(تاریخ اور مستند روایات کے آئینہ میں ایک تحقیقی و فکری جائزہ)
اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ، سانحئہ کربلا ہے، جس نے رہتی دنیا تک کے لۓ حق اور باطل کی لکیریں واضح کر دیں۔ امام عالی مقام، سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کی مظلومانہ شہادت پر صدمے کا اظہار کرنا ، ان کا غم منانا اور گریہ کرنا صدیوں سے مسلمانوں کا شیوہ رہا ہے۔ تاہم دورِ حاضر میں کچھ حلقوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ” کیا عزاداری یا غمِ حسینؑ منانا بدعت ہے؟” یا پھر یہ کہ ” کیا تاریخِ اسلام میں صحابہ کرام اور ازواجِ نبی سے بھی ایسی عزاداری یا ماتم کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟ ”
اگر ہم تعصب کی عینک اتار کر اہلِ تسنّن کی معتبر اور مستند تاریخی و حدیثی کتب کا مطالعہ کریں ، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ غمِ حسینؑ منانا بدعت نہیں ، بلکہ عینِ سنتِ رسول (ﷺوآلہ) اور سنتِ صحابہ ہے ۔
1. سنت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): وہ مواقع جب خود رسول اللہ (ﷺوآلہ) نے اپنے نواسہ کی مظلومیت پر گریہ فرمایا.
عزادارئ امام حسینؑ کی بنیاد کسی امتی نے نہیں ، بلکہ خود سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفی’ (ﷺوآلہ) نے رکھی ۔ یہ غم شہادتِ حسینؑ سے پہلے ہی خانۂ رسالت میں منایا جا رہا تھا.
اہلِ تسنّن کے عظیم محدث امام احمد بن حنبل اپنی کتاب ’مسند احمد‘ میں روایت کرتے ہیں کہ مولا علی المرتضیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں :
> “میں ایک دن نبی کریم (ﷺوآلہ) کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ (ﷺوآلہ) کی چشمانِ مبارک سے آنسو جاری ہیں ۔ میں نے عرض کی : ‘یا رسولؐ اللہ! کیا کسی نے آپ کو ناراض کیا؟’ آپ (ﷺوآلہ) نے فرمایا : ‘نہیں، بلکہ ابھی جبریلؑ میرے پاس سے اٹھے ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ میرا بیٹا حسینؑ فرات کے کنارے (کربلا میں) شہید کر دیا جائے گا، اور انھوں نے مجھے وہاں کی مٹی سنگھائی، جس کی وجہ سے میں اپنے آنسو نہ روک سکا۔'”
اسی طرح ’مستدرک الصحیحین’ میں ‘حاکم نیشاپوری’ نے زوجہ رسولؐ ام الفضل اور بنت ابی بکر عائشہ کی روایات درج کی ہیں کہ جب جبریلؑ نے امام حسینؑ کی شہادت کی خبر دی ، تو رسول خدا (ﷺوآلہ) کی آنکھوں سے سیلِ اشک رواں تھا .
پس یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مرسل اعظم (ﷺوآلہ) نے اپنے نواسہ کی مظلومیت پر بارہا گریہ فرمایا ہے۔ تو پھر امت کا ان کی یاد میں رونا بدعت کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو عینِ اتباعِ رسول (ﷺوآلہ) ہے۔ غور طلب ہے کہ یہ آنحضرتؐ کا گریہ کرنا واقعہ کربلا سے پہلے ہوا ہے ۔ یعنی امام حسینؑ کی زندگی میں پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے حسینؑ کی مظلومیت پر گریہ فرمایا ہے۔ اس لیے جو یہ کہتے ہیں کہ ‘ہم زندۂ جاوید کا ماتم نہیں کرتے’ وہ جان لیں کہ رسولؐ کا یہ گریہ کرنا ان کی فکر کی تردید کر رہا ہے . رہی بات یہ کہ جو بد عقیدہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کو تاریخ میں دکھایا جائے کہ کب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امام حسین علیہ السلام پر ماتم کیا یا جلوس نکالا یا شبیہ تابوت بنائ ، تو پہلے انھیں کی عقل کا ماتم کیا جانا چاہیے۔ رسولؐ اعظم کو جب ان کے نواسہ پر ہونے والے ظلم کی خبر دی گئی ، اس وقت سید الشہداء کا بچپنا تھا۔ اس وقت ان کی شہادت کا جلوس نکالنا یا ماتم داری کرنا یا شب بیداری کرنا احمقانہ فعل ہوتا ۔ تاجدارِ ‘ لو لاک لما خلقت الافلاک ‘ کا اپنے نواسے پر گریہ کرنا کسی بھی ماتمی کے ماتم یا جلوس یا شب بیداری سے بالاتر اور عظیم ہے۔
2. وفاتِ رسول (ﷺوآلہ) پر ازواجِ پیغمبرؐ کا ماتم کرنا۔
بعض اوقات یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ صدمے کی شدت میں چہرے یا سینے پر ہاتھ مارنا (جسے عربی میں ‘لطم’ یا ماتم کہتے ہیں) اسلام میں جائز نہیں ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جب انسان پر صدمہ کا پہاڑ ٹوٹتا ہے، تو یہ ایک فطری جبلت بن جاتا ہے .
مکتبِ اہلِ تسنّن کی سب سے معتبر تاریخی کتاب ’تاریخ طبری‘ (جلد 2، صفحہ 447) اور ’مسند احمد‘ (جلد 6، صفحہ 274) میں زوجہ رسول ، خلیفہ اول کی بیٹی عائشہ کا اپنا اعتراف درج ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺوآلہ) کا وصال ہوا:
“میں آپ (ﷺوآلہ) کے سرہانے کھڑی ہو گئی اور مدینہ کی دیگر خواتین کے ساتھ مل کر اپنے چہرے کو پیٹنے لگی (التدم) اور اپنے سینے پر مارنے لگی (واضرب صدری)
عربی لغت میں “التدم” کے معنی صدمہ سے چہرے یا سینہ پر ہاتھ مارنے کے ہیں ۔ اگر ازواجِ نبیؐ اور مدینہ کی صحابیات کا رسول اللہ (ﷺوآلہ) کی وفات پر چہرہ اور سینہ پیٹنا جائز تھا ، تو سید الشہداء امام حسینؑ پر غم کا ایسا ہی اظہار ناجائز کیسے ہو گیا؟ یہاں یہ بات بیان کردینا مناسب ہوگا کہ مخالفین یہ کہتے ہیں کہ ان کی اماں عائشہ نے بعد میں اپنی اس عمل سے رجوع (انحراف) کرلیا اور توبہ کرلی تھی ۔ اگر اس بات کو قبول کر بھی لیا جائے تب بھی صدمے میں اگر کوئی اپنا سر و سینہ پیٹے تو اس کے اس عمل کو بدعت نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس عمل سے خود رسول اکرم (ص) نے انھیں نہیں روکا تھا ، بلکہ کسی صحابی نے عائشہ کو گریہ و ماتم پر ملامت کی جس پر انھوں نے توبہ کی۔ اگر یہ ماتم کرنے کا رواج دور رسالت میں قبیح ہوتا تو دوسری خواتین نے کیوں عائشہ کا ماتم میں ساتھ دیا؟؟
3. حضرت حمزہ ،اسد اللہ اور اسد رسولؐ پر نوحہ اور گریہ:
جنگِ احد میں جب نبی پاک (ﷺوآلہ) کے چچا حضرت حمزہؑ شہید ہوئے، تو مدینہ واپسی پر حضور (ﷺوآلہ) نے دیکھا کہ انصار کی خواتین اپنے اپنے شہیدوں پر رو رہی ہیں۔ آپ (ﷺوآلہ) کی چشمانِ مبارک نم ہو گئیں اور آپ (ﷺوآلہ) نے فرمایا: “لیکن حمزہ پر رونے والی کوئی نہیں ہے۔”
’مسند احمد‘ کے مطابق، یہ سن کر صحابہ کرام نے اپنی خواتین کو حکم دیا کہ وہ جا کر حضرت حمزہ کا ماتم کریں اور ان کا غم منائیں۔ چنانچہ خواتین نے رسول اللہ (ﷺوآلہ) کی خواہش پر حضرت حمزہؑ کا غم منایا، اور حضور (ﷺوآلہ) نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ اس روایت سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ شہداء پر گریہ و ماتم کا رواج پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قائم کیا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج وہ لوگ جن کے اجداد میں سے کسی نے اسلام کے لیے نہ کبھی خون بہایا نہ کبھی زخمی ہوئے بلکہ اہلبیت پر ظلم کیا یا ہر جنگ سے فرار ہوئے وہ مسلمانوں کو شہداء پر گریہ کرنے سے روکتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان بدبختوں کے لیے جنگ سے فرار ہوجانا سنت اجداد ہے اور رسولؐ کے خاندان کی مصیبت پر گریہ و ماتم کرنا بدعت ہے۔
4. مدینہ میں کہرام اور صحابہ کا طرزِ عمل:
جب سن 61 ہجری میں امام حسینؑ کی شہادت کی خبر مدینہ منورہ پہنچی، تو مدینہ کی گلیوں میں وہ کہرام مچا جس کی مثال نہیں ملتی۔ جلیل القدر مفسرِ قرآن عبداللہ بن عباس نے خواب میں رسول اللہ (ﷺوآلہ) کو پریشان حال، غبار آلود اور ایک شیشی میں امام حسینؑ کا خون جمع کرتے دیکھا، تو وہ تڑپ اٹھے اور انہوں نے علانیہ اس غم کا اظہار کیا۔
تاریخ ابنِ اثیر کے مطابق، ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یہ خبر سن کر غش کھا گئیں اور مدینہ کی تمام خواتین گھروں سے باہر نکل آئیں اور مرثیہ پڑھ پڑھ کر روئیں۔ کسی ایک بھی صحابی نے اسے “بدعت” کہہ کر روکنے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ سب جانتے تھے کہ حسینؑ سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
5. قرآنی و عقلی نقطہ نظر
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود ایک نبی کے غم کا تذکرہ فرمایا ہے۔ سورہ یوسف میں آتا ہے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے جدا ہوئے، تو حضرت یعقوبؑ اپنے بیٹے کے غم میں اس قدر روئے کہ ان کی بینائی چلی گئی:>
﴿وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ﴾ (سورہ یوسف: 84)
اگر ایک زندہ اور نبی بیٹے کی عارضی جدائی میں اتنا رونا کہ آنکھیں سفید ہو جائیں، سنتِ انبیاء ہو سکتا ہے، تو کائنات کے سب سے مظلوم شہید، جو جوانانِ جنت کے سردار ہیں، ان کے مصائب پر آنسو بہانا عینِ عبادت اور تقاضائے ایمان کیوں نہیں ہے۔
حاصلِ کلام (نتیجہ)
اس تمام علمی اور تاریخی بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عزاداریِ امام حسینؑ جس کا اصل مقصد امام عالی مقام کے مصائب کو یاد کرنا، ان کی مظلومیت پر آنسو بہانا اور ان کے مشن کو زندہ رکھنا ہے اور یہ بلا شبہ سنتِ رسول (ﷺوآلہ) اور سنتِ صحابہ و ازواجِ نبی سے ثابت ہے۔
جس “نوحہ” سے اسلام میں منع کیا گیا ہے، وہ ’نوحۂ جاہلیت‘ ہے، یعنی اللہ کی تقدیر پر اعتراض کرنا یا کفر کے کلمات زبان پر لانا۔ لیکن امام حسینؑ کی محبت میں بہنے والا ایک ایک آنسو دراصل رسول اللہ (ﷺوآلہ) کی خوشنودی کا باعث ہے، کیونکہ حضور (ﷺوآلہ) نے فرمایا تھا: “حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے!”﴿احب اللہ من احب حسینا﴾ یہ گریہ و ماتم اجر رسالت ادا کرنا ہے۔ یہ ‘مودت فی القربی’ کے ضمن میں آتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام اور اہلبیت علیہم الصلوۃ والسلام کی مصیبتوں پر گریہ اور اظہار صدمہ خواہ جس کیفیت و صورت میں ہو سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ادائے اجر رسالت ہے
