کیا دشمنان خدا سے تبرّیٰ واجب ہے؟

اہل تشیع اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ ولایتِ اہلبیتؑ کو قبول کیے بغیر کسی کا ایمان لانا یا کسی نیک عمل کو انجام دینا کوئ فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے۔ اس بابت اہلبیت اطہار علیہم السلام کی طرف سے بہت سی احادیث وارد ہوئ ہیں۔ (ان احادیث کا یہاں ذکر کرنا مناسب نہیں۔) اس مضمون میں ہمارا مقصد تولّیٰ پر نہیں بلکہ تبرّی کی اہمیت پر گفتگو کرنا ہے۔ بعض افراد کے مطابق تبرّی کی اہمیت تولی کے مقابلے قدرے کم ہے۔ بعض لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ تبرّیٰ واجب ہی نہیں ہے۔ بقول ان کے جب تولّیٰ سے نجات کی ضمانت حاصل ہے تو تبرّیٰ یعنی دشمنان اہلبیت سے اظہارِ بیزاری کی کیا ضرورت ہے؟ ان کے اس سوال میں بھلے ہی ان کے دل کی سادگی ہی مضمر ہو مگر ان کی نیت پر شک کیا جاسکتا ہے۔ اب آئیے اس سوال کے جواب کی طرف رخ کیا جائے کہ تبرّی واجب ہے یا نہیں؟

شیعوں کے بزرگ محدّث شیخ صدوق (رح) نے اس سوال کا جواب اس طرح دیا ہے: اعتقادنا فی البراة انھا واجبة۔ ہمارا (یعنی شیعوں کا) عقیدہ ہے کہ تبرّی واجب ہے۔
اسی باب میں اس سوال کا جواب امام جعفر صادق علیہ السلام کے ان جملوں سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔ آپؑ نے دینِ خدا کے دشمنوں اور دشمنان خدا کے دوستوں سے برائت و بیزاری کو واجب قرار دیا ہے۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں:

“من خالف دين الله، وتولى أعداء الله، أو عادى أولياء الله، فالبراءة منه واجبة، كائنا من كان، من أي قبيلة كان”۔
ترجمہ: جو دین خدا کی مخالفت کرے اور دشمنان خدا سے دوستی کرے یا خدا کے دوستوں سے دشمنی کرے تو اس سے برائت و بیزاری واجب ہے خواہ وہ شخص کوئی بھی ہو اور کسی قبیلے سے تعلق رکھتا ہو۔
( الاعتقادات فی دین الامامیة، ص١١١)

مذکورہ حدیث میں وجوبِ تبرّیٰ کے ساتھ ساتھ اس بات کی وضاحت بھی موجود ہے کہ کن افراد سے تبرّی کرنا واجب ہے۔ جس کسی فرد کے عمل یا عقیدے میں یہ خصلتیں پائ جائیں گی اس سے تبرّی واجب ہے خواہ وہ شخص کوئی بھی ہو۔

اتنا ہی نہیں بلکہ اس بات کی بھی تاکید کی گئ ہے کہ بغیر تبرّی کے کوئ بھی عقیدہ مکمل نہیں ہو سکتا۔ علامہ مجلسی (رح) نے اس ذیل میں نقل کیا ہے کہ لا یتم الاقرار باللہ و برسلہ و بالائمة الا بالبرائة من اعدائھم۔ بغیر دشمنان اہلبیتؑ سے برائت کیے ہوئے کسی کا بھی توحید، نبوت و امامت کا عقیدہ مکمل نہیں ہوسکتا۔
(بحار الأنوار – ج ٨ – ص ٣٦٦)

خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی کے دل میں دشمنانِ اہلبیتؑ کے لیے نفرت نہیں ہے اور وہ زبان و عمل سے اس کا اظہار نہیں کرتا تو اس کا تمام بنیادی عقائد پر ایمان لانا ناقص ہے۔ لہٰذا نہ صرف یہ کہ تبرّی واجب ہے بلکہ دیگر بنیادی عقائد کی سلامتی اور کمال کے لیے اہلبیتؑ کے دشمنوں سے بیزاری ضروری ہے۔

Short URL : https://saqlain.org/so/ck8m
saqlain

Recent Posts

امام حسینؑ نے یزید کی بیعت کیوں نہیں کی؟

تقیہ، قیام اور الٰہی مشیت کے تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ واقعۂ کربلا کے بارے…

4 days ago

نص کے مقابلے میں اجتہاد؟ ( تاریخی و اصولی جائزہ)

فقہ اسلامی کی دو اہم ترین بنیادیں ہیں :ایک نص دوسرے اجتہاد۔ نص سے مراد…

1 week ago

عزادارئ امام حسینؑ : بدعت یا سنتِ صحابہ؟

(تاریخ اور مستند روایات کے آئینہ میں ایک تحقیقی و فکری جائزہ) اسلامی تاریخ کا…

3 weeks ago

کیا امام حسینؑ کو شیعوں نے قتل کیا تھا؟

اسلامی تاریخ میں اگر کوئی واقعہ سب سے زیادہ دل سوز، المناک اور اثر انگیز…

4 weeks ago

رسول اکرم (صلی اللہ علیہ والہ) کے بارہ خلیفہ کون ہیں?

ایک معروف اور مستند حدیث میں جابر بن سمرہ نے نبی کریم (ص) سے یہ…

1 month ago

معرکہ کربلا اور یزید کا مکروہ کردار،مستند اسلامی کتب اور ائمہ اربعہ کی روشنی می

واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ دلخراش باب ہے جس نے حق اور باطل، اور…

1 month ago