آج کل مسلمانوں میں ایک فکر زور پکڑ رہی ہے اور وہ یہ کہ ‘ہم نہ سنی ہیں، نہ شیعہ، نہ وہابی، نہ بریلوی ، ہم صرف مسلمان ہیں . ہم اپنے آپ کو کسی مکتب فکر سے کیوں جوڑیں؟ ہمیں اس طرح فرقوں میں نہ اللہ نے ، نہ اس کے رسول نے تقسیم کیا ہے بلکہ قرآن نے ہماری پہچان یہی قرار دی ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ “ھو سمّاکم المسلمین” (حج ۷۸) {اس نے تمھارا نام مسلمان رکھا ہے۔}۔ لہذا ہمارا تعرف بنص قرآن یہی ہونا چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ‘مسلمان’ کہلوائیں۔ قرآن نے ہم کو فرقوں میں نہیں بانٹا ، اس نے ہم سب کو ‘ ایک امت’ قرار دیا ہے: (سوره الأنبياء:۹۲) “إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ ۔” (بلاشبہ یہ ایک ہی امت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، پس تم سب صرف میری ہی عبادت کرو)۔ اتنا ہی نہیں بلکہ قرآن نے ہم کو فرقوں میں بنٹ جانے سے منع بھی فرمایا ہے۔ “واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا۔”(آل عمران : ۱۰۳) {پس اللہ کی مضبوط رسی کو تم سب مل کر تھام لو اور تفرقہ نہ کرو}۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ “جو اپنے آپ کو کسی فرقے سے منسوب کرتا ہے وہ قرآن کی مخالفت کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی شناخت صرف یہ قرار دیں کہ ہم اہل توحید ہیں اور مرسل اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امتی ہیں، بس۔”
ظاہری طور پر ان تمام باتوں میں اچھائی نظر آتی ہے مگر جب اس کی گہرائی کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ان میں باطل ہی نظر آتا ہے۔ ‘کلمۃ حق و یراد بھا الباطل’ (یہ جملہ تو حق ہے مگر جو اس سے مراد لیا جا رہا ہے ، وہ باطل ہے)۔ دشمنوں اور مخالفین کے مقابلے میں مسلمانوں کا ایک ہوجانا لازم و ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا میں جو اسلام کے خلاف سازشیں چل رہی ہیں اس کی زد میں سب ہیں چاہے وہ خود کو ‘سنی’ کہیں یا شیعہ۔ آج کی دنیا کا سیاسی ماحول ایسا ہے کہ دنیا بھر میں ‘islamophobia’ ‘اسلامو فوبیا’ کا بھر پور پرچار ہو رہا ہے۔ اس ‘اسلام دشمنی’ کو مسلمانوں کے سب سے شدید دشمن صیہونی (Zionist) افکار رکھنے والے افراد ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل ان لوگوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑ دیا ہے اور ان کے اس منصوبے کو کامیاب کرانے میں خلیج کے وہابی حکومتوں نے خوب مدد کی ہے۔ ان وہابیوں نے سب سے پہلے تمام مسلمانوں کو بدعتی قرار دیا اور پھر انھیں کے جوانوں کو ورغلا کر خودکش دستے تیار کیے جو مسجدوں، درگاہوں، بازاروں، اسپتالوں، درس گاہوں وغیرہ پر حملے کرتے ہیں۔ صیہونی میڈیا نے ان دہشت گردی کے واقعات کو خوب نشر کیا اور مسلمانوں کی ایسی تصویر پیش کی کہ جس سے ان کے لیے دوسروں کے دل میں صرف نفرت پیدا ہو۔ دوسری طرف یہ تکفیری اور وہابی ٹولے مسلمان ممالک کو صیہونی منصوبے کا حامی بنانے کی بھی کوشش کرتے رہے۔ جن ممالک نے ان کا ساتھ دیا ان کو خوب نوازا گیا اور جن حکومتوں نے ان کی مخالفت کی ان کے خلاف بغاوت کرائی گئی اور ان کا تختہ پلٹ کرنے کی سازشیں رچی گئیں۔
مصیبت یہ ہے کہ جو اس طرح کے اسلام دشمنی کے کام کرتے ہیں وہ بھی خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ بظاہر بڑے نمازی، بڑی داڑھی والے مسلمان ، مگر حقیقت میں ہیں یہودی ۔ اس پس منظر کو بیان کرنے کی ضرورت اس لیے ہے تاکہ جو لوگ آج ‘ایک امت’ کی بات کررہے ہیں ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اپنے آپ کو صرف مسلمان کہنا کیوں کافی نہیں ہے۔ آج کے دور میں جب انٹرنیٹ کی بدولت معلومات عام ہے، تو جانکار لوگ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ سب مسلمان ایک جیسے نہیں ہیں۔ اس لیے آج سے زیادہ کبھی اس بات کی ضرورت نہیں تھی کہ ہم اپنی شناخت کو کھل کر بیان کریں۔ تاکہ لوگ جان سکیں کہ ہم شیعہ ہیں اور ہم دوسروں سے کس طرح الگ ہیں۔ مخالفین ہم کو اپنی بندوق کا نشانہ کیوں بنائے ہوئے ہیں۔ کیوں اکثریت نے ہمیشہ ہم پر ظلم کیا ہے۔ کیوں ہم اہلبیتؑ کے موالی ہیں اور ان کے دشمنوں سے بیزار ہیں۔ کیوں ہم دوسروں کی طرح سقیفائی خلافت کو نہیں قبول کرتے۔ تبرہ کیوں ہماری پہچان ہے اور ہم اس کو کیوں چھوڑنا نہیں چاہتے۔
اس کے علاوہ مسلمانوں میں ہر طرح سے ، فکری طور پر ہو ، یا عملی طور پر ، اتنے زیادہ اختلاف ہیں کہ ایک ہوپانا ناممکن ہے۔ ہر ایک خود کو ‘سچا اور پکا مسلمان’ سمجھتا ہے اور دوسرے کو ‘منحرف یا بدعتی’ قرار دیتا ہے۔
یہ شعر اس دور کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
‘ زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا۔ ‘
‘ اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں۔ ‘
حقیقت یہی ہے کہ ہر ایک مکتب فکر نے اپنی تعلیمات میں ‘ قرآن و سنت ‘ کے علاوہ بلکہ قرآن و سنت سے زیادہ اپنے علماء کے آراء و اجتہاد کو دین بنالیا ہے ۔ اس وجہ سے وہ گمراہی کے راستے پر گامزن ہیں ۔ اسی گمراہی سے بچنے کے لیے رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے فرمایا تھا :
‘يا أيُّها الناس، إني تركتُ فيكم ما إنْ أخذتُم بھما لن تضلُّوا بعدی: كتاب الله، وعِترتي أهْلَ بَيتي’ (طبراني في المعجم الكبير (3/66)، و(5/167)) ( اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑ کر جارہا ہوں جس کو اگر تم نے تھامے رکھا تو میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے- اللہ کی کتاب (قرآن ) اور میری عترت ، میرے اہلبیتؑ)۔ اس بات کو اللہ کے رسولؐ نے بارہا دہرایا تھا ، کیونکہ ان کو خبر تھی کہ میرے بعد یہ امت گمراہ ہوجائے گی ۔ اپنے آخری وقت میں بھی اپنے شدید ضعف کے باوجود وہ یہی کوشش کرتے رہے کہ اپنی امت کو جہمنی بن جانے سے بچالیں ، مگر بعض منافق صحابہ ان کی مخالفت پر آمادہ تھے ۔ ان لوگوں میں اتنی جسارت تھی کہ آنحضرتؐ کے بار بار حکم دینے کے باوجود یہ لوگ اسامہ بن زید کے لشکر میں شامل نہ ہوۓ۔ ان لوگوں نے روز خمیس، اپنی بےحیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، قلم و کاغذ دینے سے منع کردیا یہاں تک کہ حبیب خدا (ص) کو ‘ لھجر’ (ہزیان)تک کہہ دیا ۔ آج امت کے اختلاف اور گمراہی کی وجہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے خاتم الانبیاء(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی وصیت کرنے سے روکا اور ان کے کلام کو فراموش کیا۔ اگر تمام صحابہ مل کر فرمان رسولؐ پر عمل کرتے اور ان کے حقیقی جانشین کی بیعت پر برقرار رہتے تو آج اس امت میں اس قدر گمراہی نہ ہوتی۔ یہی سبب ہے کہ سرور اعظم(ص) کی یہ خواہش رہی کہ لوگ ان کے اہلبیتؑ کی ولایت کو قبول کرلیں۔ ﴿انی لارجو لامتی فی حب علیؑ کما ارجو فی قول لا الہ الا اللہ﴾
لہذا آج اگر مسلمان ہدایت یافتہ ہونا چاہتے ہیں یا ایک ہونا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے رسول اسلام (ص) کے فرمان پر عمل کریں ۔ ہدایت یافتہ ہونا ہی مسلمانوں میں یکجہتی پیدا کرسکتی ہے ۔
مرسل اعظم(ص) کا فرمان ، ” لا تجتمع امتی علی الضلالۃ “(ترمذي: 2167) مسلمانوں کے درمیان مشہور ہے ، اسی کو البانی نے اپنی کتاب میں انس بن مالک سے اس طرح نقل کیا ہے “ان اللَّهَ قد أجارَ أمَّتي أن تجتمِعَ علَى ضلالةٍ” جس کا مطلب یہی ہے کہ “میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔” یعنی اگر امت کو ‘ ایک امت ‘ بننا ہے تو سب کو گمراہی سے پیچھا چھڑاکر ہدایت یافتہ ہونا پڑے گا۔ قرآن نے بھی ” کونوا مع الصادقین ” ( صادقین کے ساتھ ہوجاؤ ) کا درس دیا ہے ۔
کون ہیں یہ لوگ جن کو قرآن نے ‘صادقین’ کہا ہے اور جن کے ساتھ ہوجانے کا حکم دیا جارہا ہے؟ بلا شبہ یہ وہی افراد ہیں جو ‘صراط مستقیم’ پر ہیں اور جو بقول قرآن دو خصلتوں کے حامل ہیں ‘انعمت علیھم’ جن پر اللہ کی نعمت ؛ولایت امت’ نازل ہوئ ہے یعنی جن کو امت کی رہبری کرنے کا فیض حاصل ہوا ہے اور یہ افراد ‘ غیر المغضوب و لا الضالین’ ہیں یعنی نہ انھوں نے کبھی خدا کو غضبناک کیا ہے اور نہ ہی کبھی خود گمراہ رہے ہیں بہ الفاظ دیگر یہ وہ ہستیاں ہیں ، جو اللہ کی جانب سے ‘ معصوم عن الخطا ‘ اور ‘ مطھرون’ ہیں۔
خلاصہ ء کلام یہ کہ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہنا آج کے زمانے میں غیر مناسب ہے کیونکہ دنیا اب جان چکی ہے کہ مسلمان دو طرح کے ہیں ایک ظالم کا ساتھ دینے والے اور دوسرے ہر قیمت پر مظلوم کا ساتھ دینے والے۔ دوسری بات یہ کہ مسلمانوں میں اس قدر گمراہی ہے کہ ہر کس و ناکس کی بات کو مان لینا حقیقی اسلام سے دور کر دےگا ۔ تیسری بات یہ کہ جن لوگوں نے رسولؐ کے فرمان کی مخالفت کی وہی مسلمانوں میں گمراہی اور تفرقہ بازی کے ذمہ دار ہیں ۔ اگر یہ منافقین اور ان کے محامی رسولؐ اکرم کی بات مان لیتے تو امت میں یہ تفرقہ نہ ہوتا۔ آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ آج اگر امت کو “ایک امت” بننا ہے تو اسے اپنے آپ کو دامن اہلبیتؑ سے متمسک کرنا ہوگا ، کیونکہ یہی افراد ہدایت یافتہ ہیں اور امت کو گمراہی سے بچانے والے ہیں۔ صرف اہلبیتؑ کا اتباع ہی مسلمانوں کے اختلاف کو دور کرسکتا ہے۔ ‘۔ قد صدقت بنت رسولؐ اللہ ، صدّيقۃ طاہرۃ، سیدۃ نساء العالمین فاطمة عليها السلام: “جعلَ اللهُ إمامتَنا أماناً للفُرقة۔” (الإحتجاج، ج 1، ص 99) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی نے دربار میں غاصبین خلافت کے سامنے یہ اعلان کردیا تھا کہ “اللہ نے ہم اہلبیتؑ کی امامت کو امان بنایا ہے امت کے فرقوں میں بنٹ جانے سے”۔ لہذا مسلمانوں میں یکجہتی تب ہی ممکن ہے جب تمام مسلمان اہلبیت رسولؐ کی امامت کو قبول کرلیں