اہل تشیع حضرات کا دین مکمل طور پر اہلبیتِ رسولؐ کے اتباع پر مبنی ہے۔ اپنی دینی و دنیوی قیادت کے لۓ شیعوں نے ہر لحاظ سے قول رسول پر عمل کرتے ہوئے اہل بیتؑ کی پیروی کی ہے۔ اس کے برعکس اوروں نے کبھی بھی اہلبیت رسول کی پیروی نہیں کی۔ بعض میانہ روی رکھنے والے افراد یہ دعویٰ ضرور کرتے ہیں کہ وہ بھی آل رسول کو مانتے ہیں ، ان کے نزدیک اہلبیتؑ پیغمبرؐ کو معنوی ولایت حاصل ہے۔ وہ اپنے مریدوں کے سامنے اہل بیتؑ کے فضائل تو بیان کرتے نظر آتے ہیں مگر ان کا اتباع نہیں کرتے اتباع یہ لوگ اہلبیتؑ کے علاوہ ہر ایک کی کرتے ہیں۔ ان کی مستند کتابوں میں حدیث ‘ثقلین’ جیسی واضح حدیث کے باوجود ان لوگوں نے ہمیشہ اہل بیت رسول سے روگردانی کی ہے۔ رسول اسلام (ص) کی رحلت کے بعد انھوں نے امیرالمومنینؑ کی بلافصل امامت کو قبول نہیں کیا ۔ انھوں نے دنیوی قیادت کے لیے سقیفائ خلفاء کی سرداری کو قبول کیا۔ حتی کہ جب خود امیرالمومنینؑ کو خلافت ظاہری ملی تب بھی ان کے پیروؤں اور بزرگوں نے کھل کر امیرالمومنینؑ کی مخالفت کی ان لوگوں نے تو حضرت علی سے جنگیں بھی لڑیں۔ (مسلمانوں کا یہ گروہ ان باغیوں کے باطل پر ہونے کو قبول تو کرتا ہے مگر ان کے کفر کو نہیں مانتا جبکہ شیخین کے مخالفین کو یہ لوگ برملا کافر و مرتد و رافضی کہتے ہیں)۔ فقہ کے میدان میں بھی اہلبیتؑ کے جلیل القدر فقہاء کے استاد امام جعفر صادقؑ کی موجودگی میں ان لوگوں نے دوسروں کی فقہی رہنمائ کو قبول کیا۔ حد تو یہ ہے کہ دوسروں کی چاروں فقہوں کو یہ لوگ قبول کر لیتے ہیں مگر فقہ جعفری کو قبول نہیں کرتے۔ یہی حال ان کے یہاں عرفان، اخلاقیات، ادب و آداب، اعمال وغیرہ کا بھی ہے۔ ہر میدان میں انھوں نے اہلبیتؑ سے روگردانی کی ، ان کے علاوہ جو میسر ہوا ، اس کی پیروی کر لی مگر اہلبیتؑ کی پیروی نہیں کی۔ حالانکہ کسی بھی میدان میں کبھی بھی کوئ بھی اہلبیتؑ سے بہتر و برتر ہونا تو دور ہم پلہ قرار نہیں پایا ۔ انھوں نے مفضول کی سرپرستی کو قبول کیا مگر اہلبیت کا اتباع نہیں کیا۔ اور اس کے بعد دعویٰ یہ کہ اہلبیتؑ کو معنوی ولایت حاصل ہے۔ یہ لوگ کسی معاملے میں اہلبیتؑ کی رہنمائی قبول نہیں کرتے ، بلکہ جو اہلبیتؑ کی پیروی کرتا ہے اس کو رافضی کہتے ہیں۔ آخر یہ کیسی ولایت ہے جو اللہ نے اہلبیتؑ کو دی تو ہے مگر مسلمانوں کی نظر میں لائق اتباع نہیں ہے؟؟
مگر یہ یاد رہے کہ جس ولایت کی پشت پناہی آیات و روایات سے نہ ہو وہ در اصل بے معنی ولایت ہے جس کی اسلام میں کوئی جگہا نہیں ہے۔
تقیہ، قیام اور الٰہی مشیت کے تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ واقعۂ کربلا کے بارے…
فقہ اسلامی کی دو اہم ترین بنیادیں ہیں :ایک نص دوسرے اجتہاد۔ نص سے مراد…
(تاریخ اور مستند روایات کے آئینہ میں ایک تحقیقی و فکری جائزہ) اسلامی تاریخ کا…
اسلامی تاریخ میں اگر کوئی واقعہ سب سے زیادہ دل سوز، المناک اور اثر انگیز…
ایک معروف اور مستند حدیث میں جابر بن سمرہ نے نبی کریم (ص) سے یہ…
واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ دلخراش باب ہے جس نے حق اور باطل، اور…