کیا بارہ اماموں کا عقیدہ علماء کی ایجاد ہے ؟

کیا بارہ اماموں کا عقیدہ علماء کی ایجاد ہے ؟

شیعہ مذہب میں امامت کا جو مفہوم پایا جاتا ہے ، وہ دوسرے مسالک سے مختلف ہے ۔ شیعہ مکتب فکر کے مطابق امامت ایک الہی منصب ہے ۔ لہذا امام ایک الہی رہنما ہے اور اس کی اطاعت اسی طرح واجب ہے جیسے نبی کی اطاعت واجب ہے۔ اثناعشری مذہب کے نزدیک اماموں کی تعداد صرف بارہ ہے ، جبکہ دوسرے فرقے جیسے زیدیہ یا اسماعیلیہ وغیرہ اس بارہ کے عدد کے قائل نہیں ہیں۔ اس لیے مخالفین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بارہ اماموں کی عدد شیعوں میں نہیں تھی بلکہ یہ اثناعشری مذہب کے علماء کی ایجاد ہے ۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ اماموں کی تعداد کا بارہ ہونا اگر شیعوں کے مسلمات میں ہوتا تو شیعوں کے تمام فرقے اس کو قبول کرتے مگر بارہ اماموں کے عقیدہ کا صرف اثناعشری مکتب ہی قائل ہے۔ ایسا کیوں؟
اعتراض کا جواب دینے سے پہلے یہ بتادینا ضروری ہے کہ اہل تسنّن کی کتابوں میں بھی رسولؐ اسلام کے بارہ خلیفہ ہونے کی بات ملتی ہے۔ بطور نمونہ اس روایت کو پیش کرتے ہیں جو مختلف طریقے سے روایت کی گئی ہے: جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں ، “میں نے پیغمبر خدا (ص) کا یہ ارشاد سنا ہے ، وہ فرماتے ہیں ، ‘ میرے بعد بارہ حاکم ہوں گے ‘ ، اس کے بعد آپ نے کوئی فقرہ ادا فرمایا ، جسے میں نہ سن سکا (میں نے اپنے والد سے دریافت کیا تو) میرے والد نے کہا کہ پیغمبر (ص) نے یہ فرمایا کہ ‘ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔”
(فتح الباری ج ۹، ص ۲۶۶)
اسی طرح کی روایت سنن ابی داؤد (ج ۳، ص ۳۴۷) وغیرہ میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ ‘بارہ خلفاء’ کا عقیدہ اثناعشری فرقے کی ایجاد ہے، سراسر غلط ہے۔
اب اگر سوال یہ ہے کہ ‘بارہ کا عدد’ کہاں سے آیا تو اس کی مثال قرآن کی متعدد آیات میں موجود ہے۔ کہیں قرآن میں’بارہ’ مہینوں کا ذکر ہے تو کہیں بنی اسرائیل کے سرداروں کا ، جو کہ تعداد میں بارہ تھے۔ یہ اس لیے کہ خود سرور کائنات(ص) کے اقوال میں ان دونوں مناسبتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ سورہ توبہ کی آیت نمبر ۳۶ : ” اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے”۔ اس کے ذیل میں آنحضرت (ص) کا یہ قول ملتا ہے ، “عِدَّتُهم عدّة أشهُر السنةِ، آخرُهم يصلّي عيسى بن مريم خلفه” ، جس کا مطلب ہے کہ ” ان ائمہ کی تعداد بارہ ہے جس طرح سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں اور ان کا آخری وہ امام ہے جن کے پیچھے عیسی بن مریم علیہما السلام نماز پڑھیں گے۔” یہ روایت کتاب ‘الغیبۃ’ نعمانی کے باب ۶ سے نقل کی گئی ہے۔ اسی طرح قرآن میں بنی اسرائیل کے بارہ سرداروں کا ذکر ہے – سورہ مائدہ:۱۲ (و بعثنا منھم اثنا عشر نقیبا) اس کے ذیل میں مفسرین (دیکھیے تفسیر عثمانی ترجمہ مولانا محمود الحسن ص ۱۴۰) نے رسول خدا (ص) کا یہ فرمان نقل کیا ہے: “میرے بعد بارہ سردار اور پیشوا ہوں گے وہ سب قریش ہی سے ہوں گے۔”(جامع ترمذی ج ۱، ص ۸۱۳)۔
مختصر یہ کہ طرفین نے اس طرح کی روایات بیان کی ہیں کہ ائمہ یا سرداروں کی تعداد بارہ ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ یہ عقیدہ صرف شیعہ کتب میں ہے ، جہالت اور تعصب پر مبنی ہے

Short URL : https://saqlain.org/yv92