رونے سے اُس پر عذاب ہوتا ہے بلکہ احادیث میں توملتاہے کہ مومن جب اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اُس پر زمین و آسمان گریہ کرتے ہیں۔ قرآن کی اس آیت سورہ دُخان:۲۹ کی تفسیر میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے۔ تمام معتبر تفاسیر میں ایسی احادیث مذکور ہیں۔ فما بکت علیہم السماء والارض وما کانوا منظرین (دخان:۲۹) ۔ مسلمانوں کی مشہور معروف تفسیر۔ درالمنشور میں جلال الدین سیوطی یہ روایت نقل کرتے ہیں۔

عن ابن عباس قال: یقال الارض تبکی علی المومن اربعین صباحا

ابن عباس نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا ہے جب مومن مرتا ہے تو زمین اُس پر چالیس دن تک روتی ہے اسی آیت کے ذیل میں تفسیر طبری میں ملتا ہے کہ ابن عباس سے ایک شخص کےسوال کے جواب میں بتایا کہ جب مومن مرتا ہے تو آسمان میں اُس کے رزق کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور وہ دروازہ بھی بند ہوجاتا ہے جہاں سے اُس کے اعمال اوپر جاتے تھے۔ اُس پر وہ آسمان گریہ کرتے ہیں۔ اُسی طرح زمین کا وہ حصہ بھی اُس پر روتا ہے جس پر وہ نماز پڑھا کرتا تھا اور خدا کا ذکر کرتا تھا۔

مختصر یہ کہ مومن وہ ہے جس کے مرنے پر زمین و آسمان گریہ کرتے ہیں بلکہ ان زمین و آسمان کو رلانے والا خود اُس کا خالق ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی رونے والے کی وجہ سے اُس مومن پر عذاب نازل ہو۔

اس مقالہ کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس غلط فہمی کو دور کیا جائے جسے مسلمانوں میں رائج کیا گیا ہے کہ مسلمان کا مُردے پر رونا حرام ہے۔اُوپر بیان کی گئی صحیح و معتبر احادیث اس بات کی دلالت کررہی ہیں۔ اور جو بھی اس رونے کو منع کرتا ہے اُس نے یا تو ان ابواب کا پوری طرح سے مطالعہ نہیں کیا ہے یا اُس نےدانستہ طور پر علمی خیانت کی ہے۔ اس مقالہ کے دوسرے حصہ میں انشاء اللہ ہم یہ ثابت کریں گے کہ اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اپنے عزیزوں کی رحلت پر گریہ کرتے تھے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنے چاہنے والوں کی موت پر آنسو بہائے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.