رسول اکرم (صلی اللہ علیہ والہ) کے بارہ خلیفہ کون ہیں?

ایک معروف اور مستند حدیث میں جابر بن سمرہ نے نبی کریم (ص) سے یہ روایت کی ہے کہ اس امت میں 12 خلفاء ہوں گے ۔ ان کاعدد بھی نقبائے بنی اسرائیل کے عدد کے موافق ہے اور مفسرین نے تورات سے نقل کیا ہے کہ حضرت اسماعیل (ع) سے حق تعالیٰ نے فرمایا: میں تیری ذریت سے 12 سردار پیدا کروں گا۔ غالباَ یہ وہی 12 ہیں جن کا ذکر جابر بن سمرہ کی حدیث میں ہے۔
اثناعشری مکتب فکر میں یہ بارہ خلفاء ائمہ اہلبیتؑ ہیں جو سب کے سب قریش اور آل رسول ہیں۔ مکتب اہلبیت کی کتابوں میں ان تمام خلفاء کے نام، ولدیت، کنیت، القاب وغیرہ خود آنحضرت کے اقوال کی شکل میں مرقوم ہیں۔ لہذا یہ سب کے سب خلفاء رسول اعظم اسی طرح ‘منصوص من اللہ’ اور ‘معصوم عن الخطا’ ہیں جس طرح رسول اسلام اللہ کی جانب سے منصوص اور معصوم تھے۔
مکتب صحابہ جو اپنے آپ کو اہل سنت کہلاتے ہیں ان کے علماء ان بارہ خلفاء یا بارہ اماموں کے انتخاب سے عاجز ہیں اور رہیں گے۔ علامہ ابن خلدون اپنے مقدمہ تاریخ میں پہلے چاروں خلفاء کے بعد امام حسن (ع) کو پانچواں خلیفہ تسلیم کرتے ہیں۔ پھر لکھتے ہیں: “معاویہ چھٹے خلیفہ ہیں اور ساتویں عمر بن عبد العزیز ہیں۔ باقی پانچ خلفاء اہلبیت میں سے اولاد علی (ع) میں سے ہوں گے۔ مقدمہ ابن خلدون ج 2، ص 178 ترجمہ مولانا راغب رحمانی۔ اسی طرح دیگر اہل تسنّن علماء نے بھی ان بارہ خلفاء کے ناموں کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ رسول اکرم کی حدیث کی تاویل کی جاسکے۔ ان میں سب سے دلچسپ بیان برصغیر کے بزرگ عالم دین مولانا وحید الزمان خان حیدرآبادی کا ہے۔ مولانا نے اس حدیث کی شرح میں جو کچھ لکھا ہے ہم صرف اسی کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ مولانا کا علمی مرتبہ بہت بلند ہے: یہ مفسر قرآن ہیں، اس کے علاوہ ان کی صحیح بخاری کی مفصل شرح نو ضخیم جلدوں میں کراچی سے چھپ چکی ہے۔ اس کے علاوہ صحیح مسلم، ابی داؤد، ابن ماجہ، نسائی شریف اور موطا امام مالک کے شارح بھی ہیں۔ اس لیے ان کا بیان کافی اہمیت کا حامل ہے۔
مولانا کا پہلا بیان حاشیہ بخاری سے ملاحظہ فرمائیں، لکھتے ہیں: “ یہ بارہ خلفاء آنحضرت (ص) کی امت میں گذر چکے ہیں حضرت صدیق (رض) سے لے کر عمر بن عبد العزیز تک 14 حاکم گذرے ہیں۔ ان میں سے دو کا زمانہ انتہائی قلیل رہا ہے۔ ایک معاویہ بن یزید اور دوسرا مروان ان کو نکال ڈالو تو وہی 12 خلیفہ ہوتے ہیں“۔(تیسر الباری شرح بخاری ج 9، ص 267 شائع کردہ تاج کمپنی کراچی)

مولانا کا درسرا بیان:
مولانا سنن ابی داؤد میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے اپنے پہلے بیان سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور لکھتے ہیں: “بظاہر یہ حدیث مشکل ہو گئی ہے علما پر۔ کیونکہ چار ہی خلیفہ ایسے گذرے ہیں جن سے دین قائم ہوا اور کل یا اکثر امت نے اس پر اتفاق کیا۔ باقی خلفائے عباسیہ اور بنو امیہ تو ظالم اور جابر رہے اگرچہ اکا دکا ان میں بھی عادل اور متبع شرع تھے“
(سنن ابی داؤد ج 3، صفحہ 347 شائع کردہ نعمانی لاہور)۔ اس بیان میں انھوں نے جو قابل تعریف بات کی ہے وہ یہ کہ خلیفہ کم از کم عادل اور متبع شرع تو ہونا ہی چاہیے گرچہ کہ رسولؐ کی طرح معصوم نہ ہو۔

مولانا کا تیسرا بیان:
‘لغات الحدیث’ سے مولانا وحید الزمان کا چوتھا بیان ملاحظہ فرمائیں۔ یہ ١٢ خلفاء کون کون سے ہیں؟ لکھتے ہیں: “اہلسنت کے علما ان میں سے تراش خراش کرتے ہیں اور خلفائے راشدین کے بعد کچھ لوگوں کو بنو امیہ میں سے لیتے ہیں۔ کچھ عباسیہ میں سے جو ذرا اچھے اور عادل گذرے ہیں۔ ہم نے ھدیتہ المھدی میں لکھا ہے کہ ان ١٢ امیروں سے ائمہ اثنا عشر (بارہ امام) مراد ہیں اور امارت سے دینی پیشوائی اور سرداری مراد ہے نہ کہ حکومت ظاہری۔ وللہ واعلم“
(لغات الحدیث ج ١، کتاب الف، ص ٦١ مطبوعہ کراچی) یہاں انھوں نے اس مسئلے کو لگ بھگ پوری طرح حل کر دیا ہے۔
مولانا کا چوتھا بیان:
ائمہ اثنا عشر کا ذکر کرنے کے بعد مولانا وحید الزمان لکھتے ہیں: “یہی بارہ امام ہمارے امام ہیں یہی لوگ امرا ہیں۔ حقیقت میں ان ہی کی طرف خلافت رسول خدا (ص) اور ریاست دین معین ہوئ ہے۔” (ہھدیتہ المھدی ص ١٠٢ مؤلف مولانا وحید الزمان بحوالہ عقل و تہذیب اہل حدیث ص ١٢٢ شائع کردہ امامیہ کتب لاہور)۔ پس اگر انسان غیر جانبداری سے اور تعصب کے عینک کو اتار کر قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے تو اس کے لیے حق تک پہنچ پانا آسان ہے۔ مگر افسوس اکثر لوگ گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتے ہیں ﴿وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَى عَلَى الْهُدَى… [فصلت: 17]

Short URL : https://saqlain.org/y7zl