اقوال اہلبیت علیہم السلام سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ ‘یزید و معاویہ’ کا پورا کا پورا خاندان لعنت زدہ ہے۔ زیارت عاشورہ اور ائمہ اہلبیت علیہم السلام کے ارشادات میں یہ جملہ ملتا ہے “اللہم العن بنی امیۃ قاطبہ”۔ بلکہ قرآن مجید نے بھی اس خاندان کو ‘شجرہ ملعونہ’ کہا ہے۔ اس کے باوجود مسلمان اپنے خلفاء کی عزت بچانے میں دن رات ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بنی امیہ کے درباری علماء اور مورخین نے بھی یہ کوشش کی کہ امیہ کو خاندان قریش سے مشہور کر دیا جائے۔
لہذا تاریخِ اسلام اور علمِ انساب میں قریش کی شاخوں، بالخصوص بنو ہاشم اور بنو امیہ کا باہمی تعلق، ہمیشہ سے ایک حساس اور گہری بحث کا مرکز رہا ہے۔ اگرچہ بعد کے ادوار میں یہ تاثر عام ہوا کہ یہ دونوں قبائل ایک ہی جدِ اعلیٰ یعنی عبد مناف کی صلبی شاخیں ہیں، لیکن قدیم تاریخی متون، کلامی شواہد اور خصوصاً کلامِ امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ کی روشنی میں کیے جانے والے عمیق تحقیقی جائزے سے یہ نتیجہ واضح ہوتا ہے کہ بنی امیہ نسلی اور صلبی اعتبار سے قریش اور بنو ہاشم کے اصل خاندان سے نہیں، بلکہ رسمِ جاہلیت کے تحت قریش سے رشتہ (منہ بولے بیٹے) کا تھا۔
تاریخی پس منظر اور کلامِ امیر المومنینؑ کی دلالت
جنگِ صفین کے دوران جب معاویہ بن ابی سفیان نے اپنے خطوط میں مشترکہ جد کا حوالہ دے کر سیاسی و قبائلی برابری کا دعویٰ کیا اور کہا: “ہم سب بنو عبد مناف ہیں، لہٰذا حقِ اقتدار اور شرف میں برابر ہیں”، تو امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ نے اپنے تاریخی مکتوب (نہج البلاغہ، مکتوب 17) میں اس نظریے کی بنیادوں پر گرفت فرمائی:
«وَأَمَّا قَوْلُكَ: إِنَّا بَنُو عَبْدِ مَنَافٍ، فَكَذَلِكَ نَحْنُ، وَلَكِنْ لَيْسَ أُمَيَّةُ كَهَاشِمٍ، وَلَا حَرْبٌ كَعَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَلَا أَبُو سُفْيَانَ كَأَبِي طَالِبٍ، وَلَا الْمُهَاجِرُ كَالطَّلِيقِ، وَلَا الصَّرِيحُ كَاللَّصِيقِ»
”اور تمہارا یہ کہنا کہ ہم سب عبد مناف کی اولاد ہیں، تو (بظاہر) ہم بھی ایسے ہی ہیں، لیکن نہ امیہ ہاشم جیسا ہے اور نہ حرب عبد المطلب جیسا؛ نہ ابو سفیان ابو طالب کے مانند ہے، نہ راہِ خدا میں ہجرت کرنے والا آزاد کردہ قیدی (طلیق) جیسا ہے، اور نہ خالص و صریح نسب والے کا قیاس دوسرے کے نسب سے جوڑے گئے (لصیق) پر ہو سکتا ہے!“
اس عبارت میں حضرت علیؑ نے بالترتیب تقابل پیش کرتے ہوئے آخری جملے میں بنیادی اصول بیان فرمایا: ایک طرف الصریح (خالص، اصل اور بے داغ نسب) ہے اور دوسری طرف اللصیق (خاندان کے ساتھ باہر سے لاحق کیا گیا شخص)۔
”الصریح” اور “اللصیق” کا لغوی و اصطلاحی تجزیہ
علمِ لغت اور انساب کی رو سے ان دو الفاظ کی تفریق خاندانی حقیقت کو مکمل طور پر آشکار کرتی ہے:
الصریح: لسان العرب اور دیگر لغات کے مطابق اس سے مراد وہ فرد ہے جس کا نسب اپنے قبیلے کے ساتھ خالص، ثابت شدہ اور حقیقی صلب سے ہو۔
اللصیق: اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اصل نسل اور صلب سے نہ ہو، بلکہ اسے حلف، تبنّی (منہ بولا بیٹا بنانے) یا بعد میں کسی تعلق کی بنا پر خاندان سے “چپکا” یا “جوڑ” دیا گیا ہو۔
ابن ابی الحدید معتزلی نے اپنی شرح میں اس عبارت کی تاویل کرتے ہوئے اسے محض اخلاقی برتری پر محمول کرنے کی کوشش کی، تاہم علامہ مجلسی سمیت متعدد محققین نے اس تاویل کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تاویل بنو امیہ کے نسبی نقص پر پردہ ڈالنے کی ناکام سعی ہے۔
امیہ بن عبد شمس کی اصل حقیقت اور رسمِ تبنّی
علامہ محمد باقر مجلسی (بحار الانوار، جلد 33) اور قدیم مورخین کی پیش کردہ تاریخی اسناد کے مطابق:
رومی نژاد غلام: امیہ درحقیقت عبد شمس کی صلبی اولاد نہیں تھا، بلکہ وہ روم کا ایک غلام تھا جسے عبد شمس نے خریدا تھا۔
جاہلی رسمِ الحاق (تبنّی): زمانہ جاہلیت میں یہ عام دستور تھا کہ جب کوئی عرب سردار کسی غیر عرب یا غیر قبیلہ غلام کی خدمات سے خوش ہوتا، تو وہ اسے آزاد کر کے کسی عرب خاتون سے اس کا نکاح کرا دیتا اور پھر اعلان کر کے اسے اپنا فرزند بنا کر اپنے نسب میں شامل کر لیتا تھا۔
قریش سے انتساب، نہ کہ نسل: عبد شمس نے امیہ کو اسی رسم کے تحت اپنا بیٹا قرار دیا، جس کی وجہ سے وہ “امیہ بن عبد شمس” کہلایا۔ پس وہ قریش کی اصل صلب سے نہیں تھا بلکہ قریش سے منسوب (لصیق) تھا۔
اسی حقیقت کی بنا پر علامہ مجلسی یہ حتمی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بنی امیہ اصلاً قریش اور آلِ عبد مناف کی نسل سے نہیں ہیں، بلکہ وہ محض قریش کی طرف منسوب شدہ ہیں