435

عمر کے ہاتھوں بنت رسول کے قتل پر مدینہ کے لوگ کیوں خاموش رہے اور کوئی اقدام نہیں کیا؟

الف۔ کیا بنی ہاشم اور بہت سے وہ لوگ کہ جنہوں نے سقیفہ اور اس زمانہ کے واقعات اور حادثات پر اعتراض کیا اور حضرت فاطمہؐ زہرا کے گھر میں جمع ہوکر ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا مدینہ کے باشندے نہیں تھے؟

ب۔ کیا رسولؐ خدا نے مدینہ کے لوگوں کو حق و باطل کی شناخت کا معیار بنایا تھا یا حضرت علی علیہ السلام کو؟
اگر مدینہ کے لوگوں کا عمل اور کردار حق و باطل کی شناخت کا معیار ہے تو خلیفہ سوم کا قتل اور ان کی بیوی نائلہ (1) سے پیچھا چھڑانا اور اس پر اعتراض کرنا، خلیفہ کے جنازہ میں شرکت نہ کرنا، مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے سے منع کرنا، اور خلیفہ کے جنازہ کو یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔ و…… یہ سب جائز اور مباح تھا؟۔

اور خلیفہ کو قتل کرنے والے صرف مقصر اور گناہگار ہی نہیں ہیں بلکہ جزائے الہی کے بھی مستحق ہوں گے اور ان کی قدردانی اور شکریہ بھی ادا ہونا چاہئے اس لئے کہ مدینہ کے لوگ بھی قتل عثمان کے موقع پر خاموش رہے اور کوئی کاروائی نہیں کی۔

اگر مدینہ کے لوگوں کا عمل اور کردار ہی حق و باطل کی شناخت کا معیار ہوگا تو اس صورت میں یزید کہ جس نے مدینہ پر حملہ کیا اور صحابہ کا قتل کیا نیز مسلمانوں کا قتل عام اور ان کی ناموس کو مباح کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یزید نہ تو مقصر ہے اور نہ ہی اس نے کسی معصیت کا ارتکاب کیا ہے اس لئے کہ مدینہ کے لوگوں نے یزید کے مقابلہ اور اس کی مخالفت میں کوئی اقدام نہیں کیا۔ (اس فقرے کے مخاطب وہ مسلمان ہیں جو اپنے کو اہلسنت والجماعت کہتے ہیں جن کے نزدیک یزید فاسق، فاجر اورشرابخور تھا)
————————————————————————
(1) ((فغمز اوراقھا و قال: انّھا لکبیرۃ عجیزۃ))۔ تاریخ طبری، ج۲، ص۶۷۶، حوادث سال۳۵ھجری۔

Short URL : https://saqlain.org/krvi

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.