معرکہ کربلا اور یزید کا مکروہ کردار،مستند اسلامی کتب اور ائمہ اربعہ کی روشنی می

واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا وہ دلخراش باب ہے جس نے حق اور باطل، اور اسلام و کفر کے درمیان ہمیشہ کے لیے ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ نواسۂ رسولؐ، جگر گوشہء فاطمہؑ، سید الشہداء امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں پر یزید اور اس کی ظالم فوج نے جو مظالم ڈھائے، وہ انسانیت کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ مسلم علماء، محدثین اور ائمہ نے اپنی تصانیف میں یزید کے ان گھناؤنے افعال اور فاسقانہ کردار کو کھل کر بے نقاب کیا ہے۔

یزید کا ہولناک اور ظالمانہ کردار:-
اہل تسنّن کی معروف کتاب ‘عرفانِ شریعت’ (جلد 2، صفحہ 21) میں یزید کے اس بھیانک اور سفاکانہ کردار کو انتہائی واشگاف الفاظ میں یوں بیان کیا ہے:

“یزید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کے ٹکڑے (امام حسینؑ) کو تین دن تک بھوکا پیاسہ رکھا اور پھر ان کو ان کے انصار و مددگاروں سمیت شہید کر دیا۔ اس پر بھی اس کا دل نہ بھرا، تو اس نے حکم دیا کہ امام عالی مقام کے جسدِ اطہر پر گھوڑے دوڑائے جائیں، جس کے نتیجے میں آپؑ کا مبارک جسم پامال کر دیا گیا (اور ہڈیاں تک ٹوٹ گئیں)۔ پھر اس سرِ مبارک کو نیزے پر بلند کیا گیا جسے خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیار کیا کرتے تھے اور چوما کرتے تھے۔ اس پاک سر کو جگہ جگہ نمائش کے لیے پھرایا گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک گھرانے کی مستورات اور اہل بیت کو قیدی بنا کر اس بدبخت یزید کے دربار میں پیش کیا گیا۔”

جو شخص اہل بیتِ رسول پر ڈھائے جانے والے ان لرزہ خیز مظالم کو دیکھنے اور پڑھنے کے بعد بھی یزید کے ان افعال کو گھناؤنا اور ظالمانہ نہیں سمجھتا، وہ حقیقت میں اندھا ہے اور ایسے ظالم کو ظالم نہ کہنے والے پر خدا کی پھٹکار ہے۔

اہل تسنّن کے ائمہ اربعہ اور علماء کے نزدیک یزید پر لعنت کا جواز:
کچھ ناصبی وہابی افراد یزید کے اس جرم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ملعون یزید امام حسین علیہ السلام کے قتل اور ان پر ہونے والے مظالم کا براہِ راست ذمہ دار اور راضی نہ ہوتا، تو امتِ مسلمہ کے جلیل القدر علماء اور بالخصوص اہل تسنّن کے چاروں بڑے ائمہ اس پر لعنت بھیجنے کا جواز فراہم نہ کرتے۔

۱۔ حنبلیوں کے امام احمد بن حنبل کا سخت مؤقف:
ائمہ اربعہ میں سے امام احمد بن حنبل یزید پر لعنت کے معاملے میں سب سے سخت اور واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کے بیٹے صالح بن احمد بن حنبل نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے پوچھا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم یزید سے محبت کرتے ہیں۔ اس پر امام احمد بن حنبل نے برہم ہو کر فرمایا:

“کیا کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور وہ یزید سے محبت کرے؟ اس پر لعنت کیوں نہ بھیجی جائے جسے اللہ نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں ملعون قرار دیا ہو!”

جب ان سے پوچھا گیا کہ قرآن میں یزید پر لعنت کہاں ہے؟ تو انہوں نے سورہ محمد کی آیات 22-23 تلاوت فرمائیں:

“فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ° أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ…”

(ترجمہ: “پس اگر تم حکومت پا جاؤ تو تم سے یہی توقع ہے کہ تم زمین میں فساد برپا کرو گے اور اپنے قریبی رشتے ناطے توڑ ڈالو گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔”)

امام احمد بن حنبل نے استدلال فرمایا کہ یزید نے حکومت پا کر مدینہ و مکہ میں فساد پھیلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کے ساتھ شدید ترین قطع رحمی (رشتہ توڑا) کی، اس لیے وہ قرآن کی رو سے اس لعنت کا حقدار ہے۔

۲۔ مالکی فقہ کے امام مالک بن انس اور حرمِ رسولؐ کی پامالی۔
امام مالک بن انس مدینہ منورہ کے امام ہیں اور وہ یزید کے مظالم سے شدید ترین رنجیدہ تھے۔ المیۂ کربلا کے بعد جب یزید کی فوج نے مدینہ منورہ پر حملہ کیا (واقعہ حرہ)، سینکڑوں صحابہ و تابعین کو شہید کیا، عورتوں کی حرمت پامال کی اور مسجدِ نبوی کی بے حرمتی کی، تو امام مالک کے نزدیک یزید کا کفر اور فسق بالکل ظاہر ہو گیا۔ امام مالک کے نزدیک ایسے شخص پر لعنت کرنا اور اظہارِ بیزاری کرنا بالکل جائز ہے جس نے حرمِ رسولؐ کو حلال جانا۔

۳۔ ابو حنیفہ، امام شافعی اور علمائے احناف کا مؤقف:
امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے مسلک کے کبار شارحین، فقہاء اور متکلمین نے یزید پر لعنت کو جائز قرار دیا ہے۔ حنفی مسلک کے مایہ ناز امام، علامہ تفتازانی (مصنف ‘شرح العقائد النسفیہ’ و ‘شرح المقاصد’) یزید کے بارے میں کھل کر لکھتے ہیں:

“سچی بات یہ ہے کہ یزید کا امام حسین علیہ السلام کے قتل پر راضی ہونا، اس پر خوشی منانا اور اہل بیتِ رسولؐ کی توہین کرنا ایسی باتیں ہیں جو معنیٰ کے لحاظ سے تواتر سے ثابت ہیں۔ اس لیے ہم یزید کے بارے میں کوئی توقف (خاموشی) نہیں کرتے، بلکہ اس کے کافر اور بے ایمان ہونے میں بھی شک نہیں کرتے۔ اللہ کی لعنت ہو اس پر، اس کے انصار پر اور اس کے مددگاروں پر۔”

۴۔ علامہ ابن جوزی (حنبلی) کی مستقل تصنیف:
اہل سنت کے مایہ ناز محدث اور فقیہ علامہ ابن جوزی نے تو اس موضوع پر باقاعدہ ایک مستقل کتاب تصنیف کی جس کا نام ہے: ‘الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم الیزید’ (یعنی یزید کی مذمت سے روکنے والے متعصب شخص کا منہ توڑ جواب)۔ اس کتاب میں انہوں نے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا کہ یزید پر نام لے کر لعنت کرنا نہ صرف جائز بلکہ حبِ اہل بیت کا تقاضہ ہے۔
۵۔ علامہ جلال الدین سیوطی کا مؤقف:
مشہور مفسر اور محدث امام جلال الدین سیوطی اپنی شہرہ آفاق کتاب ‘تاریخ الخلفاء’ میں یزید کا دورِ حکومت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“اللہ تعالی امام حسینؑ کو شہید کرنے والے پر، اس کا حکم دینے والے پر اور اسے جائز سمجھنے والے پر لعنت کرے۔” انہوں نے صراحت کی کہ یزید ہی اس قتل کا اصل محرک اور ذمہ دار تھا جس نے ابنِ زیاد کو اس جرم پر انعام سے نوازا۔

معتبر اسلامی کتب کے مآخذ و حوالہ جات
یزید کے کربلا سے پہلے اور کربلا کے بعد کے شرمناک کردار، واقعہ کربلا کی حقیقت اور اس پر علمائے امت کے سخت مؤقف کی تصدیق درج ذیل مستند اور مایہ ناز کتب سے ہوتی ہے:
1. تفسیر مظہری، جلد 5، صفحہ 21 (پارہ 13، سورہ ابراہیم) — قاضی ثناء اللہ پانی پتی
2. عقائدِ اسلام، صفحہ 232 — مولانا عبدالحق حقانی
3. امامِ پاک اور یزیدِ پلید، صفحہ 88 — علامہ شفیع اوکاڑوی/ علمائے اہل سنت
4. عقائدِ نسفی (شرح العقائد النسفیہ)، صفحہ 113 — علامہ سعد الدین تفتازانی
5. شرح المقاصد، جلد 2، صفحہ 309 — علامہ تفتازانی
6. نزول الابرار بما صح فی مناقب اھل البیت الاطھار، صفحہ 97 — علامہ میرزا محمد بدخشی
7. عرفانِ شریعت، جلد 2، صفحہ 21 — مولانا امجد علی اعظمی/ علمائے فتاویٰ
8. الفتاویٰ، صفحہ 79 — مولانا عبدالحئی لکھنوی
9. شہیدِ کربلا، صفحہ 11-12 — مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی

حاصلِ کلام:
(یزید کا کردار: کربلا سے پہلے اور بعد)
کربلا سے پہلے اور کربلا کے بعد، یزید ملعون کا پورا اقتدارِ حکومت ہوس پرستی، ظلم و بربریت، شریعت کی پامالی اور شعائرِ اسلام کی توہین سے بھرا ہوا ہے۔ اس نے اپنے اقتدار کے تین سالوں میں پہلے سال امام حسینؑ کو شہید کروایا، دوسرے سال مدینہ منورہ پر حملہ کر کے واقعۂ حرہ برپا کیا، اور تیسرے سال خانہ کعبہ پر سنگباری کروائی۔ مختصر یہ کہ اس نے اسلام کے تمام شعار کی توہین کی اور ان کو مٹا دینے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی مسلمان اس ملعون کے کفر پر شک کرے یا اس پر لعنت کرنے سے گریز کرے یا اس پر لعنت کرنے کو برا سمجھے تو وہ خود بلا شبہ لعنتی ہے

Short URL : https://saqlain.org/a3uy