Categories: حدیث

حديث

امام على عليہ السلام فرماتے ہيں :

انا وصىّ سَيِّدِ النَّبِيِّينَ أَنَا الْحُجَّةُ الْعُظْمَى وَ الْآيَةُ الْكُبْرَى وَ الْمَثَلُ الْأَعْلَى وَ بَابُ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى أَنَا الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى‏

ميں سردارِ انبياءؑ كا وصى ہوں ، ميں حجتِ عظمىٰ ہوں ، ميں آيتِ كبرىٰ ہوں ، ميں مثلِ اعلىٰ ہوں ، ميں نبى مصطفىؐ كا دروازہ ہوں ، ميں عروة الوثقىٰ ہوں ۔

(أمالى شيخ الصدوق ، ص ۳۸ ، مجلس ۱۰ ، حديث ۶)

Short URL : https://saqlain.org/so/jja7
saqlain

Recent Posts

کیا بنی امیہ واقعی قریش سے ہیں??

اقوال اہلبیت علیہم السلام سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ 'یزید و معاویہ'…

5 days ago

شیعہ رافضی کیوں ہیں؟

اہل تسنّن علماء نے اپنے دین کی بنیاد خلافت پر رکھی ہے جس میں خاص…

2 weeks ago

بتریہ: ولایتِ اہلِ بیتؑ کو ادھورا کرنے والا ایک منحرف شیعہ گروہ

تاریخِ تشیع میں بعض ایسے گروہ پیدا ہوئے جو خود کو اہلِ بیتؑ سے منسوب…

3 weeks ago

پیغام غدیر

خطبہ غدیر محض ایک تاریخی واقعہ کی جھلکی یا مولا علی علیہ السلام کی فضیلت…

3 weeks ago

امام حسینؑ نے یزید کی بیعت کیوں نہیں کی؟

تقیہ، قیام اور الٰہی مشیت کے تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ واقعۂ کربلا کے بارے…

2 months ago

نص کے مقابلے میں اجتہاد؟ ( تاریخی و اصولی جائزہ)

فقہ اسلامی کی دو اہم ترین بنیادیں ہیں :ایک نص دوسرے اجتہاد۔ نص سے مراد…

2 months ago